(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں مزاحمتی سکیورٹی سے وابستہ پلیٹ فارم الحارس نے ایک اہم سکیورٹی وارننگ جاری کی ہے، جس میں خبردار کیا گیا کہ چھ بنیادی عوامل ایسے ہیں جو مزاحمتی عناصر کے انکشاف اور قابض اسرائیل کی جانب سے ان کے تعاقب کا سبب بن سکتے ہیں۔
پلیٹ فارم نے واضح کیا کہ قابض اسرائیلی سکیورٹی ادارے نگرانی اور پیچھا کرنے کے لیے تکنیکی اور انسانی ذرائع کا مربوط امتزاج استعمال کر رہے ہیں اور تیزی سے ترقی کرتی نگرانی اور انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
الحارس کے مطابق مزاحمتی عناصر کے انکشاف کی نمایاں وجوہات میں موبائل فونز کا استعمال، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرمی، اسلحے یا فوجی لباس کے ساتھ تصاویر بنانا، رہائش اور نقل و حرکت میں ایک ہی روزمرہ معمول کی پابندی، سڑکوں پر نصب کیمروں کی موجودگی اور مخبروں کا کردار شامل ہیں۔
پلیٹ فارم نے ان عوامل کو معمولی سمجھنے کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی میں ذرا سی کوتاہی بھی قابض اسرائیل کی جدید انٹیلی جنس صلاحیتوں کے سامنے خطرناک خلا پیدا کر سکتی ہے۔
الحارس نے مزاحمتی عناصر سے اپیل کی کہ وہ انتہائی درجے کی احتیاط اور ہوشیاری اختیار کریں، سخت سکیورٹی اقدامات پر عمل کریں اور مکمل رازداری کے ساتھ کام کریں تاکہ قابض دشمن کو ان تک پہنچنے یا انہیں نشانہ بنانے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔
پلیٹ فارم نے اس بات پر زور دیا کہ سکیورٹی شعور دشمن کی دراندازی کی کوششوں کے مقابلے میں دفاع کی پہلی دیوار ہے اور یہی مزاحمتی صفوں کے تحفظ کا فیصلہ کن عنصر ہے۔
اسی دوران قابض اسرائیلی فوج غزہ میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔ یہ معاہدہ امریکہ کی سرپرستی اور قطر مصر اور ترکیہ کی ثالثی سے طے پایا تھا۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں گذشتہ اکتوبر سے اب تک 416 فلسطینی شہید اور 1153 زخمی ہو چکے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری قابض اسرائیلی جارحیت کے باعث شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 42 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ غزہ میں تباہی کی وسعت ایسی ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق اس کی تعمیر نو پر تقریباً 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔