غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے نفاذ کو آج 143واں روز ہے مگر قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیوں اور نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ آج بروز منگل خان یونس کے مشرقی علاقے میں قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی شہری جام شہادت نوش کر گیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ خان یونس کے علاقے السطر الشرقی میں قابض اسرائیلی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بننے والے ایک شہید کی میت ناصر میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دی گئی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں نے خان یونس کے مشرقی حصوں میں شدید فائرنگ کی جبکہ دوسری جانب صہیونی بحریہ کی جنگی کشتیوں نے غزہ شہر کے ساحلی علاقوں کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔
سیز فائر یا جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد سے اب تک قابض اسرائیلی افواج اپنی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بمباری اور فائرنگ کے ذریعے 662 فلسطینیوں کو شہید اور 1698 سے زائد افراد کو زخمی کر چکی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ معاہدہ دو سال تک جاری رہنے والی اس ہولناک نسل کشی کی جنگ کے بعد طے پایا تھا جو سنہ 2023ء اکتوبر کو امریکہ کی بھرپور سرپرستی میں شروع کی گئی تھی۔ اس وحشیانہ جنگ کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کی پٹی کا 90 فیصد سویلین بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔