مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں واقع قصبے العیزریہ کے مشرقی حصے میں ایک بڑے تجارتی علاقے کو مسمار کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ خطرناک قدم ہائی وے ای ون (E1) کے پورے علاقے کو فلسطینیوں کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کی جانب ایک پیش رفت ہے، جو کہ مغربی کنارے کے شمالی اور وسطی حصوں کو جنوبی حصوں سے ملانے والا بنیادی محور ہے۔
استیطانی تجاوزات پر نظر رکھنے والی تنظیم امن کونسل کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ بدھ کو قابض اسرائیلی سرحدی پولیس کی بھاری نفری العیزریہ کے مشرقی داخلی راستے پر واقع تجارتی دکانوں اور گاڑیوں کی مرمت کے ورکشاپس کے کمپلیکس پر دھاوا بولتے ہوئے پہنچی۔ قابض اہلکاروں نے وہاں کے مالکان کو مطلع کیا کہ قابض حکام اتوار کے روز یعنی آج ان تمام املاک کو مسمار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لہٰذا انہیں فوری طور پر خالی کر دیا جائے۔
امن کونسل نے واضح کیا ہے کہ ان مسماریوں کے پیچھے اصل خوفناک صہیونی منصوبہ العیزریہ اور الزعیم کے درمیان ایک نئی شاہراہ کی تعمیر کا آغاز کرنا ہے۔ اس کا مقصد فلسطینیوں کی آمد و رفت کو معالیہ ادومیم بستی سے دور منتقل کرنا اور ای ون (E1) کے پورے علاقے کو فلسطینیوں کے لیے مکمل طور پر ممنوعہ قرار دینا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نشانہ بنائی گئی تمام عمارتیں اس مجوزہ سڑک کے راستے میں واقع ہیں، جس سے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ مسماری کا یہ عمل محض سڑک کی تعمیر کے لیے زمین ہموار کرنے کی ایک تمہید ہے۔
تنظیم نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ اگست سنہ 2025ء میں قابض فوج کے نام نہاد سول ایڈمنسٹریشن نے العیزریہ میں درجنوں مسماری کے احکامات جاری کیے تھے، جن میں مشرقی داخلی راستے پر واقع دکانیں اور شمالی علاقوں کی دیگر عمارتیں شامل تھیں۔ ان مسماریوں کا بہانہ بغیر اجازت تعمیرات کو بنایا گیا تھا۔
امن کونسل کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات قابض اسرائیل کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد ای ون (E1) کے علاقے میں یہودی بستیوں کو مستحکم کرنا ہے۔ یہ قدم دو ریاستی حل کے کسی بھی امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا اور فلسطینی معیشت و مستقبل کی ریاست کی تعمیر کی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔
تنظیم نے مزید انکشاف کیا کہ اس سڑک کا تفصیلی نقشہ عوام کے لیے شائع نہیں کیا گیا کیونکہ اس منصوبے کو سکیورٹی روڈ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ اس کا ایک حصہ زون بی (B) سے گزرتا ہے جہاں قابض اسرائیل کو منصوبہ بندی کے قانونی اختیارات حاصل نہیں ہیں۔
امن کونسل کے مطابق صہیونی حکومت اس سکیورٹی درجہ بندی کو قانونی پابندیوں سے بچنے اور ان زمینوں پر زبردستی سڑک تعمیر کرنے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے جو دستخط شدہ معاہدوں کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔
ای ون (E1) منصوبے کا اصل ہدف مقبوضہ بیت المقدس کو اس کے فلسطینی گرد و نواح سے کاٹ کر تنہا کرنا، شہر اور فلسطینی آبادیوں کے درمیان جغرافیائی و آبادیاتی رابطے کو ختم کرنا اور مقبوضہ بیت المقدس کے دارالخلافہ کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کا مقصد مغربی کنارے کے شمال کو جنوب سے الگ کر کے انہیں ایسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے جن کی آمد و رفت پر قابض اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہو۔