اٹلی – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں جاری غاصب صہیونی دشمن کی اندھی نسل کشی کے خلاف اور محصورین کی داد رسی کے لیے روانہ ہونے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ساتھ والہانہ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے پیر کے روز اٹلی میں ایک تاریخی اور بھرپور عام ہڑتال کی گئی جس کے نتیجے میں مواصلات، تعلیم اور لاجسٹک سروسز کے شعبے مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے۔ یہ ہڑتال مزدور تنظیموں کی جانب سے ہتھیاروں کی دوڑ، معصوم فلسطینیوں کے قتلِ عام اور غزہ کی پٹی کا جابرانہ محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے بحری بیڑے پر غاصب دشمن کے حملے کے خلاف کی گئی۔
اس احتجاجی ہڑتال کے دوران اٹلی کے متعدد بڑے شہروں میں "سب کچھ روک دو” کے ایمان افروز نعرے کے تحت عظیم الشان مظاہرے کیے گئے، جن کی کال مزدور یونینوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے دی تھی۔ مظاہرین نے جہاں روزمرہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، عسکری پالیسیوں، اور صحت و تعلیم کی قیمت پر جنگی بجٹ میں اضافے کے خلاف شدید نعرے بازی کی، وہیں انہوں نے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی فوری بندش اور امدادی بیڑے کی بحفاظت منزل تک رسائی کے حق میں آواز بلند کی۔
دارالحکومت روم میں صبح سویرے ہی مظاہرین نے ایک بڑے مرکزی چوک میں جمع ہو کر احتجاج شروع کیا، جہاں ان کے ہاتھوں میں ایسے بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر اطالوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ قابض اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی اس ہولناک نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم میں برابر کی شریک بننے سے باز رہے۔
مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم تھام رکھے تھے اور وہ فضا کو "فلسطین آزاد ہوگا” کے جذباتی نعروں سے گونجا رہے تھے، جس کا مقصد گلوبل صمود فلوٹیلا پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بحری قزاقی پر اپنے گہرے غم و غصے کا اظہار کرنا تھا۔
اس ہڑتال کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو گیا، روم میں زیرِ زمین چلنے والی میٹرو کی لائن "سی” اور نیپولی شہر کی لائن ون مکمل طور پر بند رہی، جبکہ میلان میں مضافاتی ٹرینوں کی آمد و رفت منقطع ہو کر رہ گئی، اور لیورنو شہر کے بندرگاہی مزدوروں نے بھی کام چھوڑ کر غاصب صہیونی دشمن کے خلاف دھرنا دیا۔
روم کے مظاہرے میں فلسطینی نژاد ہسپانوی سماجی کارکن سیف ابو کشک نے بھی خصوصی شرکت کی، جو ان جانثاروں میں شامل تھے جنہیں قابض اسرائیل کی وحشی افواج نے گذشتہ 29 اپریل کو بین الاقوامی پانیوں میں، جزیرہ کریٹ کے قریب اس وقت اغوا کر لیا تھا جب فلوٹیلا پر وحشیانہ حملہ کیا گیا تھا۔
سیف ابو کشک نے نیوز ایجنسی "اناڈولو” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ گذشتہ حملے کے دوران ہمارے کچھ بحری جہازوں کو غاصب دشمن نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، لیکن ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے اور باقی بچ جانے والے شرکاء اب بھی غزہ کی پٹی کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ پورے یورپ کے چوک چوراہوں پر اس کارواں کی حمایت میں مظاہرے پھوٹ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں امدادی بحری بیڑے پر قابض اسرائیل کا یہ حملہ بین الاقوامی قوانین اور سمندری ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو کہ غزہ کی پٹی کے نہتے عوام کے خلاف جاری مسلسل سفاکیت کا ایک نیا باب ہے۔
انہوں نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ غاصب دشمن کی یہ بزدلانہ کارروائیاں مغربی حکومتوں بشمول اطالوی حکومت کی مجرمانہ خاموشی اور ملی بھگت کا نتیجہ ہیں، جو اب بھی اپنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے غاصب دشمن کے ساتھ اسلحے کی تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس گٹھ جوڑ کو توڑنے اور غزہ کی پٹی پر جنگ بندی کے لیے دباؤ برقرار رکھیں۔
سیف ابو کشک نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمندر میں اترتے وقت تمام شرکاء اس راہ میں آنے والے خطرات سے بخوبی واقف تھے، لیکن ان کے جذبے اب بھی ہمالیہ سے زیادہ بلند ہیں، اور ان میں سے ایک بڑی تعداد نے مظلوم فلسطین کا محاصرہ توڑنے کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اس کاروان میں شمولیت اختیار کی ہے۔
دوسری طرف ایک اطالوی شہری اینڈریا تسیکارو نے ہڑتال میں شرکت کے دوران کہا کہ وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کی تائید اور اپنی حکومت کی اندھی عسکری پالیسیوں کو مسترد کرنے کے لیے سڑکوں پر آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امدادی بیڑے پر قابض اسرائیل کا حالیہ حملہ ایک انتہائی ہولناک اور خطرناک پیش رفت ہے، اور ان کی اپنی حکومت صحت و تعلیم جیسے بنیادی انسانی شعبوں کو نظرانداز کر کے اس جنگی معیشت کے فروغ میں لگی ہوئی ہے۔
ایک خاتون مظاہرین نتالیا مانشینی نے اس واقعے پر اپنے شدید ردِعمل میں کہا کہ اس پرامن امدادی بیڑے کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ پوری انسانیت کی تذلیل ہے، اور یہ بار بار ہونے والے واقعات مغربی دنیا کے نام نہاد جمہوری راگ کے بھیانک تضاد کو دنیا کے سامنے بالکل ننگا کر دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل کی بحریہ نے پیر کے روز بین الاقوامی پانیوں میں بحیرہ روم کے اندر غزہ کی پٹی کا جابرانہ محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے بحری جہازوں پر دھاوا بول کر انہیں زبردستی قبضے میں لینا شروع کر دیا تھا اور ان پر سوار نہتے انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا۔
یہ گلوبل فلوٹیلا 54 بحری جہازوں کے ساتھ جمعرات کے روز ترکیہ کے شہر مرمریس سے روانہ ہوا تھا تاکہ سنہ 2007ء سے غزہ کی پٹی پر مسلط قابض اسرائیل کے غیر انسانی محاصرے کی دیواروں کو پاش پاش کیا جا سکے۔
گذشتہ 29 اپریل کو بھی قابض اسرائیل کی فوج نے جزیرہ کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اس فلوٹیلا پر ایک بزدلانہ حملہ کیا تھا، جس میں 39 ممالک کے 345 انسانی حقوق کے مہم جو شامل تھے، جن میں ترک شہری بھی موجود تھے۔
اس وقت غاصب صہیونی فورسز نے 21 بحری جہازوں اور ان پر سوار 175 کے قریب کارکنوں کو یرغمال بنا لیا تھا، جبکہ باقی بچ جانے والے جہازوں نے تمام تر خطرات کے باوجود یونان کے سمندری حدود کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔