رام اللہ- (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ شہر حیفہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی اسیر عماد راجح مصطفی سرحان جن کی عمر اڑتالیس برس تھی، قابض اسرائیل کے جلبوع جیل کے اندر شہادت پا گئے۔ وہ چوبیس سال سے زائد کا عرصہ قابض صہیونی عقوبت خانے میں گزار چکے تھے۔
قابض صہیونی عقوبت خانے کی نام نہاد انتظامیہ نے اتوار کی صبح عماد سرحان کی وفات کا اعلان کیا۔ وہ حیفہ کے محلہ وادی النسناس کے رہائشی تھے اور بیس جنوری سنہ 2002ء سے قید تھے۔
عماد سرحان کو سنہ 2002ء میں گرفتاری کے بعد دو ماہ سے زائد عرصے تک تفتیش کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد قابض اسرائیلی عدالت نے انہیں عمر قید اور مزید دس سال قید کی سزا سنائی۔ انہوں نے اپنی قید کا بیشتر حصہ تنہائی میں گزارا۔
اپنی قید کے برسوں کے دوران انہیں متعدد تادیبی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا جن میں سب سے نمایاں طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھنا تھا۔ اس میں چار سال کا مسلسل عرصہ بھی شامل ہے جو ان کے خلاف ایک خفیہ فائل کی موجودگی کے نام پر انہیں دیا گیا تھا اور ہر بار ان کی تنہائی کی سزا کی مدت میں تجدید کی جاتی تھی۔
عماد سرحان کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گذشتہ برسوں کے دوران ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں متواتر خبردار کیا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ وہ دل اور شریانوں کے دائمی امراض اور ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ دیگر صحت کے مسائل کا شکار ہیں جو مسلسل قید کی وجہ سے مزید سنگین ہو گئے تھے۔
سنہ 2022ء میں ان کے اہل خانہ نے اطلاع دی تھی کہ عماد سرحان کو انتہائی مشکل طبی حالات کا سامنا ہے اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت کے باعث انہیں وہیل چیئر کا استعمال کرنا پڑا تھا۔ اہل خانہ نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ انہیں طبی غفلت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں ضروری علاج فراہم نہیں کیا جا رہا۔
ان کے اہل خانہ نے ایک سے زائد بار انسانی حقوق اور عالمی اداروں سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کے لیے ضروری طبی دیکھ بھال فراہم کرنے اور ان کی قید کے مختلف سالوں کے دوران ان پر مسلط کی گئی تنہائی کی سزاؤں کو ختم کرنے کے لیے مداخلت کریں۔
عماد سرحان کی شہادت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب قابض صہیونی عقوبت خانے بدترین حراستی حالات سے گزر رہے ہیں۔ اسیران کی تنظیموں نے عقوبت خانوں کے اندر درجنوں اسیران کی شہادت کی دستاویزی شہادتیں ریکارڈ کی ہیں۔ اس دوران قابض حکام پر تشدد اور طبی غفلت برتنے اور بھوکا رکھنے کے علاوہ اسیران کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔