• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 7 اگست 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

قابض اسرائیل کا نیا ہتھکنڈہ، مؤذنین پر جرمانے عائد کر کے اسلامی شعائر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

قابض اسرائیل کی حکام نے مقبوضہ اندرونِ فلسطین میں مذہبی اور عرب شعائر کو محدود کرنے کے اپنے مذموم اقدامات میں خطرناک حد تک تیزی لائی ہے۔

جمعہ 07-08-2026
in خاص خبریں, رپورٹس, صیہونیزم
0
قابض اسرائیل کا نیا ہتھکنڈہ، مؤذنین پر جرمانے عائد کر کے اسلامی شعائر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
0
SHARES
1
VIEWS

مقبوضہ فلسطین – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ)قابض اسرائیل کی حکام نے مقبوضہ اندرونِ فلسطین میں مذہبی اور عرب شعائر کو محدود کرنے کے اپنے مذموم اقدامات میں خطرناک حد تک تیزی لائی ہے، جس کے تحت ماحول اور شور شرابے کے قوانین کی آڑ میں مؤذنين پر سیکڑوں مالی جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، جو کہ ایک ایسا قدم ہے جسے فلسطینی آزادیٔ عبادت اور اسلامی تشخص پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہیں۔

اسرائیلی نام نہاد "محکمہ ماحولیاتی معیار” نے شور کی آلودگی کو محدود کرنے کے جھوٹے بہانے کے تحت اندرونِ فلسطین کے کئی شہروں میں مؤذنين کے خلاف سیکڑوں جرمانے عائد کیے ہیں، ایسے وقت میں جب یہ اقدامات مساجد میں اذان کی بلند آواز کو محدود کرنے کی وسیع تر پالیسیوں کے ساتھ بیک وقت رونما ہو رہے ہیں۔

فلسطینی وکیل خالد زبارقہ نے انکشاف کیا کہ الخلیل شہر کے مساجد کے اماموں کو صرف اذان دینے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر وزارتِ ماحولیاتی تحفظ کی طرف سے جاری کردہ ایک سو پچاس سے زیادہ مالی جرمانے موصول ہوئے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہر مؤذن کو ملنے والا نوٹس یا مالی جرمانہ اس کے کندھوں پر بوجھ بنتا ہے اور مذہبی شعائر کی ادائیگی کی آزادی پر براہِ راست وار کرتا ہے۔

وکیل زبارقہ نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض انتظامی کارروائیوں سے بالاتر ہے، بلکہ یہ وزارتِ ماحولیاتی تحفظ کی طرف سے بلدیہ اور قابض پولیس کے ساتھ مل کر نافذ کی جانے والی ایک مکمل اور مربوط پالیسی کی تشکیل کرتا ہے، جس کا مقصد عرب اور اسلامی وجود کا گھٹرا تنگ کرنا اور اذان کی آواز کو دبانا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ قابض حکام ظاہری طور پر شور اور ماحول کے ضوابط کے قوانین کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ ان قوانین کو ان کی تشریح کے مطابق، مالی دباؤ اور قانونی تعاقب کے ذریعے ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کے مکارانہ سیاسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک پردے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بار بار عائد کیے جانے والے جرمانوں کا مقصد مساجد اور باسیوں کو تھکا دینا اور انہیں اپنے شعائر کی ادائیگی کو محدود کرنے پر مجبور کرنا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اذان فلسطینی، عرب اور اسلامی تشخص کا ایک لازمی حصہ ہے، اور یہ پالیسیاں اس موجودگی کو مٹانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گی۔

انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ کئی وکلاء نے مؤذنين کے خلاف بڑھتے ہوئے ان اقدامات کو چیلنج کرنے اور انہیں روکنے کی کوشش میں قابض عدالتوں میں اعتراضات جمع کرائے ہیں۔

یہ اقدامات اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی طرف سے حال ہی میں اس قانون کی منظوری کے بعد سامنے آئے ہیں جو اندرونِ فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کی مساجد میں اذان دینے پر پابندی عائد کرتا ہے،اس میں قانون توڑنے والوں پر جرمانے عائد کرنے کی شق شامل ہے، جسے فلسطینی ایک ایسے خوفناک اقدام کے طور پر بیان کرتے ہیں جو مقبوضہ علاقوں میں مذہبی آزادیوں اور عرب وجود کو نشانہ بناتا ہے۔

Tags: AdhanAl-Aqsa MosqueFreedom of WorshipHuman RightsIslamic Religious FreedomisraeljerusalemMuezzinsOccupied PalestinePalestinian Muslimsreligious rights
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.