غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی تنظیموں کی رجسٹریشن کے نام نہاد قانون کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو قابض اسرائیل کی سپریم کورٹ کی طرف سے مسترد کیا جانا اس بات کا ایک نیا اور کھلا ثبوت ہے کہ غاصب صہیونی عدالتی نظام بین الاقوامی اور انسانی ہمدردی کے اداروں کے کام کو محدود کرنے میں مکمل طور پر ملوث ہے۔
حماس نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اس ظالمانہ قانون کو نافذ کرنے کی اجازت دینا اور اسے ایک حتمی حقیقت کے طور پر مسلط کرنا محصور غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلے سے ابتر انسانی صورتحال کو مزید تباہ کن بنا دے گا، خاص طور پر ان انتہائی کٹھن اور ہولناک حالات میں جن کا مظلوم فلسطینی عوام سامنا کر رہے ہیں۔
حماس نے امدادی اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے کام پر اس وحشیانہ اقدام کے تباہ کن اثرات سے خبردار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس سے مظلوم فلسطینیوں کی تکالیف میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی اداروں کی اپنی انسانی خدمات اور پروگرام فراہم کرنے کی صلاحیت بری طرح محدود ہو کر رہ جائے گی۔
تحریک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کالے قانون کو مسترد کرنے والے بین الاقوامی موقف کو، جو بیس سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے مشترکہ اعلامیے کی صورت میں سامنے آیا ہے، محض سیاسی مذمت کی حد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے زمین پر عملی اور ٹھوس اقدامات میں تبدیل ہونا چاہیے۔
حماس نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کی حکومت پر اس ظالمانہ قانون کے نفاذ کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر فوری حرکت میں آئے اور انسانی اور امدادی تنظیموں کے کام کی آزادی کو یقینی بنائے، تاکہ وہ مظلوم فلسطینیوں کو کسی بھی قسم کی پابندیوں کے بغیر ریلیف اور بحالی کے پروگراموں پر عمل درآمد اور امداد کی فراہمی کے قابل ہو سکیں۔
حماس نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ فلسطینی سرزمین میں انسانی ہمدردی کی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے سازگار حالات کی فراہمی انتہائی ناگزیر ہے، خاص طور پر ان بڑھتے ہوئے خطرات اور چیلنجز کے سائے میں جن کا اس میدان میں کام کرنے والے اداروں کو غاصب دشمن کی سفاکیت کی وجہ سے سامنا ہے۔