• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 16 جنوری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

پورا خاندان شہید، زخمی محمد کی آخری آرزو نے سب کو رُلا دیا

اس کی خواہش غزہ میں جاری انسانی المیے کی گواہی بن گئی ہے۔

بدھ 07-01-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
پورا خاندان شہید، زخمی محمد کی آخری آرزو نے سب کو رُلا دیا
0
SHARES
208
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے لہولہان وجود میں ایک ایسا محلہ بھی ہے جہاں ملبے کے نیچے دبی چیخیں آج بھی فضا میں معلق ہیں۔ اسی برباد شہر کے ایک گوشے میں دس سالہ فلسطینی بچہ محمد ابو محسن اپنی خاموش آنکھوں سے دنیا کو دیکھتا ہے اور اپنی ٹوٹی ہوئی سانسوں میں ایک پوری قوم کا درد سموئے کھڑا ہے۔ صبرہ محلہ میں قابض اسرائیل کے سفاک حملے نے اس کے بچپن کو لمحوں میں راکھ بنا دیا۔ وہ اپنے خاندانی گھر کے ملبے تلے سے تنہا زندہ نکلا جبکہ اس کی ماں باپ اور تمام بہن بھائی ہمیشہ کے لیے شہادت کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ محمد کے حصے میں اگر کچھ آیا تو وہ درد تھا ،محرومی تھی اور ایسی معذوری جو عمر بھر اس کے ساتھ چمٹ گئی۔

اس بچے نے اپنی ایک آنکھ کھو دی۔ اس کی دونوں ٹانگیں شدید فریکچر کا شکار ہوئیں۔ اس کا ننھا جسم بیک وقت جسمانی اذیت اور روحانی صدمے کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو گیا۔ آج محمد غزہ کی تنگ گلیوں میں قید ایک ایسی زندگی گزار رہا ہے جہاں دوا خواب بن چکی ہے اور شفا ایک دور افتادہ امید۔ اس کی نگاہیں اس سرحد کی طرف اٹھتی ہیں جو بند ہے اور اس کے دل میں بس ایک آرزو ہے کہ اسے غزہ سے باہر علاج کے لیے جانے دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ چل سکے اور دونوں آنکھوں سے دنیا کو دیکھ سکے۔

محمد جب بولتا ہے تو اس کی آواز لرزتی ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس نے اپنا پورا خاندان ایک ہی لمحے میں کھو دیا۔ اس کی زخمی آنکھ مکمل طور پر اندھی ہو چکی ہے جبکہ دوسری آنکھ سے اسے ہر شے دھندلی اور غیر معمولی طور پر بڑی دکھائی دیتی ہے۔ وہ کسی عیش کا طالب نہیں۔ وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کا علاج ہو جائے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے اور اندھیرے سے نکل کر روشنی کو محسوس کر سکے۔ وہ دنیا کے ضمیر کو پکارتا ہے کہ اسے علاج کے لیے سفر کی اجازت دی جائے کیونکہ اس محصور غزہ میں اس کے لیے زندگی کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔

جسم کے زخم اور روح کی چیخیں

محمد کے چچا رامی ابو محسن نم آنکھوں کے ساتھ اس سانحے کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بمباری کے دوران محمد پانچویں منزل سے نیچے جا گرا جس کے نتیجے میں اس کی ٹانگوں میں خطرناک فریکچر ہوئے اور دھاتی پلیٹیں لگانا پڑیں۔ اس کے ساتھ اس کی آنکھ کو شدید نقصان پہنچا جس پر جراحی عمل کیا گیا مگر بینائی واپس نہ آ سکی۔ آج یہ بچہ اپنی روزمرہ زندگی کے معمولی کاموں میں بھی شدید اذیت جھیلتا ہے۔ بیت الخلا جانا اس کے لیے ایک آزمائش ہے۔ علاج کے لیے آنا جانا ایک مستقل عذاب ہے اور ہسپتال میں پٹیاں تبدیل کرانا اس کے زخموں کو بار بار تازہ کر دیتا ہے۔

رامی ابو محسن بتاتے ہیں کہ محمد شدید نفسیاتی صدمات کا شکار ہے۔ ڈراؤنے خواب اس کی نیند چھین لیتے ہیں اور وہ ہر لمحہ اپنے شہید خاندان کو یاد کرتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں طبی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور انسانی ضرورتوں کی کوئی پروا نہیں کی جاتی وہاں ایک ایسا بچہ زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے جس نے ایک ہی دن میں ماں کی آغوش بھی کھو دی اور باپ کا سایہ بھی۔ وہ آزاد دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری مداخلت کی جائے اور محمد جیسے زخمیوں کو علاج کے لیے باہر جانے دیا جائے ورنہ یہ زخم سست موت میں بدلتے جائیں گے۔

بند دروازے اور انتظار میں قید جانیں

غزہ پٹی میں حکومتی میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ نے اس صورتحال کو ایک ہمہ گیر انسانی المیہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رفح گذرگاہ کی مسلسل بندش مریضوں زخمیوں اور پورے طبی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق بائیس ہزار کے قریب مریض اور زخمی ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر غزہ سے باہر جا کر ایسے علاج اور آپریشن درکار ہیں جو مقامی سطح پر ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ غزہ کے اندر پانچ لاکھ سے زائد طبی اقدامات درکار ہیں جو تباہ حال ہسپتالوں کی سکت سے کہیں زیادہ ہیں۔

اسماعیل الثوابتہ نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل گذرگاہ کی بندش کو جان بوجھ کر اموات بڑھانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ثالثوں اور سیز فائر معاہدے کی ضمانت دینے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں سمتوں میں گذرگاہ کھلوانے کے لیے فوری دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ سے باہر پھنسے فلسطینیوں کی واپسی کے لیے اسی ہزار سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں جبکہ ہزاروں طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول یہ سب ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو بے دخل کرنا اور ان کی نقل و حرکت کو زنجیروں میں جکڑنا ہے۔

الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے کہا کہ سیز فائر کے اعلان کے باوجود طبی میدان میں کوئی حقیقی بہتری نہیں آئی۔ جو ادویات غزہ میں داخل ہو رہی ہیں وہ مجموعی ضرورت کا صرف بیس فیصد ہیں اور اکثر فوری ضرورت پوری کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیس ہزار سے زائد مریض سفر کے تمام مراحل مکمل کرنے کے باوجود باہر جانے کی اجازت نہ ملنے کے باعث محصور ہیں جس کے نتیجے میں اب تک بارہ سو کے قریب مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان میں بچے بھی شامل ہیں اور کینسر کے مریض بھی۔ یہ وہ قیمت ہے جو قابض اسرائیل کی بندش اور محاصرے کے باعث بے گناہ فلسطینی ادا کر رہے ہیں۔

نسل کشی کا نہ رکنے والا سلسلہ

قابض اسرائیل کی افواج نے سات اکتوبر سنہ 2023ء سے امریکہ اور یورپی حمایت کے سائے میں غزہ پٹی میں اجتماعی نسل کشی کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس نسل کشی میں قتل عام ،بھوک، تباہی، جبری بے دخلی اور گرفتاریاں سب شامل ہیں اور یہ سب عالمی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو روندتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔

اس سفاک مہم کے نتیجے میں دو لاکھ بیالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں جن کی اکثریت بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔ گیارہ ہزار سے زیادہ افراد لاپتا ہیں۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ قحط نے درجنوں جانیں نگل لی ہیں جن میں زیادہ تر بچے ہیں اور غزہ کے بیشتر شہر اور علاقے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔

قابض اسرائیلی فوج سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جو غزہ پٹی میں 10 اکتوبر سنہ 2023ء کو نافذ ہوا تھا۔ بمباری فائرنگ اور فلسطینی گھروں کی مسماری کے ذریعے یہ سفاکیت اب بھی جاری ہے اور غزہ کا ہر بچہ ہر لمحہ موت کے سائے میں سانس لے رہا ہے۔

Tags: #WarCrimesChildVictimCivilianSufferinggazaGazaWarGlobalConscienceHumanitarianCrisisHumanityHumanTragedyInnocentLivesLostFamilyMiddleEastConflictPalestinianChildrenPalestinianPainWarImpact
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.