سلفیت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ فلسطینی زمینوں پر مسلسل جاری یہودی آباد کاری کے پھیلاؤ کے ایک حصے کے طور پر، ’اریئل‘ بستی میں 342 نئے یہودی آباد کاری یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کر کے سلفیت گورنری کی زمینوں پر سینکڑوں یہودی آباد کاری یونٹس کی تعمیر کے عملی نفاذ کا آغاز کر دیا ہے۔
اس یہودی آباد کاری منصوبے میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر شامل ہے، جس کی منظوری قابض حکام نے پچیس مئی سنہ 2025ء کو دی تھی۔
آباد کاری کی ہوس
اس سے قبل قابض وزیر خارجہ ’جدعون ساعر‘ نے وزارت خارجہ کے بجٹ سے ’بدوئیل‘ بستی کو ترقی دینے کے لیے دس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی تجویز پیش کی تھی، تاکہ بدوئیل بستی میں ’’ریاست کی بالکنی‘‘ کے نام سے مشہور ایک سیاحتی مقام کو ترقی دی جا سکے، جو سلفیت کے مغرب میں کفر الدیک اور دیر بلوط قصبوں کی زمینوں پر قابض ہے۔
قابض وزیر خارجہ کی اس قدم کو دسیوں امریکی کانگریس کے اراکین کی حمایت حاصل تھی، جن میں سے تقریباً 250 اراکین نے گزشتہ ستمبر میں شمالی مغربی کنارے کی بستیوں کی علاقائی کونسل کی جانب سے ’بدوئیل‘ بستی میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی تھی۔
یہ تقریب مغربی کنارے کے الحاق کے عمل کی حمایت کرنے اور ایک ایسے امریکی قانون کے منصوبے کی تشہیر کے مقصد سے منعقد کی گئی تھی جو سرکاری دستاویزات میں ’’مغربی کنارہ‘‘ کی اصطلاح کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے اور اس کی جگہ توراتی نام ’’یہودا اور سامریہ‘‘ استعمال کرتا ہے۔
اسٹریٹجک مقام
’بدوئیل‘ بستی سنہ 1984ء میں سلفیت گورنری کے مغرب میں واقع کفر الدیک اور دیر بلوط قصبوں کی زمینوں پر قائم کی گئی تھی، اور اس نے اس علاقے میں فلسطینیوں کی ۶۵۰ ڈونم سے زیادہ زمین پر قبضہ کر لیا ہے، اور اس میں وقفے وقفے سے مسلسل توسیع کی جا رہی ہے۔
یہ بستی سطح سمندر سے تقریباً 329 میٹر بلندی پر ایک پہاڑی پر واقع ہے، جو وادی صریہ اور تل ابیب کی بلند و بالا عمارتوں پر نظر رکھتی ہے جو اس سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں، یہ کفر الدیک اور دیر بلوط قصبوں کے درمیان، رام الله کے مغربی علاقوں کی بستیوں اور اریئل کے آباد کاری انگلی خاص طور پر اس کے قریب واقع بستی ’ایلی زهاف‘ کے ساتھ جڑے ہوئے علاقے میں واقع ہے۔
یہ بستی سلفیت گورنری کو شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کرنے کا سبب بنتی ہے، اور نام نہاد ’’گرین لائن‘‘ کے قریب بھی واقع ہے؛ اسی وجہ سے اس نے قابض اسرائیل کے لیے بڑی اسٹریٹجک اہمیت حاصل کر لی ہے۔
زمین کا غاصبانہ لوٹ مار
قابض دشمن کی طمع ان سینکڑوں ڈونم تک محدود نہیں رہی جو اس نے بستی کے لیے ہتھیا لیے تھے، بلکہ اپریل سنہ 2022ء میں یہودی آباد کاروں نے کفر الدیک کے ضضلع کے مغرب میں واقع علاقے ’’العقدہ‘‘ میں ایک نئی نوآبادیاتی چوکی قائم کی، خاص طور پر ان چراگاہوں کی زمینوں پر جو قصبے کے متعدد کسانوں کی ملکیت ہیں۔
اس وقت یہودی آباد کاروں نے13 دونم رقبے پر قبضہ کر لیا، اور ’بدوئیل‘ کے جنوب میں ۱۵۰ میٹر کے فاصلے پر نقل و حرکت کے قابل رہائش گاہیں نصب کر دیں، اور جولائی سنہ 2023ء میں قابضین نے بستی کی خدمت کے لیے نئی سڑکیں تعمیر کیں۔
اور نومبر سنہ 2024ء میں قابض اسرائیلی بستی کو وسعت دینے کے لیے کفر الدیک میں شہریوں کی زرعی اراضی میں سے نو دونم ضبط کرنے کا فیصلہ کیا۔
مارچ سنہ 2025ء میں ’بدوئیل‘ بستی سے وابستہ بلڈوزروں نے سلفیت گورنری کے مغرب میں واقع قصبے دیر بلوط سے تعلق رکھنے والی زمینوں کو ہموار کیا۔
بستی کے منتظمین جان بوجھ کر کفر الدیک قصبے کے مغرب میں ’’باب المرج‘‘ کے علاقے میں فلسطینی وادیوں کی طرف سیوریج کا پانی بڑی مقدار میں پمپ کر رہے ہیں، اور زمینوں کو بھی ہموار کر رہے ہیں۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ’’پیس ناو‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 2022ء کے آخر میں بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کی تشکیل کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
فلسطینی تخمینوں کے مطابق، مغربی کنارے میں اسرائیلی یہودی آباد کاروں کی تعداد تقریبا ساڑھے سات لاکھ ہے، جن میں مقبوضہ بیت المقدس میں تقریبا ڈھائی لاکھ شامل ہیں۔
اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی میں نسل کشی شروع ہونے کے بعد سے، قابض حکومت نے فوج اور یہودی آباد کاروں کے ذریعے مغربی کنارے میں اپنی جارحیت کو تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور تقریبا بارہ ہزار زخمی ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔