طولکرم – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں قلقیلیہ اور سلفیت میں زرعی اراضی پر قبضہ کر لیا، جبکہ طولکرم میں ایک گھر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔
قابض فوج نے قلقیلیہ گورنری کے گاؤں جینصافوط کی زمینوں میں سے 407 دونم (یعنی 407 مربع میٹر) زمین پر فوجی مقاصد کے تحت قبضے کا ایک فوجی حکم نامہ جاری کیا۔
مقامی ذرائع نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مقصد قلقیلیہ اور نابلس کو ملانے والی ” الفندق“ بائی پاس روڈکے ساتھ ایک فوجی کمیونیکیشن ٹاور قائم کرنا اور اس تک رسائی کے راستے کو محفوظ بنانا ہے۔
ادھر سلفیت میں قابض حکام نے سلفیت گورنری کے گاؤں مردہ کی 2.224 دونم زمین پر ”فوجی مقاصد“ کے بہانے قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ سڑک نمبر 505 کے ساتھ اور ”ارئیل“ بستی کے شمال میں ایک انتہائی اہم مقام پر واقع ہے۔
دوسری طرف قابض فوج نے طولکرم کے شمال میں واقع گاؤں الجاروشيہ پر دھاوا بول دیا، ایک گھر پر چھاپہ مار کر اسے فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔
قابض فوج نے شہری ولید الزغل کے گھر پر دھاوا بولا اور وہاں رہنے والے مکینوں کو گھر خالی کرنے پر مجبور کرنے کے بعد اس پر قبضہ کر کے اسے فوجی چھاؤنی بنا دیا، اس دوران گاؤں کے گردونواح میں قابض فوج کی بھاری نفری تعینات رہی۔
یہودی آباد کاروں کی مسلسل جارحیت کے ایک اور واقعے میں، انتہا پسند صھیونی آباد کاروں نے رام اللہ اور البیرہ گورنری کے شمال میں واقع گاؤں جلجلیہ میں زرعی اراضی کو نذر آتش کر دیا۔
آباد کاروں نے گاؤں کے مشرق میں واقع علاقے الباطن میں زرعی زمینوں کو آگ لگا دی، جو کہ اس گاؤں اور سنجل و المزرعہ الشرقیہ کے رہائشیوں کی ملکیت ہیں۔