وادیِ اردن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شمالی وادیِ اردن میں استعماری توسیع کے منصوبے تیز رفتار انداز میں جاری ہیں جہاں قابض اسرائیل کی طرف سے ’أم العبر‘ کے علاقے میں ’بيتيرون‘ کے نام سے ایک نئی بستی قائم کرنے پر کام شروع کر دیا گیا ہے جبکہ آنے والے عرصے میں وہاں آبادکاری کے لیے تقریباً بیس خاندانوں کو لانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ ایک ایسی ہمہ گیر استعماری پالیسی کا حصہ ہے جو خطے میں فلسطینی وجود اور بدو بستیوں کو جغرافیائی اور ڈیموگرافک صفایا کے انتہائی خطرناک مراحل میں سے ایک کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جبکہ اس دوران حملوں میں تیزی، زمینوں کے انضمام اور روزگار کے ذرائع پر منظم انداز میں قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔
ماہرین اور انسانی حقوق کے ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ اس منصوبے میں زمین کو ہموار کرنے اور استعماری سڑکیں بچھاانے کے کاموں کو تیز کر کے زمین پر نئے حقائق مسلط کرنے کی شدید خواہش پوشیدہ ہے۔
متعلقہ اداروں کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ طوباس گورنری جس کا کل رقبہ چار لاکھ دونم سے زیادہ ہے اب استعماری پھیلاؤ اور پے در پے صادر ہونے والے فوجی احکامات کی وجہ سے اپنے نصف رقبے پر بتدریج کنٹرول کھونے کے خطرے سے دوچار ہے جہاں شمالی وادیِ اردن اس خطرے کا سب سے بڑا حصہ بنتی ہے جو گورنری کے کل رقبے میں سے دو لاکھ چالیس ہزار دونم تک کے رقبے پر محیط ہے۔
اسی تناظر میں انسانی حقوق کے مراکز کی طرف سے سامنے آنے والی زمینی گواہیاں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ماہِ اپریل سنہ 2026ء کے آغاز سے لے کر اب تک ’سهل البقيعہ‘، ’قاعون‘، ’بزيق‘، ’الفارسيہ‘، ’سلحب‘ اور ’العطوف‘ کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر زمین ہموار کرنے کے کام نہیں رُکے ہیں۔
یہ پیش رفت سنہ 2025ء کے اواخر کے ان فوجی احکامات پر عمل درآمد کے طور پر سامنے آ رہی ہے جن کا مقصد شمالی وادیِ اردن میں قائم استعماری چوکیوں کو مقبوضہ مغربی کنارے کے اندرونی حصوں سے جوڑنا ہے اور یہ چیز خطے کے اسٹریٹجک وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے ایک خطرناک راستے کی عکاسی کرتی ہے۔
اس معرکے کی انتہائی اہمیت اس بات میں پنہاں ہے کہ خطرہ مول لینے والا یہ علاقہ نہ صرف ایک حیاتاتی جغرافیائی پھیلو تک محدود ہے بلکہ یہ تاریخی فلسطین کے سب سے اہم زیرِ زمین آبی بیسن میں سے ایک کے اوپر واقع ہے اور اپنی غیر معمولی زرخیز مٹی کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
نتیجتاً موجودہ کوششیں عسکری کنٹرول کی حدوں سے تجاوز کر کے حیاتاتی وسائل اور فلسطینیوں کی بقا کے مستقبل پر غلبے کا معرکہ بن چکی ہیں جو کسی بھی ایسے فلسطینی تشخص کو ابھرنے سے روکتی ہیں جو جغرافیائی طور پر آپس میں جڑا ہوا اور زندہ رہنے کے قابل ہو۔
ان وجودی خطرات کے سامنے ماہرین اس اندیشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ عالمی خاموشی کا جاری رہنا ڈیموگرافک تنازع کو یہودی آباد کاروں کے حق میں طے کرنے کے لیے دروازے کھول دے گا۔
اسی کے ساتھ ساتھ سرکاری اور عوامی اداروں سے یہ پرزور مطالبات بھی سامنے آئے ہیں کہ ایک جامع قومی ہنگامی منصوبہ شروع کیا جائے جو کسانوں کو ان کی زمین پر ثابت قدم رکھے اور انہدام اور جبری بے دخلی کے بلڈوزروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری مادی اور قانونی مدد فراہم کرتے ہوئے میدان میں فلسطینی حق کو پکا کرے۔