مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں القدس ایکشن کمیٹی کے رکن اور صحافی احمد الصفدی کو ان کے گھر سے گرفتار کرنے کے بعد مسجدِ اقصی سے بیدخل کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ قابض فوج نے الصفدی کے گھر پر دھاوا بولا اور انہیں گرفتار کر کے بیت المقدس کے قدیم شہر میں واقع القشلہ پولیس سینٹر منتقل کر دیا، جہاں انہیں مسجدِ اقصی سے بیدخلی کا فیصلہ تھما دیا گیا۔
القدس گورنری نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض حکام مسجدِ اقصی میں موجود فلسطینیوں اور بیت المقدس کی اہم شخصیات کے خلاف بیدخلی کے احکامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ان اقدامات کا حصہ ہے جن کا مقصد مسجدِ اقصی اور اس کے گرد و نواح میں فلسطینیوں کی موجودگی کو محدود کرنا ہے۔
یہ اقدامات اس مسلسل اسرائیلی پالیسی کے سیاق و سباق میں سامنے آئے ہیں جو سرگرم کارکنوں، مسجدِ اقصی میں قیام کرنے والوں اور بیت المقدس کی شخصیات کو مسجدِ اقصی اور قدیم شہر سے دور رکھنے کے احکامات پر مبنی ہے۔ یہ سب کچھ عبادت گزاروں کے داخلے پر سخت پابندیوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے، جبکہ قابض افواج کی حفاظت میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسجد پر دھاوؤں میں تیزی لائی جا رہی ہے، جس کا مقصد مسجدِ اقصی میں ایک نیا حقیقت پسندانہ ماحول مسلط کرنا ہے۔