رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں الجزیرہ چینل کے دفتر کو بند رکھنے کے حکم میں باضابطہ طور پر مزید 90 دنوں کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے، یہ بارہواں موقع ہے کہ اس ظالمانہ فیصلے کی تجدید کی گئی ہے۔
غاصب اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کے لیے سنہ 1945ء کے برطانوی استبداد کے دور کے ہنگامی قوانین کا سہارا لیا ہے، جو فلسطینی سرزمین پر میڈیا کے کام کو روکنے اور صحافتی آوازوں کو دبانے کے لیے متنازع قانونی ہتھکنڈوں کے استعمال پر ان کے اصرار کی عکاسی کرتا ہے۔
بندش کی مدت میں یہ توسیع ان فیصلوں کا تسلسل ہے جن کا آغاز مئی سنہ 2024ء میں ہوا تھا، جب بنجمن نیتن یاھو کی سربراہی میں غاصب اسرائیلی حکومت اور وزیر مواصلات شلومو کرعی نے نام نہاد "الجزیرہ قانون” کی منظوری دی تھی۔ اس فیصلے پر فوری عمل درآمد کیا گیا تھا جس کے بعد نیٹ ورک کے دفاتر پر چھاپوں اور بندشوں کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری انسانیت سوز واقعات اور سفاکیت کی خبر رسانی کو روکا جا سکے۔
قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ سال ستمبر کے دوران رام اللہ میں چینل کے دفتر پر بڑے پیمانے پر دھاوا بولا تھا اور وہاں موجود عملے کو مکمل بندش کا فوجی حکم نامہ تھمایا تھا۔ اس کارروائی کے دوران تمام تکنیکی آلات، دستاویزات اور صحافتی سامان ضبط کر لیا گیا تھا اور ملازمین کو اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ غاصب اسرائیلی حکام نام نہاد سکیورٹی وجوہات کا بہانہ بنا کر وقفے وقفے سے ان اقدامات کی تجدید کر رہے ہیں۔
دوسری جانب الجزیرہ نیٹ ورک نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات اور دعووں کی ایک بار پھر سختی سے تردید کی ہے اور انہیں من گھڑت افترا پردازی پر مبنی دعوے قرار دیا ہے جن کی کوئی قانونی یا اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔
نیٹ ورک نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ غاصب اسرائیل کے انتہاپسند دائیں بازو کے عناصر کی جانب سے چلائی جانے والی یہ منظم مہم ان کے عملے کی زندگیوں کے لیے حقیقی خطرہ بن چکی ہے۔ ادارے نے فیلڈ میں موجود اپنے تمام ملازمین کی سلامتی کی مکمل ذمہ داری غاصب اسرائیلی حکام پر عائد کی ہے۔