رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکام نے رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے کوبر سے تعلق رکھنے والی خاتون اسیر رہ نما حنان البرغوثی کو الدامون ہسپتال سے رہا کر دیا ہے۔ ان کی یہ رہائی قابض صہیونی عقوبت خانوں میں 8 ماہ تک جاری رہنے والی بلاجواز انتظامی حراست کے بعد عمل میں آئی ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ قابض اسرائیل نے اسیر حنان البرغوثی کو انتظامی حراست کے کئی ماہ بعد رہا کیا ہے۔ انہیں گذشتہ تبادلہ اسیران کے معاہدے کے تحت رہا ہونے کے بعد دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ رہا ہونے والی حنان البرغوثی، عمر رسیدہ رہا ہونے والے اسیر نائل البرغوثی اور مرحوم قومی رہنما عمر البرغوثی (ابو عاصف) کی بہن ہیں۔
60 سالہ اسیر حنان البرغوثی کا تعلق رام اللہ کے نواحی علاقے کوبر سے ہے اور وہ ان فلسطینی خواتین اسیرات میں شامل ہیں جنہیں الدامون جیل میں قابض اسرائیل کے انتقامی اور سفاکانہ اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔ ان کی بار بار گرفتاری درحقیقت تبادلہ اسیران کے معاہدے کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اپنی ضعیف العمری کے باوجود حنان البرغوثی کو قابض دشمن کی بار بار گرفتاریوں کی پالیسی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ ان کی تیسری گرفتاری تھی۔ انہیں پہلی مرتبہ سنہ 2023ء میں 4 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسی سال نومبر میں تبادلہ اسیران کے معاہدے کے تحت دو ماہ کی قید کے بعد انہیں آزادی ملی تھی۔
بعد ازاں مارچ سنہ 2024ء میں انہیں دوبارہ نو ماہ کے لیے انتظامی حراست میں لے لیا گیا اور دسمبر سنہ 2024ء میں رہا کیا گیا۔ محض چند ماہ گزرنے کے بعد 30 ستمبر سنہ 2025ء کو انہیں تیسری بار پھر سے گرفتار کر لیا گیا۔
حنان البرغوثی کو ایک بار پھر انتظامی حراست کے سیاہ قانون کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ان کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد ان کی فائل کو انتظامی حراست میں تبدیل کر دیا گیا اور ان کے خلاف 3 ماہ اور 3 ہفتوں کی انتظامی قید کا حکم جاری کیا گیا۔
حنان البرغوثی کا تعلق ایک ایسے مجاہد خاندان سے ہے جس نے فلسطین کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ وہ عظیم قائد شہید ابو عاصف البرغوثی اور طویل ترین عرصہ قید کاٹنے والے نائل البرغوثی کی بہن ہیں۔
وہ اسیران اور شہداء کے خاندانوں کی مدد کرنے اور ان کے حقوق کے حق میں آواز بلند کرنے کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ آج وہ الدامون کے عقوبت خانے میں بغیر کسی الزام اور بغیر کسی قانونی جواز کے قابض دشمن کی سفاکیت کی بھاری قیمت چکا رہی ہیں، جو کہ ان کے بنیادی انسانی حقوق پر حملہ اور تمام بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔