• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 7 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

تحقیق میں مقبوضہ بیت المقدس کی عرب مسیحی آبادی کو درپیش اسرائیلی خطرات کا انکشاف

ہفتہ 07-11-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, فلسطین
0
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کی ایک نئی تحقیق میں مقبوضہ بیت المقدس میں عرب مسیحی آبادی کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی پالیسیوں اور اقدامات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے سیاسی، معاشی اور مذہبی دباؤ کے باعث شہر کی قدیم ترین برادریوں میں سے ایک کی موجودگی مزید کم ہونے کا خطرہ ہے۔

’’مسیحیوں کے بغیر بیت المقدس: مقبوضہ بیت المقدس میں عرب مسیحی موجودگی کا خاتمہ، طریقہ کار اور مقاصد‘‘ کے عنوان سے مرتب کی گئی اس تحقیق میں ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا مقصد مسیحی آبادی کی موجودگی محدود کرنا اور فلسطینی قومی شناخت کے ایک لازمی حصے کے طور پر ان کے کردار کو کمزور کرنا ہے۔ یہ اقدامات بیت المقدس کی تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رنگارنگی کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

بیت المقدس کے امور کے محقق علی ابراہیم نے یہ تحقیق تیار کی ہے، جبکہ ڈاکٹر ہشام یعقوب نے اس کا جائزہ لینے کے ساتھ اس کی تدوین بھی کی ہے۔ تحقیق میں گزشتہ ایک صدی کے دوران مسیحی آبادی کے تناسب میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق 1922ء میں برطانوی انتداب کے دور میں مسیحی آبادی بیت المقدس کی مجموعی آبادی کا تقریباً 25 فیصد تھی، جو 2023ء کے اختتام تک کم ہوکر محض 1.56 فیصد رہ گئی۔

تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2023ء کے آخر میں بیت المقدس کے مشرقی اور مغربی حصوں میں تقریباً 15 ہزار 300 مسیحی آباد تھے، جن میں 13 ہزار 100 فلسطینی شامل تھے۔

رہائشی پابندیاں اور آبادیاتی دباؤ

تحقیق میں ان متعدد پالیسیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے بیت المقدس کی فلسطینی مسیحی برادری کی آبادی میں کمی میں کردار ادا کیا ہے۔

ان میں سب سے اہم اسرائیل کے رہائشی قوانین ہیں، جن کے تحت مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کو عموماً شہریت کے بجائے مستقل رہائشی حیثیت دی جاتی ہے۔

تحقیق میں اسرائیلی وزارتِ داخلہ کی اس پالیسی کو بھی نمایاں کیا گیا ہے جس کے تحت نام نہاد ’’مرکزِ زندگی‘‘ کے معیار پر پورا نہ اترنے کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامے منسوخ کردیے جاتے ہیں۔ اس معیار کے تحت شہریوں کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ بیت المقدس ہی ان کی ذاتی اور خاندانی زندگی کا مرکز ہے۔

تحقیق کے مطابق ہزاروں شہریوں کے رہائشی اجازت نامے منسوخ کیے جاچکے ہیں، جبکہ بڑھتے ہوئے معاشی اور سکیورٹی دباؤ نے شہر سے خاموش نقل مکانی کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے فلسطینی مسیحیوں سمیت بیت المقدس کے دیگر فلسطینی باشندوں کے لیے اپنے مکانات، ذرائع معاش اور سماجی و برادری کے تعلقات برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

گرجا گھروں کی املاک اور مذہبی آزادیوں کو دباؤ کا سامنا

تحقیق میں مسیحی مذہبی اوقاف اور گرجا گھروں کی ملکیتی املاک کو لاحق خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اوقاف کی زمینوں کا تقریباً 28 فیصد حصہ مسیحی اداروں سے وابستہ ہے۔

تحقیق میں اسرائیلی آبادکاری تنظیموں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہونے والے معاملات کے ذریعے گرجا گھروں کی املاک حاصل کرنے یا ان پر طویل مدتی لیز کے حقوق حاصل کرنے کی کوششوں کو بھی دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

محققین نے گرجا گھروں کو درپیش مالی دباؤ کی بھی نشاندہی کی ہے، جس میں اسرائیلی بلدیاتی پراپرٹی ٹیکس ’’ارنونا‘‘ کے تحت بھاری رقوم کی ادائیگی کے مطالبات شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایسے اقدامات مسیحی اداروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالتے ہیں اور ان کی مذہبی، فلاحی اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

رپورٹ میں مسیحی مذہبی پیشواؤں، عبادت گزاروں اور مذہبی مقامات کو متاثر کرنے والے حملوں اور خلاف ورزیوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ان واقعات میں جسمانی اور زبانی حملے، گرجا گھرِ قیامت تک رسائی پر سخت پابندیاں اور بڑے مذہبی اجتماعات، بالخصوص ہفتہ مقدس (ہولی سیٹرڈے) اور ایسٹر کی تقریبات میں شرکت کرنے والے عبادت گزاروں کی تعداد محدود کرنا شامل ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں مذہبی آزادیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ بیت المقدس میں تاریخی مسیحی موجودگی کو بھی کمزور کر رہی ہیں۔

بیت المقدس کی فلسطینی شناخت کو خطرات

محققین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دستاویزی شکل میں سامنے آنے والی یہ پالیسیاں بیت المقدس کے آبادیاتی، سیاسی، ثقافتی اور جغرافیائی تشخص کو تبدیل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔

تحقیق کے مطابق ان اقدامات کا مقصد شہر کی مشترکہ فلسطینی قومی شناخت کو کمزور کرنا، اس کے عرب اور کثیرالثقافتی ورثے کو محدود کرنا اور بیت المقدس کو ایک متحد یہودی شہر کے طور پر پیش کرنے والے اسرائیلی بیانیے کو مضبوط بنانا ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ فلسطینی مسیحی بیت المقدس کی قومی اور تاریخی شناخت کا ناقابلِ جدا حصہ ہیں اور ان کی آبادی میں کمی شہر کی دیرینہ مذہبی اور ثقافتی رنگارنگی کے لیے خطرہ ہے۔

عالمی سطح پر اقدامات کی اپیل

تحقیق میں قانونی، دستاویزی، سماجی، سفارتی، ادارہ جاتی اور ڈیجیٹل سطح پر مختلف اقدامات کی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

اس میں فلسطینی مسیحی برادری کے استقامت اور اپنے وطن میں موجودگی برقرار رکھنے کی صلاحیت مضبوط بنانے، خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور انہیں عالمی اداروں کے سامنے اٹھانے پر زور دیا گیا ہے۔

محققین نے مذہبی اوقاف، تاریخی املاک اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے دنیا بھر کے گرجا گھروں اور مسیحی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی بھی سفارش کی ہے۔

دیگر تجاویز میں مقامی برادری کے اداروں کو مضبوط بنانا، فلسطینی مسیحیوں کی مسلسل موجودگی کو برقرار رکھنے میں مدد دینا اور عالمی سطح پر مربوط آگاہی و سفارتی مہمات تیار کرنا شامل ہے۔

تحقیق کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ بیت المقدس کی مسیحی برادری کا تحفظ صرف اس کے مذہبی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے ہی نہیں بلکہ شہر کی فلسطینی شناخت اور تاریخی تنوع کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

Tags: ArabChristiansChristianCommunityIsraeliPoliciesOccupiedJerusalempalestineReligiousFreedomResearchReport
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.