بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) لبنانی اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے جنوبی لبنان کے کچھ حصوں کو قابض ریاست کے علاقوں میں شامل کرنے والے نقشے کی اشاعت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل کی لبنانی سرزمین اور اس کے وسائل پر ہاتھ صاف کررہی ہے۔ انہوں نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو بند کرے۔
قابض اسرائیلی وزارت خارجہ نے ’ ایکس ‘پلیٹ فارم پر اپنے آفیشل پیج ’اسرائیل بالعربيہ‘ کے ذریعے ایک نقشہ شائع کیا، جس میں جنوبی لبنان کے وسیع حصوں کو واضح طور پر کاٹنے اور انہیں بصری طور پر ضم کرنے اور قابض ریاست کی سرحدوں کے اندر شامل کرنے کا عمل ظاہر ہوا۔
حزب اللہ نے اس نقشے کو اس حقیقت کی تصدیق قرار دیا کہ قابض اسرائیل کی لبنان، اس کی زمین، اس کے وسائل غصب کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل نے ان طمعوں کو کبھی نہیں چھوڑا اور نہ ہی کبھی چھوڑے گا۔
حزب اللہ کی نظر میں اسرائیل کا لبنانی اقتدار کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں داخل ہونا وقت حاصل کرنے اور زمین پر نئے حقائق مسلط کرنے کے ایک بے نقاب کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے لبنانی حکومت کو اس بات کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا جسے انہوں نے چھوٹ دینے کے راستے پر چلنے کا اصرار اور قابض اسرائیل کو مفت تحائف پیش کرنے کے مترادف قرار دیا۔
انہوں نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے راستے کا جامع جائزہ لے اور قابض اسرائیل کے ساتھ براہ راست ذلت آمیز اور طاقت کے پتوں سے عاری مذاکرات کو روکے، اور تمام سطحوں بشمول حکومت اور اعلیٰ دفاعی کونسل پر فوری طور پر حرکت میں آنے کی دعوت دی۔
حزب اللہ نے اس خطرناک معاملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے ہنگامی اجلاس بلانے کی دعوت دی، جن میں سب سے اہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری شکایت پیش کرنا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے تمام طبقات کے لبنانیوں پر زور دیا کہ وہ ان خطرات کے حجم کو سمجھیں جن کی طرف لبنانی اقتدار لبنان کو گھسیٹ رہا ہے، جب کہ قابض اسرائیل کے ساتھ چھوٹ دینے کا راستہ اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
حزب اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ قابض اسرائیل اور اس کی طمع کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششوں اور مؤقف کو متحد کیا جائے، اور لبنان کی خودمختاری اور اس کی زمین اور وسائل میں اس کے مکمل حقوق کا دفاع کیا جائے، اس بات پر تأکید کرتے ہوئے کہ قابض اسرائیل کی طمع صرف جنوبی لبنان تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پورے ملک کو نشانہ بناتی ہے۔
اس نقشے کی اشاعت روم میں امریکی سرپرستی میں جمعرات کے روز لبنانی اسرائیلی مذاکرات کے ساتویں دور کے اختتام کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، جہاں بات چیت میں چھبیس جون کو طے پانے والے فریم ورک فارمولے کے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق فائلوں کا احاطہ کیا گیا۔
فریم ورک فارمولے کا معاہدہ مقبوضہ لبنانی علاقوں سے قابض اسرائیل کے تدریجی انخلا کی تصدیق کرتا ہے، جس کا آغاز تجرباتی علاقوں میں ایک ماڈل کے نفاذ سے ہوتا ہے، جس کے بدلے میں لبنانی فوج وہاں تعینات ہوگی اور مسلح گروہوں کے ہتھیاروں کا خاتمہ کیا جائے گا، جو حزب اللہ کی طرف اشارہ ہے۔
قابض اسرائیل مذاکراتی راستے کے جاری رہنے کے باوجود لبنان پر اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے جس کا آغاز اس نے دو مارچ کو کیا تھا، لبنانی حکام کے مطابق اس کے نتیجے میں4233 افراد شہید اور12250زخمی ہوگئے تھے، اس کے علاوہ ایک ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے۔