رام اللہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مرکز فلسطین برائے مطالعہ اسیران کی طرف سے بدھ کے روز فراہم کردہ معلومات کے مطابق قابض اسرائیلی حکام نے گذشتہ ماہ اگست کے دوران غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں گرفتاری کے لگ بھگ 500 کیس ریکارڈ کیے جن میں 31 بچے اور 11 خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں جبکہ قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر ایک اسیر شہید ہو گیا۔
مرکز نے ایک بیان میں واضح کیا کہ گرفتاری کی ان مہمات کے دوران درجنوں گھروں پر دھاوے بولے گئے اور ان کے سامان کی توڑ پھوڑ کی گئی، اس کے علاوہ شہریوں کو حراست میں لے کر ان سے میدانی تحقیقات کی گئیں، اس کے ساتھ ساتھ گھروں کے مالکان کو گھنٹوں باہر نکالا گیا، جن میں سے اکثریت کو توہین، مار پیٹ اور دھمکیوں کا نشانہ بنانے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
مرکز کے مطابق یہ مہمات غرب اردن میں انسانی توانائیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے سیکڑوں افراد کو ماہانہ بنیادوں پر گرفتار کیا جاتا ہے اور سیکڑوں دیگر افراد کو بالخصوص نوجوانوں کو میدانی تحقیقات کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جو فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی سزا کی پالیسی کا ہی ایک حصہ ہے۔
خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والی گرفتاریاں
بچوں کے حوالے سے مرکز نے گذشتہ ماہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے 31 نابالغوں کی گرفتاری کی توثیق کی، جن میں سب سے کم عمر الخلیل سے تعلق رکھنے والا تیرہ سالہ ابراہیم الجندی تھا۔
بیان کے مطابق قابض فوج نے تفتیش کے کچھ گھنٹوں یا دنوں کے بعد متعدد بچوں کو رہا کر دیا، جبکہ دیگر کو حراست اور تفتیشی مراکز منتقل کر دیا گیا اور ان میں سے متعدد کے خلاف واضح الزامات عائد کیے بغیر انتظامی حراست کے احکامات جاری کر دیے گئے۔
جہاں تک خواتین اور لڑکیوں کا تعلق ہے تو گرفتار ہونے والی خواتین کی تعداد 11 تھی، جن میں سے اکثریت مطلوب افراد، اسیران اور شہداء کے اہل خانہ سے تعلق رکھتی تھی۔
گرفتار ہونے والوں میں جنین کے علاقے قباطیا سے تعلق رکھنے والے شہید طاہر زکارنہ کی والدہ آیات الاصهب، اور انتظامی اسیر احمد متروك کی اہلیہ اور روپوش خباب متروك کی والدہ ارووی متروک شامل ہیں۔
گرفتاریوں میں روپوش قیس البيطاوی کے بھائی ابراہیم البيطاوی کی اہلیہ کے علاوہ ان کی بہن حلا اور ان کی پھوپھی أم محمد شوباش بھی شامل تھیں، جنہیں خود کو حوالے کرنے پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے گرفتار کیا گیا، یہاں تک کہ بعد میں وہ ایک قابض اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ اس کے علاوہ جنین کی أم عاهد تركمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔
رام اللہ میں قابض فوج نے امراض قلب کی علامات اور انجیو پلاسٹی (قسطرة) کے عمل سے گزرنے جیسی مشکل صحت مند حالات کا سامنا کرنے کے باوجود امراض نسواں کی ڈاکٹر دیما امین کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔
گرفتاریوں میں نابلس سے تعلق رکھنے والی لڑکی لنا عمر بھی شامل تھی، جسے ایک فوجی چوکی پر چھری رکھنے کے دعوے کے تحت روکا گیا، قلندیا کی کفاح حمد جسے پانچ دن کے بعد مالی ضمانت پر رہا کر دیا گیا، بیت امری سے میسم عبد الرؤوف فقیہ اور الخليل سے سہیلہ الجعبری بھی حراست میں لی گئیں۔
ززمرکز فلسطین برائے مطالعہ اسیران کے مطابق غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے چھتیس سالہ اسیر ایاب محمد دیاب کی شہادت کے ساتھ ہی سنہ 1967ء سے لے کر اب تک تحریکِ اسیران کے شہداء کی تعداد بڑھ کر 328 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 91 شہداء سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے شہید ہوئے ہیں۔
مرکز نے واضح کیا کہ دیاب دسمبر سنہ 2023ء میں اپنی گرفتاری کے بعد کیے جانے والے تشدد کے نتیجے میں شہید ہوئے، اور خاندانی ذرائع کے مطابق گرفتاری کے وقت وہ کسی بیماری میں مبتلا نہیں تھے۔
مرکز نے بتایا کہ قابض حکومت نے ان کی شہادت کی خبر کو دو سال سے زیادہ عرصے تک چھپائے رکھا، جسے اس نے اس بات کا اقرار قرار دیا کہ اس سے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے دجنوں شہید اسیران کے بارے میں خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں جن کی جبری گمشدگی کی پالیسی کے تحت قابض فوج کی طرف سے ان کی تعداد یا ناموں کا اعلان نہ کیے جانے کی وجہ سے ان کا انجام آج بھی نامعلوم ہے۔
سات سو سے زائد انتظامی حراست کے فیصلے
اسی مناسبت سے انتظامی گرفتاری کے معاملے میں اگست کے دوران اس وقت تیزی دیکھی گئی جب قابض حکام نے سات سو سے زیادہ انتظامی فیصلے جاری کیے، جن میں نئے احکامات اور اضافی مدت کے لیے تجدید کے فیصلے بھی شامل تھے۔
مرکز کے مطابق یہ فیصلے "شاباک” سکیورٹی ایجنسی کی سفارشات کے جواب میں اور گرفتار شدگان پر لگائے جانے والے الزامات کی وضاحت کیے بغیر جاری کیے گئے۔
یہ اقدامات صرف انتظامی اسیران تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ قابض انٹیلی جنس نے باقاعدہ قید کی سائیں کاٹنے والے متعدد اسیران کی سزاؤں کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں انتظامی حراست میں تبدیل کر دیا۔
غزہ سے 115 اسیران کی رہائی
گذشتہ ماہ کے دوران قابض حکام نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک خاتون سمیت 115 اسیران کو حراست کے مختلف ادوار کے بعد رہا کر دیا۔
رہا ہونے والوں کی فہرست میں غرب اردن کے مختلف علاقوں سے گرفتار ہونے والے درجنوں مزدور شامل تھے، جبکہ ان میں سے متعدد افراد رہائی کے فورا بعد اپنی جسمانی اور ذہنی حالت کے بگڑ جانے کی وجہ سے ہسپتال پہنچ گئے، جو کہ حراست کے دوران انہیں بھوکا رکھنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور رسوا کیے جانے کے صدمات کا نتیجہ تھا۔
غزہ کی پٹی میں بھی مرکز نے قابض بحری فوج کی طرف سے غزہ شہر کے ساحلوں کے قریب کام کرتے ہوئے چار ماہی گیروں کی گرفتاری کا مشاہدہ کیا۔
قابض فوج نے پٹی تک امداد لے جانے والے ٹرکوں کے متعدد ڈرائیوروں کو بھی روکا، جبکہ قابض فوج کی فضائی سرپرستی میں دراندازی کرتے ہوئے پناہ گزینوں کے رہائشی علاقوں تک پہنچنے والے مسلح جتھوں نے نام نہاد ’پیلی لائن‘ کے قریب وسطی اور جنوبی غزہ میں متعدد شہریوں کو اغوا کیا۔
اسیران کے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل اپنی جیلوں میں نو ہزار چار سو (9400) سے زائد فلسطینی اسیران کو قید رکھے ہوئے ہے، جن میں 92 خواتین، 3324 انتظامی اسیران، اس کے علاوہ 1316 ایسے معین افراد بھی شامل ہیں جنہیں قابض حکام ’غیر قانونی جنگجوؤں‘ کے نام سے درج کرتے ہیں۔