(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) گلوبل صمود فلوٹیلا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ مارچ میں قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ظالمانہ محاصرے کو بحری اور بری راستوں سے توڑنے کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی امدادی تحریک کا آغاز کر رہا ہے۔ اس عظیم انسانی مہم میں دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک کے ہزاروں انسانی حقوق کے کارکن شرکت کریں گے۔
اس جرات مندانہ مہم کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب قابض اسرائیل سنہ 2025 کے گذشتہ 10 اکتوبر سے جاری جنگ بندی معاہدے کے انسانی پروٹوکول کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ خاص طور پر غزہ کی پٹی میں ایندھن، انسانی امداد اور ملبہ ہٹانے والی مشینری کی فراہمی سے متعلق شقوں پر عمل درآمد سے مسلسل انکاری ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یہ فلسطین کی حمایت میں تاریخ کی سب سے بڑی اور منظم انسانی امدادی کارروائی ہو گی۔
بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس اقدام کا باقاعدہ آغاز سنہ 2026 کے 29 مارچ کو ہو گا، جس میں ایک بحری بیڑا اور ایک انسانی امدادی قافلہ بیک وقت روانہ کیے جائیں گے۔ اس مشترکہ اقدام کا مقصد غزہ پر مسلط کردہ غیر انسانی ناکہ بندی کے حصار کو پاش پاش کرنا ہے۔
بیان کے مطابق اس تحریک میں 100 سے زائد ممالک کے ہزاروں رضاکار حصہ لیں گے۔ یہ مہم دراصل غزہ کی پٹی میں شہریوں کی زندگیوں کی تباہی، نسل کشی، سنگین محاصرے اور مسلط کردہ بھوک و افلاس جیسے جرائم کے خلاف ایک پرامن اور مربوط عالمی ردعمل ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدام گذشتہ تحریکوں کی طرح صرف سمندری سفر تک محدود نہیں بلکہ یہ محاصرے کے خاتمے اور غزہ میں انسانی تکالیف کے خاتمے کے لیے ایک وسیع عالمی بیداری کی علامت ہے۔
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس تحریک میں ایک ہزار سے زائد ڈاکٹرز، نرسیں اور طبی شعبے سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اساتذہ، انجینئرز، تعمیر نو کی ٹیمیں، اور جنگی جرائم و ماحولیاتی نسل کشی کی تحقیقات کرنے والے ماہرین بھی اس جامع بین الاقوامی کوشش کا حصہ ہیں تاکہ مظلوم فلسطینی عوام کی عملی مدد کی جا سکے۔
واضح رہے کہ سنہ 2023 کے 7 اکتوبر سے قابض اسرائیلی افواج نے امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی کے ساتھ غزہ کی پٹی میں بدترین نسل کشی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس دوران بین الاقوامی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے قتل و غارت، بھوک و افلاس، تباہی، جبری بے دخلی اور گرفتاریوں جیسی سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔
اس جاری نسل کشی کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 42 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ 11 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دشمن کی مسلط کردہ بھوک کی وجہ سے بھی بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔ قابض دشمن کی اس سفاکیت نے غزہ کے بیشتر شہروں اور علاقوں کو نقشے سے مٹا کر رکھ دیا ہے۔