رام اللہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسیران کے مطالعے کے لیے قائم ’مرکز فلسطین‘ نے درجہ حرارت میں شدید اضافے کے سائے میں قابض اسرائیلی عقوبت خانوں کے اندر فلسطینی اسیران کی ابتر ہوتی ہوئی حالت پر شدید انتباہ جاری کیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض حکام گرمی کی لہروں اور موسمی تبدیلیوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسیران سے انتقام لے رہے ہیں اور ان کی مصائب میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
مرکز نے ایک پریس بیان میں واضح کیا کہ قابض حکام اسیران کو ہوا کے بنیادی ذرائع سے محروم کر کے جو شدید گرمی کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں، سخت موسمی حالات کو اسیران کے مصائب کو مزید بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں کی انتظامیہ نے متعدد وارڈوں اور کوٹھریوں میں ہوا کے آنے جانے کے راستوں کو لوہے کی چادروں سے بند کر دیا ہے جو قدرتی ہوا کے داخلے کو محدود کرتی ہیں۔
بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے اسیران کے خلاف سختیوں میں شدت آ چکی ہے، کیونکہ جیل انتظامیہ نے اسیروں کے کمروں سے پنکھے چھین لیے ہیں، جو کمروں اور کوٹھریوں کے اندر درجہ حرارت کو کم کرنے کا واحد دستیاب ذریعہ تھا، جس کے نتیجے میں زندگی گزارنے کے حالات شدید بگڑ گئے ہیں اور قید و بند کی جگہیں ایک گھٹن زدہ ماحول میں تبدیل ہو چکی ہیں جو اسیران کی صحت اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
مرکز نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض صہیونی عقوبت خانے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں قابض فورسز کی طرف سے چلائی جانے والی وسیع گرفتاری کے مہمات کے نتیجے میں بے مثال بھیڑ کا شکار ہیں، جس نے جیل انتظامیہ کو کمروں کے اندر گنجائش سے زیادہ تعداد میں قیدیوں کو ٹھونسنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑی تعداد میں اسیران کو مشکل حالات میں فرش پر سونے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جہاں درجہ حرارت اور حبس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے، اس کے علاوہ چہل قدمی کے اوقات کو کم کر دیا جاتا ہے یا کچھ جیلوں میں اسے مکمل طور پر روک دیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسیران گرمی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پانی کو واحد سہارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، کیونکہ ان میں سے اکثر گھٹن اور تھکن کے احساس کو کم کرنے کے لیے بار بار اپنے کپڑے اور بستر گیلے کرنے کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ مریض، بزرگ اور بچے ان حالات کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی طبی پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جیل انتظامیہ نے ہوا کے انتظامات فراہم کرنے یا پنکھے بحال کرنے اور بند کھڑکیوں کو کھولنے کے اسیران کے مطالبات کو بار بار مسترد کر دیا ہے، اور اس پالیسی کو ایک سوچے سمجهے طرزِ عمل کا حصہ قرار دیا ہے جس کا مقصد حراستی حالات کو مزید سخت کرنا اور ایک ایسا سفاکانہ ماحول مسلط کرنا ہے جو قیدیوں کی جسمانی اور نفسیاتی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
مرکز فلسطین نے خبردار کیا کہ ان طریقوں کا جاری رہنا اسیران کے خلاف اجتماعی سزا کی ایک شکل ہے، اور طبی دیکھ بھال کی کمی اور عقوبت خانوں کے اندر ابتر حالات کے سائے میں انہیں درپیش صحت کے خطرات کو مزید بڑھاتا ہے۔
مرکز نے بین الاقوامی، انسانی حقوق اور فلاحی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئیں اور اسیران کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے قابض حکام پر دباؤ ڈالیں، اور ایسے حراستی حالات کی فراہمی کو یقینی بنائیں جو بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہوں۔
مرکز نے اس تنبیہ کا اعادہ کیا کہ قیدیوں کو جن حالات کا سامنا ہے ان پر عالمی خاموشی کا جاری رہنا ان کے مصائب کے حجم کو بڑھاتا ہے اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
نو ہزار چار سو سے زائد فلسطینی اسیران گرمی کے شدید موسم کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ایک کٹھن جنگ لڑ رہے ہیں، کیونکہ قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں ان کے مصائب کا دائرہ کار صرف آزادی سے محرومی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ گھٹن زدہ حراستی حالات تک پھیلا ہوا ہے جو درجہ حرارت کے ریکارڈ سطح پر پہنچ جانے کے بعد چھوٹی کوٹھریوں کو ناقابلِ برداشت ماحول بنا دیتے ہیں۔