رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے رام اللہ کے شمال میں واقع گاؤں جلجلیہ میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسجد کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ تحریک نے قرار دیا ہے کہ یہ جرم دریائے اردن کے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک پر مسلسل حملوں کے ساتھ مل کر ایک خطرناک پیش رفت اور منظم دہشت گردی ہے جس کا ہدف فلسطینی عوام، ان کی زمین اور ان کے مقدسات ہیں۔
حماس نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہا کہ مسجد کو جلانا اس انتہا پسندی اور نفرت کی سطح کی عکاسی کرتا ہے جو یہودی آباد کاروں کے گروہوں کے رویے پر حاوی ہے۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ ان حملوں کا جواب فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کی جانب سے مزید استقامت اور بھرپور مقابلے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
’حماس‘ نے اس جرم کو مسجد اقصیٰ میں جاری دھاووں اور دریائے اردن کے مغربی کنارے بھر میں فلسطینی دیہاتوں اور شہریوں کی املاک پر بار بار ہونے والے حملوں کے ساتھ جوڑا ہے۔
جماعت نے تصدیق کی کہ یہ خلاف ورزیاں قابض اسرائیل کے ان منصوبوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں، ان کی زمین اور ان کے مقدسات کو بیک وقت نشانہ بنانا ہے۔ حماس نے قرار دیا کہ آباد کاری، زمینوں پر قبضے اور نقل مکانی کی پالیسیاں فلسطینیوں کی اپنے حقوق سے وابستگی اور اپنی زمین پر ڈٹے رہنے کے عزم کے سامنے ناکام ہو جائیں گی۔
حماس ے اس بات پر زور دیا کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں مزاحمت قابض فوج اور یہودی آباد کاروں کے حملوں کا مقابلہ جاری رکھے گی اور فلسطینیوں کے خلاف ان کے جرائم کا پیچھا کرے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض حکام کی جانب سے اختیار کردہ جبر اور دہشت گردی کے اقدامات فلسطینی عوام کے حوصلوں کو توڑنے یا انہیں ان کی زمین سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب نہیں ہوں گے، بلکہ یہ انہیں اپنے قومی حقوق سے وابستگی اور اپنے مقدسات کے دفاع کے لیے مزید عزم فراہم کریں گے۔
’حماس‘ نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے مختلف اضلاع میں بسنے والے فلسطینیوں سے اپیل کی کہ وہ مزاحمت کے تمام طریقوں کو تیز کریں، یہودی آباد کاروں کے حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور ہدف بننے والے دیہاتوں اور قصبوں میں عوامی تحفظ کی کمیٹیوں کو مضبوط بنائیں۔
تحریک نے عالمی برادری اور دنیا کے آزاد ضمیر انسانوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں جاری صورتحال کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، یہودی آباد کاروں کے حملوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں اور فلسطینی عوام کے خلاف مسلسل خلاف ورزیوں پر قابض رہنماؤں کا محاسبہ کریں۔