پلان دالت مارچ 1948ء میں صیہونی عسکری تنظیم "ہگانہ" کا تیار کردہ ایک اسٹریٹجک فوجی منصوبہ تھا، جس کا بنیادی مقصد برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے پر فلسطین کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرکے صیہونی ریاست قائم کرنا اور اقوام متحدہ کے 1947ء کے تقسیمِ فلسطین منصوبے کی مجوزہ حد بندیوں کو وسیع کرنا تھا۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) پلان دالت مارچ 1948ء میں صیہونی عسکری تنظیم "ہگانہ” کا تیار کردہ ایک اسٹریٹجک فوجی منصوبہ تھا، جس کا بنیادی مقصد برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے پر فلسطین کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرکے صیہونی ریاست قائم کرنا اور اقوام متحدہ کے 1947ء کے تقسیمِ فلسطین منصوبے کی مجوزہ حد بندیوں کو وسیع کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینی دیہاتوں اور شہروں پر قبضہ، مزاحمت کرنے والی آبادیوں کی جبری بے دخلی اور مکانات کو مسمار کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی، تاکہ ان کی واپسی کو ناممکن بنایا جا سکے اور اہم مواصلاتی راستوں پر ناکہ بندی قائم کی جائے۔ فلسطینی اور بین الاقوامی مورخین اسے "نکبہ” اور نسل کشی کا عملی بلیو پرنٹ مانتے ہیں، جس کے نتیجے میں 7 لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہوئے۔ یہ پلان آج بھی رو بہ عمل ہے، غزہ مکمل مسمار ہوچکا، 92 فیصد رہائشی مکانات، کمرشل عمارتیں، شہری انفراسٹکچر تباہ ہوچکا ہے۔
غزہ کی سو فیصد آبادی پناہ گزین کیمپوں میں عالمی امداد کے سہارے پر زندگی کے ایام پورے کر رہی ہے۔ 2023ء میں شروع ہونے والی یکطرفہ نسل کشی میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے، سینکڑوں خاندان صفحہ ہستی سے مٹ گئے، 60 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوئے، تعلیم، صحت کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوگیا۔ اسرائیلی جرائم کا سلسلہ یہاں تھما نہیں، 2025ء میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاہدے کے بعد سے تادم تحریر غزہ میں 2500 سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔ غزہ نسل کشی کے دوران جب غزہ مرکز نگاہ تھا اور دنیا ایران امریکہ جنگ میں مصروف تھی، اسرائیلیوں نے منظم انداز سے اپنی جارحیت کا تمرکز مغربی کنارے کی جانب کر دیا۔ یہودی آبادکار فلسطینی آبادیوں پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے، نئی یہودی بستیاں بسائی جا رہی ہیں۔
اسرائیلی حکام کھلم کھلا ایک نئے نكبہ کو اپنے مقصود کے طور پر بیان کرچکے ہیں۔ نومبر2023ء میں آوی دپختر (Avi Dichter) نے اعلان کیا تھا: "ہم اس وقت غصہ نكبہ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک، اسرائیلی افواج اور آبادکاروں نے مغربی کنارے میں 1100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، جن میں 240 سے زائد بچے شامل ہیں اور ہزاروں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ دسیوں ہزاروں کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ صرف جنین، طولکرم اور نور شمس کے پناہ گزین کیمپوں سے 33000 سے زائد فلسطینی اب بھی بے گھر ہیں۔ حال ہی میں اسرائیلی آبادکاروں نے نابلوس کے قصبے قصرہ پر حملے کا آغاز کیا، پہلے انھوں نے گھروں کے راستے بند کر دیئے، باہر خیمے گاڑ دیئے اور پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کر دی۔ چھوٹی عمر کے بچوں سمیت خاندان ان گھروں کے اندر محصور ہو کر رہ گئے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے ارد گرد کے علاقے کو بند فوجی زون (Closed Military Zone) قرار دے دیا، جس سے فلسطینیوں، کارکنوں اور صحافیوں کا داخلہ ممنوع ہوگیا۔
جو چیز سامنے آئی، وہ محض آباد کاروں کا تشدد نہیں تھا، بلکہ کام کی تقسیم (Division of labor) تھی۔ آباد کار بحران پیدا کرتے ہیں، فوج پابندیاں عائد کرتی ہے، فلسطینیوں کی نقل و حرکت محدود کر دی جاتی ہے اور خود متاثرین پر علاقہ چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ قصرہ کے گھروں کے محاصرے کو دوسرا ہفتہ مکمل ہوچکا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل مگدالیم کی آباد کاری کے لیے اس کی زمین پر قبضہ کرچکا ہے، جبکہ فلسطینی زرعی زمینوں پر حملوں اور ان پر قبضے کی کوششوں کے لیے اش کودیش سمیت قریب کی بیرونی چوکیوں پر جارحیت کا عمل جاری ہے۔ ایسے علاقوں پر کنٹرول، آبادکاری کے بلاکس کو جوڑنے، فلسطینی علاقے کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور فلسطینی آبادیوں کو الگ تھلگ جزیروں میں تبدیل کرنے کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔
امت مسلمہ بے ہوش ہے، مغربی کنارے کے الحاق کا منصوبہ اب بیان بازی نہیں بلکہ اسرائیلیوں کا جنون بن چکا ہے، جس پر وہ زبان اور عمل سے کام کر رہے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور سرپرست وزارتِ خارجہ کے مطابق مغربی کنارے میں صہیونیوں کے اقدامات مغربی کنارے کے عملی الحاق کی ایک خوفناک کوشش ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق اسرائیلی حکومت اور آبادکاروں کی جانب سے دیہاتوں کی ناکہ بندی، آبادیوں پر فائرنگ اور "E1” جیسے نئے آبادکاری کے منصوبوں پر پیش قدمی اسلو معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اتھارٹی کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں ٹیکس کی وصولی سے روک دیا ہے، جو اتھارٹی کے مطابق انتظامیہ کو معاشی طور پر مفلوج کرنے اور اداروں کو کمزور کرنے کی منظم اور مرحلہ وار حکمت عملی ہے۔ او آئی سی نے بھی اس معاملے پر مذمتی قراردار پیش کرکے اپنی ذمہ داری انجام دے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ مذمتی بیانات، قراردادیں اور اعلامیے کیا اسرائیل کو اس کے جارحانہ عزائم سے روک سکیں گے۔؟
امت اب بھی افتراق کا شکار ہے، اصل مسئلے کا حل سوچنے کے بجائے ثانوی مسائل میں محو ہے۔ سعودیہ، ترکیہ، کویت، عرب امارات اپنے تحفظ کے لیے دفاعی معاہدے کر رہے ہیں، جبکہ جانتے ہیں کہ اگر اسرائیل ننگی جارحیت پر اترا تو ان میں سے ایک بھی اپنا دفاع نہیں کر پائے گا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ سب مسلمان ممالک مل کر اپنے مشترکہ دشمن سے نبرد آزما ہونے کی کوئی راہ تلاش کرتے، ایران جس نے امریکہ اور اسرائیل کی ننگی جارحیت کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے، اس سے اپنی قربتوں میں اضافہ کرتے۔ پاکستان اس سلسلے میں پل کا کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، وہ خطے کے لیے ایک ایسا سکیورٹی سسٹم تشکیل دے سکتا ہے، جس میں خلیج کی ریاستیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں بلکہ دوست اور حامی ہوں۔ اسرائیل کو اب قراردادوں اور اعلامیوں سے مہار نہیں کیا جاسکتا، اس کے لیے ہر مسلمان ملک بالخصوص خلیجی ممالک کو واضح عزم کے ساتھ میدان عمل میں اترنا ہوگا۔