مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کی پالیسی، شہر کا جغرافیائی اور آبادیاتی توازن تبدیل کرنے کے لیے قابض اسرائیل کے منصوبوں کا بنیادی ستون ہے۔ سال 2025ء کے دوران قابض بلدیہ نے تقریباً 1,657 دونم اراضی پر 7,200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے 32 تعمیراتی منصوبوں کی منظوری دی۔
قابض اسرائیل بیت المقدس اور اس کے مابعد علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بتدریج توسیع کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ سنہ 2014ء سے 2025ء کے دوران قابض حکام کی جانب سے منظور کردہ یہودی بستیوں کے منصوبوں کی کل تعداد 131,545 نئے یونٹس تک پہنچ چکی ہے، جو فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر یہودی موجودگی کو گہرا کرنے کی انتھک کوشش ہے۔
خان الاحمر میں بے دخلی کی تلوار
’ای ون‘ (E1) یہودی آبادکاری کا منصوبہ برسوں پرانا ہے، جو مغربی کنارے کو ٹکڑوں میں بانٹنے اور ’معالیہ ادومیم‘ بستی کو مقبوضہ بیت المقدس سے جوڑنے کے لیے قابض اسرائیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سنہ 2025ء میں قابض حکام نے 4,000 سے زائد نئے یونٹس کی تعمیر کی منظوری دی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے تقریباً 3 ارب شیکل (تقریباً 1 ارب امریکی ڈالر) مختص کیے، تاکہ مزید ہزاروں یونٹس کی تعمیر کی راہ ہموار کی جا سکے۔
یہ منصوبے ’خان الاحمر‘ آبادی کو جبری طور پر بے دخل کرنے کی کوششوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ’ریگاویو‘ نامی انتہا پسند تنظیم نے 1/9/2025 کو سپریم کورٹ میں اس بستی کو مسمار کرنے کی درخواست دی تاکہ ’ای ون‘ منصوبے کی تکمیل ہو سکے۔ یہ منصوبہ ’وادی الجمل‘ اور ’جبل البابا‘ جیسی بدو بستیوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی دھمکی دیتا ہے۔ قابض وزیراعظم نے بھی یہودی آباد کاری کو فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ختم کرنے کے لیے براہِ راست منسلک کیا ہے۔
19/5/2026 کو قابض حکومت کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے ’خان الاحمر‘ کو فوری خالی کرنے کا حکم دیا۔ سموٹریچ نے دھمکی دی کہ یہ تو صرف شروعات ہے۔ عالمی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ فی الحال التوا کا شکار ہے لیکن قابض حکومت مسلسل اسے دوبارہ ایجنڈے پر لا رہی ہے۔
شیخ جراح میں یہودی بستی کا قیام
قابض حکام نے اپریل گزشتہ میں ’اور سوما یاخ‘ نامی یہودی بستی کے منصوبے کی منظوری دی، جس کا مقصد شیخ جراح کے جنوبی داخلی دروازے پر 5 ڈونم رقبے پر ایک انتہا پسند دینی مدرسہ ’یشیوا‘ قائم کرنا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد صرف تعلیم نہیں بلکہ 11 منزلہ ایک رہائشی عمارت بنانا ہے جس میں سینکڑوں طلباء اور اساتذہ کے لیے رہائش ہو گی، تاکہ فلسطینی آبادی کے قلب میں یہودی ڈیموگرافک وزن ڈالا جا سکے۔ یہ منصوبہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی ربط کو کاٹنے کے لیے ایک جغرافیائی سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جس سے مقامی فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگا۔
’آدم‘ بستی کے لیے نیا توسیعی منصوبہ
سنہ 2026ء کے آغاز میں بڑے یہودی آباد کاری کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ فروری کے اوائل میں قابض وزارت رہائش نے ’آدم‘ بستی کی توسیع کے لیے 2,780 یونٹس کی تعمیر کا اعلان کیا۔ اس منصوبے میں نئی سڑکیں، عوامی باغات، تفریحی مراکز اور کھیلوں کی سہولیات شامل ہیں۔ منصوبے کی کل لاگت تقریباً 120 ملین شیکل (40 ملین امریکی ڈالر) ہے۔
اونروا (UNRWA) کا ہیڈ کوارٹر فوجی بیرکوں میں تبدیل
قابض اسرائیل نے صرف امدادی ایجنسی ’اونروا‘ پر پابندی ہی نہیں لگائی بلکہ 2026ء کے آغاز میں شیخ جراح میں واقع اس کے ہیڈ کوارٹر کے کچھ حصے مسمار کر دیے۔ انتہا پسند وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے خود انہدام کی نگرانی کی اور وہاں قابض ریاست کا جھنڈا لہرایا۔
17/5/2026 کو وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس جگہ پر قابض فوج کا ایک کمپلیکس، وزارت دفاع کا دفتر، بھرتی کا دفتر اور ایک عجائب گھر بنانے کے منصوبے کی منظوری دی۔ یہ 36 ڈونم اراضی بغیر کسی ٹینڈر کے فوج کو دے دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ مقبوضہ بیت المقدس کو عسکری رنگ دینے کی ایک واضح کوشش ہے۔
باب السلسلہ پر قبضہ
گزشتہ مہینوں میں سب سے اہم فیصلوں میں سے ایک 17/5/2026 کو قابض حکومت کی طرف سے ایک بڑے توسیعی منصوبے کی منظوری ہے۔ اس کا مقصد ’باب السلسلہ‘ کے تاریخی راستے پر فلسطینی املاک اور اراضی پر قبضہ کرنا اور آباد مکانات کو خالی کرانا ہے۔ یہ راستہ مسجد اقصیٰ اور دیوارِ براق کے درمیان براہِ راست ربط کا واحد ذریعہ ہے۔
یہ منصوبہ 2025ء میں دی گئی ایک سفارش پر مبنی ہے، تاکہ 1968ء کے پرانے ضبطی احکامات جنہیں ’عوامی مفاد‘ کے بہانے جاری کیا گیا تھا، انہیں دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 15 سے 20 فلسطینی املاک کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کا دائرہ کار 50 عمارتوں تک پھیلنے کا خدشہ ہے، جن میں فلسطینی خاندانوں کے گھر، دکانیں اور ایوبی، مملوکی اور عثمانی دور کی تاریخی اسلامی اوقاف شامل ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد ’یہودی کوارٹر‘ کا دائرہ کار 133 ڈونم تک بڑھانا ہے تاکہ مقبوضہ بیت المقدس کے قلب سے عرب اور اسلامی نشانات کو مٹا کر مکمل یہودی کنٹرول مسلط کیا جا سکے۔