مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی غاصب فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع بلدہ بیت حنینا التحتا میں سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مکان کو مسمار کر دیا جس کے نتیجے میں وہاں رہائش پذیر مظلوم فلسطینی خاندان کے افراد کھلے آسمان تلے بے گھر ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ غاصب صہیونی دشمن کی افواج نے اپنی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھاری مشینری کے ہمراہ علاقے پر دھاوا بولا اور نہتے شہری محمود ملیحات کے مکان کو مسمار کرنا شروع کر دیا جس کا رقبہ تقریباً 100 مربع میٹر تھا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اس مکان میں ملیحات خاندان کے 10 افراد رہائش پذیر تھے جن میں ایک معذور شخص بھی شامل ہے اور یہ تمام افراد غاصب ریاست کی اس مسماری کی سفاکانہ کارروائی کے بعد بے یار و مددگار ہو گئے ہیں۔
مسماری کی یہ ظالمانہ کارروائی اس نسل کش اور غاصبانہ پالیسی کا حصہ ہے جو قابض حکام کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے مکانات کے خلاف بغیر اجازت نامہ تعمیر کرنے کے جھوٹے بہانے سے نافذ کی جا رہی ہے تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے مذموم مقاصد کو پورا کیا جا سکے۔
انسانی حقوق کے اداروں کا اس بات پر زور ہے کہ قابض حکام کی جانب سے فلسطینیوں کو تعمیراتی اجازت نامے جاری کرنے پر عائد سخت پابندیاں ان کا حصول انتہائی مشکل بنا دیتی ہیں جبکہ مسماری کے احکامات کو فلسطینی آبادی پر دباؤ ڈالنے اور انہیں اپنی آبائی زمینوں اور رہائشی علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ایک ظالمانہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ فلسطینیوں کے نصب العین کو دبایا جا سکے۔