بیت لحم – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) بیت لحم کے جنوب مشرق میں واقع قصبے تقوع پر آج منگل کے روز انتہا پسند صہیونی آباد کاروں کے حملے کے نتیجے میں تین شہری زخمی ہو گئے، اس حملے کے دوران شہریوں پر براہ راست تشدد کیا گیا اور ان کی املاک چوری کرنے کی کوشش کی گئی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ آباد کاروں نے قصبے کے مشرقی علاقے المطل میں شہریوں پر حملہ کیا اور ان کی بھیڑ بکریاں چھیننے کی کوشش کی۔ اس دوران آباد کاروں نے فلسطینیوں پر کالی مرچ کے اسپرے (پیپر گیس) کا استعمال کیا جس سے تین شہری متاثر ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے قصبے کے شفا خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ حملہ بیت لحم گورنری میں آباد کاروں اور قابض اسرائیلی افواج کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تسلسل میں سامنے آیا ہے، جہاں گذشتہ چند دنوں کے دوران خلايل اللوز سمیت کئی علاقوں میں اسی طرح کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ المحافظہ کے جنوب میں واقع گاؤں مراح معلا میں زمینوں کی بلڈوزنگ اور وہاں پورٹیبل گھر (خیمے) نصب کرنے کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
اسی تناظر میں دیوار و بستی کاری مخالف کمیشن نے گذشتہ مارچ سنہ 2026ء کے چند ہفتوں کے دوران الخلیل گورنری میں 99 حملوں کی نشاندہی کی ہے۔
فیلڈ ڈیٹا کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارہ کے قصبوں اور دیہاتوں میں اسرائیلی خلاف ورزیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں 27 مارچ سے 2 اپریل سنہ 2026ء کے درمیانی عرصے میں حملوں کی تعداد 1385 تک پہنچ گئی۔
مرکز معلومات فلسطین معطی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیلی افواج نے مقبوضہ مغربی کنارہ کے مختلف علاقوں میں 348 بار دھاوا بولا، جس کے دوران شہریوں کے گھروں پر 229 چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی، جبکہ گھروں اور املاک کو مسمار و تباہ کرنے کی 55 کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں۔