مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ایک ایسے منظر نامے میں جو مقبوضہ مغربی کنارے کے حوالے سے قابض اسرائیل کی استعماری پالیسی کے مجموعی رخ کو واضح کرتا ہے، قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے الخلیل کے جنوب میں ایک پہاڑی پر یہودی آباد کاروں کے ایک ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر ایک ایسے بین الاقوامی معاہدے کے "خاتمے” کا اعلان کیا جو تقریباً تین دہائیوں پر محیط تھا۔ تجزیہ کاروں اور فلسطینی حکام کے نزدیک یہ اقدام الخلیل کی منصوبہ بند یہودی کاری کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کا اشارہ ہے۔
یہ اعلان الخلیل کے جنوب میں ایک نئی بستی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے دوران ہوا، جس میں قابض اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز بھی موجود تھا۔ اس موقع پر بزلئیل سموٹریچ نے الخلیل کی فلسطینی بلدیہ سے منصوبہ بندی اور تعمیرات کے مکمل اختیارات چھین کر انہیں قابض حکام کے حوالے کرنے کا اعلان کیا، جسے اس نے سنہ 1997ء میں طے شدہ ‘معاہدہ الخلیل’ کا عملی خاتمہ قرار دیا۔
نازک توازن پر مبنی معاہدہ
سنہ 1997ء میں سترہ جنوری کو طے پانے والا معاہدہ الخلیل شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے: "الخلیل 1” کا علاقہ جو فلسطینی کنٹرول میں ہے اور اس میں شہر کا اسی فیصد رقبہ اور اکثریت آبادی شامل ہے۔ دوسرا حصہ "الخلیل 2” ہے جو قابض اسرائیل کے براہ راست کنٹرول میں ہے، جس میں شہر کے جنوب اور مشرق کے وسیع حصے شامل ہیں، جن میں قدیم تاریخی بلدیہ اور حرم ابراہیمی سرِفہرست ہیں۔
یہ معاہدہ گذشتہ کئی دہائیوں سے ایک قانونی اور سیاسی ستون کی حیثیت رکھتا تھا، جس نے شہر میں فلسطینی اتھارٹی اور قابض حکام کے درمیان تعلقات کو ایک فریم ورک دیا تھا۔ اگرچہ قدیم بلدیہ کے وسط میں ہزاروں فلسطینی باشندوں کے درمیان سینکڑوں یہودی آباد کاروں کی موجودگی کی وجہ سے یہاں ہمیشہ کشیدگی برقرار رہی۔
سفارتی تردید جو کسی کو قائل نہ کر سکی
قابض اسرائیل کی وزارت خارجہ نے بیانات کی شدت کو کم کرنے کی فوری کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ معاہدہ الخلیل کو باضابطہ طور پر منسوخ نہیں کیا گیا ہے، اور یہ کہ سکیورٹی کابینہ نے جو منظوری دی ہے وہ صرف یہودی آبادی سے متعلق تعمیرات اور منصوبہ بندی کے اختیارات میں ترمیم ہے۔
تاہم یہ تردید خود اسرائیلی حکام کے اعلانیہ بیانات سے متصادم نظر آئی کیونکہ نیسٹ میں مغربی کنارے کی کمیٹی کے سربراہ زوی سوکوٹ نے واضح طور پر تصدیق کی کہ اب اسرائیل ہی فلسطینی اتھارٹی کے بغیر تعمیراتی منصوبوں کی منظوری دینے کا مجاز ادارہ ہے، انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ اقدام رسمی تشریحات سے قطع نظر، معاہدے کو عملی طور پر ختم کر دیتا ہے۔
یہ قدم ایک وسیع تناظر میں اپنی اہمیت رکھتا ہے؛ کیونکہ فلسطینی دیوار اور بستیوں کے خلاف مزاحمتی کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ بنجمن نیتن یاھو کی حکومت نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک تقریباً ساڑھے تین برسوں میں مغربی کنارے میں کم از کم 103 نئے بستیوں کے مقامات قائم کیے ہیں، جن میں نئی بستیاں، غیر قانونی چوکیوں کو قانونی حیثیت دینا اور خود مختار محلے شامل ہیں۔
فلسطینی مذمت
فلسطینی سطح پر ردعمل یکساں طور پر مسترد کرنے والا اور مختلف سطحوں پر محیط تھا۔ فلسطینی صدارت نے یک طرفہ اسرائیلی اقدامات کی خطرناک نوعیت کے بارے میں خبردار کیا جو منطور شدہ معاہدوں کو پامال کرتے ہیں۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس "دو ریاستی حل” کو منظم طریقے سے تباہ کرنے والے اقدامات کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے۔
میدانی سطح پر الخلیل کے گورنر خالد دودین نے اس فیصلے کو "دہشت گردی” قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ شہر ایک مقبوضہ علاقہ ہے جو کسی بھی اسرائیلی حکومت کے فیصلوں کے تابع نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حرم ابراہیمی اور قدیم بلدیہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بطور فلسطینی مقامات درج ہیں، انہوں نے ان مقامات میں فلسطینی موجودگی کو بڑھانے اور عالمی برادری سے اپنی خاموشی توڑنے کا مطالبہ کیا۔
ادھر وزیر اوقاف و مذہبی امور محمد نجم نے کہا کہ الخلیل کو نشانہ بنانا ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد اس کی مذہبی اور قومی حیثیت کو بیک وقت ختم کرنا ہے۔ انہوں نے حرم ابراہیمی کو ایک اسلامی وقف اور فلسطینی شناخت کا اٹوٹ حصہ مانتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے سرکاری اور عوامی سطح پر کوششوں کو متحد کرنے پر زور دیا۔
حماس اور جہاد اسلامی: اشتعال انگیزی کے خلاف کال
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور جہاد اسلامی نے اسرائیلی اقدام کے مضمرات کے بارے میں مشترکہ انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الخلیل تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے مغربی کنارے کو ہڑپ کرنے کی پالیسی کا ایک نمونہ ہے۔ دونوں تنظیموں نے الگ الگ بیانات میں اسے غیر معمولی اشتعال انگیزی اور ایک ایسا نیا حقیقت پسندانہ منظر نامہ مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا جس سے واپسی ممکن نہ ہو۔
جہاں جہاد اسلامی نے ان پالیسیوں پر بین الاقوامی اور عرب دنیا کی مسلسل خاموشی کو ذمہ دار ٹھہرایا، وہیں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اسرائیلی اقدامات کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
متعلقہ تناظر: تیزی سے جاری الحاق کا عمل
الخلیل میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے ایک وسیع اسرائیلی تناظر سے ہٹ کر نہیں سمجھا جا سکتا؛ گذشتہ فروری میں، سموٹریچ نے خود مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو "ریاستی زمین” کے طور پر رجسٹر کرنے کا اعلان کیا، جو سنہ 1967ء کے قبضے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ الخلیل سے متعلق اقدامات اسی تسلسل کا حصہ ہیں جو کسی بھی مؤثر بین الاقوامی رکاوٹ کی عدم موجودگی میں مغربی کنارے کا نقشہ قدم بہ قدم بدل رہے ہیں۔
قابض اسرائیل کی جانب سے ایسی سفارتی تردید جو کسی کو قائل نہیں کرتی، اور دوسری طرف وزراء کے کھلے بیانات جو معاہدوں کی منسوخی کی بات کرتے ہیں، اور فلسطینی و بین الاقوامی مذمت جو زیادہ تر کاغذ کے ٹکڑوں تک محدود رہتی ہے، اس سب کے درمیان الخلیل ایک بار پھر طوفان کی زد میں ہے، جبکہ بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ کیا زمینی حقائق پر قابض دشمن کے ساتھ کسی معاہدے کی کوئی قدر باقی ہے؟