رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکام نے رام اللہ کے شمال میں واقع ’الجلزون‘ کیمپ کے ایک فلسطینی شہری کو اپنے ہی دکان کو مسمار کرنے پر مجبور کر دیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض حکام نے الجلزون کے رہائشی یاسر الشنی کو اپنی مٹھائی کی دکان خود مسمار کرنے پر مجبور کیا، کیونکہ قابض فوج کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہو چکی تھی اور انہیں وکیل کے ذریعے اطلاع ملی تھی کہ کسی بھی وقت مسماری کا حکم نافذ کیا جا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیلی افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قلقیلیا شہر کے مشرق میں واقع ’اماتین‘ گاؤں میں رہائشی اور زرعی عمارتوں کو مسمار کر دیا۔
اماتین گاؤں کی کونسل کے سربراہ فتحی غانم نے بتایا کہ قابض فوج نے گاؤں کے جنوب میں ’واد ابو یونس‘ (واد عرعور) کے علاقے پر دھاوا بولا اور تقریباً 20 ڈونم رقبے پر قائم عمارتوں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ یہ عمارتیں گزشتہ 25 سال سے زیادہ عرصے سے موجود تھیں اور 22 خاندان ان سے استفادہ کر رہے تھے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیل کی جانب سے مسمار کی گئی عمارتوں میں بھیڑ بکریاں پالنے کے لیے باڑے، چارہ اور آلات ذخیرہ کرنے کے لیے زرعی گودام، اور رہائشی ڈھانچے شامل تھے، جو سب کے سب لوہے کے ڈھانچے اور ’زنک‘ کی چادروں سے بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی نقصانات کا تخمینہ لاکھوں شیکل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ علاقہ ’سی‘ (C) زون میں آتا ہے اور گاؤں کی زمین پر قائم ’عمانوئیل‘ اور ’جلعاد‘ بستیوں کے قریب ہونے کی وجہ سے اسرائیلی حکام کی جانب سے مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان خاندانوں کو پہلے ہی علاقہ خالی کرنے کے نوٹس مل چکے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مسمار شدہ عمارتیں ’الجہالین‘، ’حمادین‘ اور ’صرايعہ‘ خاندانوں کی ملکیت تھیں، اور یہ متاثرہ خاندان اب بے گھر ہو چکے ہیں اور ان کا ذریعہ معاش بھی چھن گیا ہے، کیونکہ وہ اپنی گزر بسر کے لیے بھیڑ بکریاں پالنے اور زراعت پر منحصر تھے۔