غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں خوراک کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی جارحیت کے آغاز کے ساتھ ہی پرانی تکلیف دہ یادیں لوٹ آئی ہیں اور انسانی المیہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک بار پھر فلسطینیوں کو بھوکا مارنے کی دانستہ پالیسی اور اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر کمی کی باتیں زبان زدِ عام ہیں۔
غزہ کی پٹی کے مکینوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو سخت تشویش ہے کہ سرحدی گزرگاہوں پر پابندیاں کڑی کرنے اور امداد کی آمد میں رکاوٹیں ڈالنے سے زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔ انہیں ڈر ہے کہ قحط کا وہ خوفناک دور دوبارہ لوٹ سکتا ہے جس کی ہولناکیوں کا تجربہ عوام نے غزہ کی پٹی پر مسلط نسل کشی کی جنگ کے گذشتہ مراحل میں جی بھر کر کیا ہے۔
سرکاری فیلڈ رپورٹس اور انسانی ہمدردی کے ذرائع کے مطابق گذشتہ چند دنوں میں غزہ میں داخل ہونے والے غذائی اجناس اور ایندھن سے لدے ٹرکوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ صورتحال اہم تجارتی گزرگاہوں بالخصوص کرم ابو سالم گزرگاہ پر پابندیاں سخت ہونے کے بعد پیدا ہوئی ہے جو غزہ کی پٹی میں سامان کی آمد کا بنیادی راستہ ہے۔
اگر دنیا یہ منظر کسی فلم میں دیکھتی تو سینما ہالز میں بیٹھے لوگ زار و قطار رو پڑتے لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ اور دردناک ہے۔ یہ غزہ کی اصل تصویر ہے جہاں بھوک اور جنگ نے مل کر مظلوم مکینوں کے دکھوں کو دوچند کر دیا ہے۔ قابض اسرائیل خوراک اور پانی کی رسائی روک رہا ہے جبکہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک اس سفاکانہ موقف کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
اس سنگین صورتحال میں رفح گزرگاہ اب بھی مکمل طور پر بند ہے جس کی وجہ سے نہ تو انسانی امداد پہنچ پا رہی ہے اور نہ ہی زخمیوں اور مریضوں کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
منڈیوں کی زبوں حالی اور پے در پے بحران
انسانی ہمدردی کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سامان کی کمی کے اثرات مقامی بازاروں پر تیزی سے مرتب ہو رہے ہیں۔ بنیادی غذائی اشیاء بالخصوص آٹا، چاول اور خوردنی تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ ایندھن اور کھانا پکانے والی گیس کی قلت بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔
غزہ کے تاجر بتاتے ہیں کہ بعض اشیاء بازاروں سے بالکل غائب ہو چکی ہیں اور شہری اپنی جمع پونجی ختم ہونے اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے انتہائی محدود مقدار میں راشن خریدنے پر مجبور ہیں۔ امدادی تنظیموں کے اندازے بتاتے ہیں کہ غزہ کی پٹی کے بیس لاکھ سے زائد فلسطینی اپنی روزمرہ کی غذائی ضروریات کے لیے کسی نہ کسی طور امداد پر انحصار کرتے ہیں جس کی وجہ سے سپلائی میں ذرا سی بھی کمی براہ راست انسانی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔
ان تنظیموں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر یہ پابندیاں برقرار رہیں تو بدترین معاشی حالات، بے روزگاری اور غربت کے شکار اس خطے میں دوبارہ قحط جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔
اسی تناظر میں غزہ کی بیکریوں پر بھی تالے لگنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے کیونکہ آٹے اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں روٹی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق کئی علاقوں میں آٹے کا ذخیرہ صرف چند دنوں کے لیے باقی رہ گیا ہے جبکہ غزہ کے اکثر خاندانوں کے پاس زندہ رہنے کے لیے روٹی ہی واحد سہارا ہے۔
ایندھن کی قلت نے بنیادی خدمات کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ بجلی کی مسلسل بندش کے باعث ہسپتال، پانی صاف کرنے والے پلانٹ اور نکاسی آب کی تنصیبات جنریٹر چلانے کے لیے ایندھن کی محتاج ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تنصیبات بند ہوئیں تو صحت اور ماحول کی صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی اور گنجان آباد پناہ گاہوں میں وبائی امراض پھیلنے کے خطرات بڑھ جائیں گے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران پر حملے سے پیدا ہونے والی فوجی کشیدگی نے عالمی برادری اور میڈیا کی توجہ اس علاقائی محاذ آرائی کی طرف موڑ دی ہے جس سے غزہ کا انسانی بحران پس منظر میں چلا گیا ہے۔ عالمی طاقتوں کی اس جنگی صورتحال میں مصروفیت نے ان سیاسی کوششوں کو بھی کمزور کر دیا ہے جو امداد کی بحالی کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں۔
ایک بڑا انسانی المیہ قریب ہے
انسانی حقوق کی تنظیموں نے پکار پکار کر کہا ہے کہ غزہ میں امداد کی مسلسل کمی کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گزرگاہوں کو فوری طور پر کھولا جائے اور خوراک، ادویات اور ایندھن کی بلا روک ٹوک فراہمی یقینی بنائی جائے۔
اعداد و شمار کے مطابق غزہ کو روزانہ کم از کم 600 ٹرکوں کی ضرورت ہے لیکن فی الحال اس کا 40 فیصد بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ قابض اسرائیل کی نسل کشی کی مہم نے غزہ کی 81.5 فیصد آبادی کو غربت کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور انفراسٹرکچر و زراعت کی تباہی نے زندگی گزارنا ناممکن بنا دیا ہے۔
گذشتہ جنوری میں قابض حکومت نے میڈیسنز سن فرونٹیئرز، سیو دی چلڈرن اور آکسفیم جیسی 37 تنظیموں کو سکیورٹی کے بہانے کام بند کرنے کی دھمکی دی تھی تاہم ایک قانونی اپیل کے بعد عارضی طور پر انہیں کام جاری رکھنے کی اجازت ملی ہے۔ میڈیسنز سن فرونٹیئرز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام پانی، خوراک اور ادویات کی فراہمی میں جان بوجھ کر رکاوٹیں ڈال کر فلسطینیوں کو کٹھن حالات میں جینے پر مجبور کر رہے ہیں۔
علاقائی کشیدگی کے اس ماحول میں غزہ کے مکینوں کو ڈر ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو امداد کی مزید کمی انہیں قحط کے مہیب جبڑوں میں دھکیل دے گی۔