غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں اڑانے کا سلسلہ مسلسل 144 ویں دن بھی جاری رہا۔ قابض دشمن نے قطاع کے مختلف علاقوں میں توپ خانے سے گولہ باری، فضائی حملوں اور شدید فائرنگ کے ذریعے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جس سے عملاً اس معاہدے کی روح ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
بدھ کی شام جنوبی غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر ایک فلسطینی خاتون جام شہادت نوش کر گئیں۔ ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ رفح شہر کے علاقے مواصی میں قابض فوج کی فائرنگ سے ایک خاتون شہید اور ایک شہری زخمی ہوا۔ اس تازہ واقعے کے بعد آج صبح سے اب تک قطاع میں شہدا کی تعداد 4 ہو گئی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق 13 سالہ بچہ عمر زیاد الغرابلی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا ہے۔ عمر غزہ شہر پر اسرائیلی بمباری میں زخمی ہوا تھا جو معاہدہ جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی حصے میں قابض اسرائیل کی فائرنگ سے 43 سالہ ماہر حرب احمد سمور بھی شہید ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ بدھ کی فجر قابض اسرائیلی توپ خانے نے غزہ شہر کے محلوں حی التفاح اور شجاعیہ کے مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ رفح کے شمالی حصوں میں ٹینکوں سے شدید فائرنگ کی گئی جس سے پناہ گزینوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ خان یونس کے مشرقی محلوں پر بھی گولہ باری کی گئی جبکہ وسطی غزہ میں بریج کیمپ کے مشرق میں قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے فضائی حملہ۔
1900 سے زائد میدانی خلاف ورزیاں
قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں سے متعلق روزانہ کی شماریاتی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے نفاذ سے اب تک 661 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 199 بچے، 85 خواتین اور 23 بزرگ شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شہدا میں 46.4 فیصد تعداد بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی ہے جو قابض اسرائیل کی نسل کشی کی پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ زخمیوں کی تعداد 1700 تک پہنچ چکی ہے جن میں 518 بچے اور 342 خواتین شامل ہیں۔
رپورٹ میں اب تک 1921 میدانی واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں فائرنگ، گولہ باری، مکانات کی مسماری اور فوجی گاڑیوں کی دراندازی شامل ہے۔ اوسطاً روزانہ 13.5 مرتبہ خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ قابض اسرائیل نے نہ صرف معاہدے کے دائرے سے باہر اضافی علاقوں پر آگ کا کنٹرول حاصل کر رکھا ہے بلکہ وہ طے شدہ انخلا کی لائنوں پر پیچھے ہٹنے سے بھی انکاری ہے۔
امداد اور ایندھن پر سخت پابندیاں
انسانی بنیادوں پر بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ غزہ میں کراسنگ اینڈ بارڈرز اتھارٹی کے مطابق گزشتہ روز کرم ابو سالم کراسنگ سے صرف 16 ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے، جن میں سے 14 امدادی اور صرف 2 تجارتی ٹرک تھے۔ یہ محدود سپلائی بھی کئی دن کی مکمل بندش کے بعد بحال کی گئی ہے۔
قابض اسرائیل نے روزانہ 600 امدادی ٹرکوں اور 50 ایندھن کے ٹرکوں کے داخلے کے معاہدے پر عمل نہیں کیا۔ اب تک مجموعی طور پر داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد معاہدے کا صرف 42.2 فیصد ہے۔ سب سے سنگین مسئلہ ایندھن کا ہے جہاں طے شدہ ضرورت کا صرف 14.5 فیصد فراہم کیا گیا ہے، جس کے باعث ہسپتال، پانی کی فراہمی اور سیوریج کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
اتھارٹی برائے پیٹرولیم نے متنبہ کیا ہے کہ کھانا پکانے والی گیس کی سپلائی بند ہونے سے 20 لاکھ سے زائد شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے، خصوصاً ماہ رمضان کی آمد کے پیش نظر یہ صورتحال غذائی تحفظ کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ رفح کراسنگ کے حوالے سے بھی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض دشمن کے تعصبانہ اقدامات کے باعث مسافروں کی آمد و رفت طے شدہ تعداد کے مقابلے میں صرف 38.6 فیصد رہی۔
یہ حقائق اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ 144 ویں دن بھی قابض اسرائیلی افواج منظم طریقے سے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہیں، جبکہ عالمی برادری کسی ایسے فعال میکانزم کی فراہمی میں ناکام رہی ہے جو شہریوں کو تحفظ دے سکے اور بغیر کسی سیاسی یا عسکری رکاوٹ کے امداد کی روانی یقینی بنائے۔