مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی اذان پر پابندی، نمازیوں کو مسجد سے نکال دیا گیا
قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے حوسان میں مسجد پر دھاوا بول کر اذان دینے سے روک دیا اور فجر کی نماز ادا کرنے والے نمازیوں کو زبردستی مسجد سے باہر نکال دیا۔
بیت لحم (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے حوسان میں مسجد پر دھاوا بول کر اذان دینے سے روک دیا اور فجر کی نماز ادا کرنے والے نمازیوں کو زبردستی مسجد سے باہر نکال دیا۔
فلسطینی سیکیورٹی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ہفتہ کی صبح حوسان گاؤں کی ایک مسجد میں داخل ہو کر اذان پر پابندی عائد کی اور مسلمانوں کو نمازِ فجر کی ادائیگی سے روک دیا۔
ذرائع کے مطابق قابض اہلکاروں نے نمازیوں کو مسجد سے باہر نکالنے کے بعد ان پر اسٹن گرینیڈ اور آنسو گیس کے گولے بھی فائر کیے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بیت لحم کے جنوب مغربی علاقے العرقوب کے تمام داخلی راستے اور دروازے بند کر دیے، جبکہ نہالین قصبے کے ایک شہری کو مرکزی فوجی رکاوٹ عبور کرتے وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں قابض اسرائیلی حکام نے مساجد میں اذان پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک نئے قانون کے مسودے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے اجازت نامہ لازمی قرار دینے اور اسرائیلی پولیس کو کارروائی اور جرمانے عائد کرنے کے وسیع اختیارات دینے کی تجویز شامل ہے۔