مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ مغربی کنارے میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی سزا کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کو مزید سخت کرنے کے فاشسٹ صیہونی رجحان کے تناظر میں فلسطینی اور اسرائیلی حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے ہولناک انتباہ جاری کیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ قابض صیہونی فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر سزائے موت لاگو کرنے کے حوالے سے جاری کردہ نیا فوجی حکم نامہ خود صیہونی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے منظور کردہ قانون سے بھی کہیں زیادہ انتہا پسندانہ اور ظالمانہ قانونی نظام کی بنیاد رکھ رہا ہے، جس سے ایسے یکطرفہ فوجی ٹرائلز کا خطرہ بڑھ گیا ہے جو انصاف کی ادنیٰ ترین ضمانتوں سے بھی یکسر محروم ہیں۔
حقوقِ انسانی کی پانچ مقتدر تنظیموں جن میں "عدالہ” مرکز، "ڈاکٹرز فار ہیومن رائٹس”، "ہموکید”، "اسرائیل میں تشدد کے خلاف پبلک کمیٹی” اور "مسلک – گیشہ” فاؤنڈیشن شامل ہیں نے اس فوجی حکم نامے کو فوراً منسوخ کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اس ظالمانہ حکم نامے پر مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض صیہونی فوج کے کمانڈر نے سترہ مئی سنہ 2026ء کو دستخط کیے تھے تاکہ گذشتہ تیس مارچ کو کنیسٹ سے منظور کیے جانے والے نام نہاد "قانونِ سزائے موت” کو من مانے طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔
ان تنظیموں نے قابض حکام کو بھیجے گئے ایک ہنگامی مکتوب میں واضح کیا ہے کہ یہ نیا فوجی حکم نامہ خود اسرائیلی قانون کی حدود سے بھی خطرناک حد تک تجاوز کر گیا ہے۔ اس کے ذریعے ان جرائم کی تعریف کو مزید وسعت دے دی گئی ہے جن پر سزائے موت دی جا سکتی ہے اور جرم کے بنیادی عناصر کو ثابت کرنے کا پورا بوجھ الٹا مظلوم ملزم پر ڈال دیا گیا ہے، جس سے ایک "انتہائی ظالم اور شدید ترین انتہا پسندانہ” سزا کے نظام کا لامتناہی راستہ کھل گیا ہے۔
ان پانچ حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے کئی عرب ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر قانون کی منظوری کے فوراً بعد اس "قانونِ سزائے موت” کے خلاف اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی، جس میں اس قانون کو "غیر آئینی، امتیازی اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کے سراسر منافی” قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے صیہونی حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ اس پٹیشن پر اپنا ابتدائی جواب داخل کرے اور چوبیس مئی تک اس قانون کے نفاذ کو عارضی طور پر معطل کرنے کی درخواست پر پوزیشن واضح کرے۔
حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے مشترکہ بیان کے مطابق، یہ فوجی حکم نامہ سزائے موت کے دائرے میں آنے والے جرائم کے لیے انتہائی "مبہم، لچکدار اور سیاسی رنگ لیے ہوئے” تعریفیں شامل کرتا ہے۔ ان میں قتل کے ایسے مبینہ واقعات بھی شامل ہیں جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جائے کہ وہ "ریاستِ قابض اسرائیل کے وجود کے حق یا خطے میں فوجی کمانڈر کے اختیار کا انکار کرنے کے مقصد” سے کیے گئے ہیں۔ یہ ایسی صیاغت اور الفاظ ہیں جو خود اسرائیلی قوانین میں نام نہاد "دہشت گردانہ کارروائیوں” کی دی گئی تعریفوں سے بھی کہیں زیادہ وسیع اور مضحکہ خیز ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حکم نامہ صیہونی فوجی پراسیکیوشن (نیابتِ عامہ) کو ثبوت فراہم کرنے کے معاملے میں غیر معمولی اور استثنائی مراعات دیتا ہے۔ صیہونی درجہ بندی کے مطابق محض کسی ہتھیار کے استعمال یا ملزم کے کسی "غیر قانونی تنظیم” سے تعلق کے جھوٹے دعوے پر ہی یہ فرض کر لیا جائے گا کہ قتل کا یہ واقعہ سزائے موت کے مستحق جرم کے زمرے میں آتا ہے، اور پراسیکیوشن پر ان عناصر کو سائنسی یا حقیقی طور پر ثابت کرنے کی کوئی قانونی ذمہ داری نہیں ہوگی۔
تنظیموں نے اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے کہ یہ خود ساختہ مفروضے ایک منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں سے "انتہائی خطرناک انحراف” ہیں، بالخصوص ایسے سنگین مقدمات میں جن کا انجام انسانی جانوں کو سزائے موت کی شکل میں مٹانے پر ہو سکتا ہے۔
دنیا کا "سب سے زیادہ انتہا پسندانہ” قانون
انسانی حقوق کے اداروں کا ماننا ہے کہ ان نئی ترامیم کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے بھیانک نظام کو "وسیع اور گہرا” کرنا ہے، جو ایک ایسے قانون کے فریم ورک کے تحت کیا جا رہا ہے جسے دنیا میں سزائے موت کے "سب سے زیادہ ظالمانہ اور انتہا پسندانہ قوانین” میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ قانون خصوصی اور امتیازی طور پر صرف اور صرف فلسطینیوں پر لاگو کیا جاتا ہے اور اس کے تحت سزا پانے والے مظلوموں کو کسی بھی قسم کی معافی یا سزا میں تخفیف کے حق سے یکسر محروم کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ قانون ججز کے پینل کے اتفاقِ رائے کے بغیر بھی سزائے موت سنانے کی اجازت دیتا ہے اور حتمی فیصلے کے صدور کے محض 90 دنوں کے اندر سزا پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ تمام تر ہولناک اقدامات قابض اسرائیل کے ان فوجی عدالتوں کے نظام کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں جو "منصفانہ ٹرائل کے معیار کی منظم خلاف ورزیوں” اور بے گناہ قیدیوں پر بدترین تشدد و سفاکیت اور غیر انسانی سلوک کے لیے پوری دنیا میں بدنام ہیں۔
تنظیموں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فوجی حکم نامہ بین الاقوامی قوانین اور خود قابض ملک کے اپنے قوانین کی "کھلی خلاف ورزی” ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مقبوضہ علاقوں میں فوجی کمانڈر کے اختیارات کی مشروعیت صرف بین الاقوامی انسانی قوانین سے ماخوذ ہوتی ہے، اور وہ کسی بھی صورت مقبوضہ سرزمین پر اسرائیلی اندرونی قوانین کو بلاواسطہ یا بالواسطہ نافذ کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
حقوقِ انسانی کے اداروں نے اس فوجی حکم نامے کو سات دنوں کے اندر اندر منسوخ کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے اور مطالبات کو نظر انداز کیے جانے کی صورت میں صیہونی عدالتی راستے کا رخ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
یہ احتجاجی مکتوب نامور وکیل مونا حداد اور "عدالہ” مرکز کی لیگل ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سہاد بشارہ کی طرف سے دستخط کنندہ تمام انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے۔