غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے اس امر پر زور دیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے واہیات سکیورٹی حیلوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کی آڑ میں رفح گزرگاہ کی مسلسل بندش جنگ بندی معاہدے کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔
اپنےاخباری بیان میں حازم قاسم نے کہا کہ اس گزرگاہ کی بندش غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ظالمانہ محاصرے کو مزید سخت کرنے کی قابض اسرائیل کی بدنیتی کو ثابت کرتی ہے اور یہ ان وعدوں سے انحراف ہے جو ثالثوں بالخصوص برادر ملک مصر سے کیے گئے تھے۔
انہوں نے اس المناک صورتحال کی جانب اشارہ کیا کہ گزرگاہ کی مسلسل بندش کے باعث دسیوں ہزار زخمی سفر کرنے اور علاج معالجے کے اپنے فطری حق سے محروم ہیں، جس کے نتیجے میں اندرونِ ملک صحت کے نظام کی تباہی کے باعث بیرون ملک مناسب علاج نہ ملنے سے درجنوں زخمی دم توڑ رہے ہیں۔
حازم قاسم نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس گزرگاہ کو بند رکھنا ان تمام بین الاقوامی قوانین اور میثاق کی صریح خلاف ورزی ہے جو انسانوں کی نقل و حرکت اور اپنے وطن میں آنے جانے کی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے کے آغاز میں قابض اسرائیل کی اتھارٹی نے امریکہ کے دباؤ پر کرم ابو سالم گزرگاہ کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا تھا تاکہ غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے، تاہم رفح گزرگاہ سمیت دیگر تمام راستے بدستور بند رکھے گئے، حالانکہ رفح گزرگاہ غزہ کے محاصرہ زدہ باسیوں کے لیے آمد و رفت کا واحد اور بنیادی راستہ ہے۔
صہیونی اخبارات نے رپورٹ کیا ہے کہ قابض اسرائیل کے حکام نے اب تک سیاسی سطح پر اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فی الوقت میدانی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے۔
دوسری جانب غزہ کی پٹی میں شعبہ صحت کو شدید بحران کا سامنا ہے کیونکہ غزہ کی پٹی پر دو سال سے جاری جنگ کے دوران ادویات اور طبی سامان کی فراہمی پر پابندی عائد ہے اور قابض اسرائیل کی جانب سے ہسپتالوں کی وسیع پیمانے پر تباہی کے ساتھ ساتھ طبی عملے کو قتل اور گرفتار کرنے کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔
عالمی اداروں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق غزہ کا نظامِ صحت مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور فوری طبی امداد کی اشد ضرورت کے پیش نظر مریضوں کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔