• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 29 جنوری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

صہیونی جارحیت سے غزہ میں پانی اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی

قابض اسرائیل کی کارروائیوں نے پانی اور بنیادی ضروریات تک شہریوں کی رسائی بند کر دی۔

جمعرات 29-01-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
صہیونی جارحیت سے غزہ میں پانی اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جس وقت دنیا بھر کے میڈیا کیمروں کی نظریں صرف ملبے اور بمباری کے مناظر پر مرکوز ہیں، غزہ ایک اور ایسی جنگ کا سامنا کر رہا ہے جو تباہی میں کسی طور کم نہیں، مگر یہ خاموش اور سست رفتار ہے؛ یہ "پیاسا مارنے” (تعطیش) کی جنگ ہے۔

پانی کے کنوؤں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانا، پائپ لائنوں کے جال کو تباہ کرنا، ایندھن کی فراہمی روکنا اور مرمت و بحالی کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنا وہ حربے ہیں جن کے ذریعے انسانی زندگی کی اس بنیادی ضرورت کو اجتماعی سزا اور دباؤ کے آلے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ شمال میں شہر غزہ سے لے کر جنوب میں خان یونس کے علاقے مواصی میں لگے مہاجرین کے خیموں تک، ہر جگہ اس صہیونی پالیسی کے خونی نشانات ملتے ہیں، جہاں پیاس کو ایک "خفیہ ہتھیار” کے طور پر استعمال کر کے فلسطینیوں کی زندگیوں کے چراغ گل کیے جا رہے ہیں۔

ہوش ربا اعداد و شمار

غزہ میں جاری انسانی المیے اور نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں پانی کی دستیابی اس سطح تک گر چکی ہے جسے انسانی ضروریات کے لحاظ سے "موت کی لکیر” قرار دیا جا سکتا ہے۔ فلسطینی ادارہ شماریات اور واٹر اتھارٹی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں ایک فرد کے حصے میں یومیہ صرف 3 سے 5 لیٹر پانی آتا ہے۔ یہ مقدار تباہی کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف علاقوں میں الگ الگ ہے۔

یہ صورتحال عالمی ادارہ صحت کی ان سفارشات کی سنگین خلاف ورزی ہے جو ہنگامی حالات میں پینے، کھانا پکانے اور صفائی کے لیے کم از کم 15 لیٹر فی کس یومیہ کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ یاد رہے کہ نسل کشی کی اس جنگ سے قبل غزہ میں پانی کی اوسط فراہمی 80 سے 90 لیٹر یومیہ تھی، مگر قابض اسرائیل نے بنیادی ڈھانچے کو ملیا میٹ کر کے زندگی کی اس رمق کو بھی چھین لیا ہے۔

ایک پوشیدہ جنگ

بلدیہ غزہ کے ترجمان حسنی مہنا نے "مرکزاطلاعات فلسطین” کے نامہ نگار سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قابض اسرائیل غزہ شہر کے خلاف ایک پوشیدہ اور منظم جنگ لڑ رہا ہے جس کا ہدف شعبہ آب ہے۔ اس سفاکیت کا مقصد لاکھوں شہریوں کو پیاسا مار کر انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا ہے، جو کہ میڈیا کی نظروں سے اوجھل اجتماعی سزا کا بدترین نمونہ ہے۔

حسنی مہنا نے وضاحت کی کہ بلدیہ غزہ کے زیر انتظام 70 فیصد سے زائد کنویں براہ راست بمباری یا بجلی کے نیٹ ورک کی تباہی کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں۔ مزید برآں قابض دشمن نے باقی ماندہ کنوؤں کو چلانے کے لیے ایندھن کی فراہمی روک رکھی ہے، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے پانی کی مقدار میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت شہریوں کو ان کی اصل ضرورت کا صرف 20 سے 25 فیصد پانی مل رہا ہے۔ بعض محلوں میں کئی دنوں بعد محض چند گھنٹوں کے لیے پانی آتا ہے، جس نے معصوم بچوں اور مریضوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ قابض اسرائیل نے سپلائی کی مرکزی لائنوں کو بھی تباہ کر دیا ہے، جس سے نہ صرف پانی ضائع ہو رہا ہے بلکہ آلودہ پانی پائپوں میں شامل ہو کر سنگین طبی خطرات پیدا کر رہا ہے۔

بلدیہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ قابض دشمن ہماری ٹیموں کو مرمت کے لیے متاثرہ جگہوں پر جانے سے روکتا ہے اور مرمتی مشینری کو نشانہ بناتا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اس جنگی جرم سے باز رکھنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔

صورتحال کی سنگینی

دوسری جانب بلدیہ خان یونس کے شعبہ آب کے ڈائریکٹر سلامہ شراب نے بتایا کہ خان یونس کے مغرب میں واقع علاقہ مواصی، جہاں تقریبا 7 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں، پیاس کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ قابض اسرائیل نے خان یونس گورنری میں پانی کے 80 فیصد کنوؤں کو براہ راست یا بالواسطہ تباہ کر دیا ہے۔

سلامہ شراب کے مطابق کئی کنوؤں تک رسائی اس لیے ممکن نہیں کہ وہ نام نہاد "یلو زون” (پیلی پٹی) میں واقع ہیں جو قابض دشمن کے کنٹرول میں ہے، حالانکہ مواصی میں آبادی کے بے پناہ دباؤ کی وجہ سے ان کنوؤں کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے لرزہ خیز انکشاف کیا کہ بے گھر فلسطینی پانی کے ان چند قطروں پر گزارا کر رہے ہیں جو روزمرہ کی ضرورت کے لیے ناکافی ہیں۔ یہ پانی صرف پینے اور کھانا پکانے کے لیے بمشکل پورا ہوتا ہے جبکہ صفائی ستھرائی کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں اور بوڑھوں میں جلدی اور پیٹ کے امراض وبائی صورت اختیار کر رہے ہیں۔

سلامہ شراب نے متنبہ کیا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ایک ایسا انسانی المیہ جنم لے گا جس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پانی کے ذرائع کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ٹیکنیکل ٹیموں کو کنوؤں تک پہنچنے کی اجازت دی جائے۔

آخری بات ان لوگوں کے لیے ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ غزہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے؛ انہیں چاہیے کہ وہ ان خاموش مگر قاتل جنگوں کی حقیقت کو دیکھیں جو کیمروں کی چمک دمک کے بغیر فلسطینیوں کو "سلو پوائزننگ” کے ذریعے موت کی نیند سلا رہی ہیں۔ یہ ایک ایسی نسل کشی ہے جس میں گولی نہیں، بلکہ پیاس کو ہتھیار بنایا گیا ہے۔

Tags: ConflictgazaGazaUnderSiegeHumanitarianCrisisIsraeliAggressionIsraeliBlockadeMiddleEastPalestinianRightsWaterCrisis
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.