دوحہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اٹلی کی جانب سے قابض اسرائیل کے ساتھ عسکری تعاون کا معاہدہ معطل کرنے کے اعلان کو درست سمت میں ایک قدم قرار دیا ہے۔
تحریک نے ایک پریس ریلیز میں اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے جس سے قابض اسرائیل کو خطے میں اپنی جارحانہ پالیسیاں جاری رکھنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔
حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں بالخصوص غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارہ اور لبنان میں جاری مظالم کے پیش نظر قابض اسرائیل کی عالمی تنہائی کے دائرے کو مزید وسیع کرے۔
مزید برآں حماس نے اٹلی اور دنیا کے دیگر ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسی طرح کے مزید اقدامات اٹھائیں اور قابض دشمن کو دی جانے والی ہر قسم کی حمایت یا سیاسی چھتری فراہم کرنا بند کریں اور فلسطین و لبنان میں جاری سفاکیت کو رکوانے کے لیے دباؤ بڑھائیں۔
واضح رہے کہ اطالوی حکومت نے آج مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیش نظر قابض اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس میں فوجی ساز و سامان کا تبادلہ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔