الخلیل – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی افواج نے یہودی تہواروں کے موقع پر الخلیل شہر میں الحرم الابراہیمی شریف کو مسلمان نمازیوں کے لیے بند کر دیا، جو ایک ہفتے کے اندر حرم کی دوسری بڑی بندش ہے، جبکہ پرانے شہر اور مسجد کے گردونواح میں عسکری اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
قابض فوج نے حرم ابراہیمی کے خادموں اور ملازمین کو دوپہر دو بجے سے ہی وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا، یہ بندش آج رات دس بجے تک جاری رہے گی، جبکہ اس بندش کے دوران الحرم کو یہودی عبادات اور تقریبات کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔
کچھ انتہائی خطرناک ہو رہا ہے
فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں مسلمان نمازیوں کے لیے حرم ابراہیمی کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حرم میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ”انتہائی خطرناک“ ہے، یہ مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ صریح اشتعال انگیزی اور عبادت کی آزادی اور مسجد ابراہیمی کے مذہبی و تاریخی مقام پر حملہ ہے۔
وزارت مذہبی امور نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض دشمن کے اقدامات کا ہدف نمازی اور الحرم کے ملازمین ہیں، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حرم ابراہیمی میں مسلسل نویں دن بھی اذان دینے پر پابندی عائد ہے، اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی مسجد تک رسائی کو بھی محدود کیا جا رہا ہے۔
وزارت اوقاف نے ان اقدامات کے تسلسل پر خبردار کرتے ہوئے عالمی برادری، انسانی حقوق اور مذہبی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد ابراہیمی کو درپیش صورتحال کے پیش نظر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، عبادت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں اور ان اقدامات کو روکیں جو اس مسجد اور اس تک پہنچنے اور اس میں نماز ادا کرنے کے مسلمانوں کے حق کو نشانہ بناتے ہیں۔
اذان پر پابندی کے نوے دن
یہ نئی بندش گذشتہ 21 جون سے حرم میں اذان دینے پر عائد مسلسل پابندی کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، جو ایک ایسا متواتر اقدام ہے جو اپنے نویں دن میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ پچھلے مہینوں کے دوران سینکڑوں بار اذان دینے پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔
فلسطینی اوقاف کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سنہ 2026ء کے دوران مسجد میں 57 بار، فروری میں 45 بار، مارچ میں 68 بار، اپریل میں 91 بار، مئی میں 74 بار، جون میں 84 بار اذان دینے پر پابندی لگائی گئی، جبکہ اگست کے مہینے میں اس کی تعداد 155 بار تک پہنچ گئی۔
یہ اعداد و شمارحرم میں اسلامی شعائر پر عائد پابندیوں کے ایک طویل ریکارڈ کا حصہ ہیں، جن میں مختلف اوقات میں نمازیوں کو وہاں تک پہنچنے سے روکنا، اس کے دروازے بند کرنا، اور ملازمین، خادموں اور نمازیوں کو اس کے بعض حصوں سے باہر نکالنا شامل ہے۔
چند دنوں کے اندر دوسری بندش
آج کی یہ بندش الخلیل شہر کے پرانے شہر میں عسکری اقدامات کو سخت کرنے اور یہودی تہواروں کے تناظر میں، گذشتہ بدھ اور جمعرات کو مسلمان نمازیوں کے لیے الحرم کی بندش کے بعد سامنے آئی ہے۔
یہودی تہواروں کے دوران عام طور پر مسجد ابراہیمی کو مسلمان نمازیوں کے لیے بند کر دیا جاتا ہے، جبکہ یہودی آباد کاروں کو اس کے اندر داخل ہونے اور عبادات اور تقریبات انجام دینے کی اجازت دی جاتی ہے، جو الخلیل شہر کی نمایاں ترین مساجد میں سے ایک تک مسلمانوں کی رسائی کو محدود کرتا ہے۔
سنہ 2026ء کے دوران مسلسل پامالیاں
رواں سال کے دوران یہ اقدامات صرف بندش اور اذان پر پابندی تک محدود نہیں رہے، بلکہ حرم ابراہیمی میں یہودی آباد کاروں کے بار بار دھاوے، مذہبی رسومات کی ادائیگی، نمازیوں اور ملازمین کو اس کے بعض حصوں سے باہر نکالنا، اس کے علاوہ دروازوں کو بند کرنا، نمازیوں کے داخلے میں تاخیر کرنا اور اوقاف کے متعدد ملازمین کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روکنا بھی دیکھا گیا۔
اسی طرح گذشتہ جون میں مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر معتز ابو سنینہ اور خادموں کے سربراہ ہمام ابو مرخیہ کو حراست میں لیا گیا اور ملازمین اور نمازیوں پر عائد پابندیوں کے تسلسل کے ساتھ انہیں 12 دنوں کے لیے مسجدمیں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
سنہ 2025ء کے دوران بھی مسجد ابراہیمی میں 769 بار اذان دینے پر پابندی ریکارڈ کی گئی، اس کے علاوہ اسرائیل ایران جنگ کے دوران 12 دن مسلسل اور یہودی تہواروں کے بہانے مزید 11 دن اس کی بندش کی گئی۔
مسجد ابراہیمی… سنہ 1994ء سے جاری مسلسل تقسیم
مسجد ابراہیمی سنہ 1994ء کے قتل عام کے بعد سے ایسے اقدامات کی زد میں ہے جن کی وجہ سے اسے مسلمان نمازیوں اور یہودی آباد کاروں کے درمیان مکانی اور زمانی اعتبار سے تقسیم کر دیا گیا تھا، جب یہودی آباد کار باروخ گولڈچاین نے حرم کے اندر 29 مسلمان نمازیوں کو شہید اور تقریباً 150 کو زخمی کر دیا تھا، یہاں تک کہ اس قتل عام کے بعد ہونے والے حملوں کے دوران شہداء کی تعداد بڑھ کر 50 ہو گئی۔
اس وقت سے لے کر اب تک نمازیوں کی نقل و حرکت پر وسیع پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ مسجد ابراہیمی کے بعض حصوں اور اس کے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور یہودی تہواروں کے دوران مسجد کی بندش اور مسلمانوں کو وہاں تک پہنچنے سے روکنا الحرم پر مسلط کردہ حقیقت کا ایک بار بار دہرایا جانے والا حصہ بن چکا ہے۔
موجودہ بندش، اذان پر پابندی کے نویں دن کے تسلسل کے ساتھ حرم ابراہیمی کو درپیش پابندیوں کے حجم کو اجاگر کرتی ہے، ایسے وقت میں جب فلسطینی وزارت اوقاف اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ مسجد اپنے تمام دالان اور صحنوں کے ساتھ ایک خالص اسلامی مقام ہے، اور وہ اس میں مسلمانوں کے پہنچنے اور اپنے شعائر ادا کرنے کے حق کی ضمانت کا پرزور مطالبہ کرتی ہے۔