• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 1 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

جوہری پروگرام پر ایران کا دوٹوک اعلان، واشنگٹن مذاکرات سے قبل پابندیاں مسترد

ایران نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ یورینیم افزودگی اس کا خودمختار حق ہے۔

جمعہ 10-04-2026
in خاص خبریں, عالمی خبریں
0
جوہری پروگرام پر ایران کا دوٹوک اعلان، واشنگٹن مذاکرات سے قبل پابندیاں مسترد
0
SHARES
30
VIEWS

تہران – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل یورینیم کی افزودگی کے پروگرام پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے اور اس حوالے سے امریکی و اسرائیلی مطالبات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

محمد اسلامی نے "ایسنا” نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ افزودگی کے پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے دشمنوں کے مطالبات محض وہم اور سراب ہیں جنہیں پیچھے چھوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ سمیت ایران پر ڈالے جانے والے تمام تر دباؤ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان کی ثالثی میں سیز فائر یا جنگ بندی کے انتظامات کے فریم ورک کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں، جس میں ایٹمی فائل ایجنڈے پر سرفہرست رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ واشنگٹن مذاکرات کے ذریعے وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وہ عسکری طور پر حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ اشارہ افزودگی کے پروگرام پر جاری ان اختلافات کی جانب تھا جو فریقین کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ بنے ہوئے ہیں۔

امریکہ اور مغربی ممالک تہران پر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں جبکہ ایران ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کا پروگرام خالصتاً پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور قابض اسرائیل نے گذشتہ 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران پر اس وقت جارحیت کی تھی جب دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات جاری تھے، جن میں واشنگٹن افزودگی کی سرگرمیاں روکنے اور اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔

جون سنہ 2025ء میں 12 دن تک جاری رہنے والی جارحیت کے دوران ایرانی ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت واشنگٹن اور تل ابیب نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں نے افزودگی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا ہے، تاہم اس کے باوجود اس پروگرام کے مستقبل پر جاری تنازع ختم نہیں ہو سکا ہے۔

Tags: Iran nuclear programIran sanctionsJCPOAMiddle East Diplomacynuclear dealnuclear policyTehran statementuranium enrichmentUS-Iran talksWashington negotiations
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.