غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے ترجمان حازم قاسم نے غاصب اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے ان بیانات کو جن میں عرب ممالک پر مشتمل خطے میں ایک نئے محور کی تشکیل کی بات کی گئی ہے، عرب ریاستوں کی صریح توہین اور ان کے مفادات کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔
حازم قاسم نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایک نئے علاقائی محور کے بارے میں بنجمن نیتن یاھو کی گفتگو جس میں عرب ممالک کو شامل کرنے کا ذکر ہے، خطے میں عرب ممالک کی معتبر حیثیت اور مقام کو نظر انداز کرنے کی عکاسی کرتی ہے اور ان کے تزویراتی مفادات کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔
انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ یہ ریاست (غاصب اسرائیل) جو اس خطے اور اس کی تاریخ کے لیے ایک اجنبی وجود ہے، امریکی پشت پناہی کے ساتھ خطے کے محوروں کی قیادت کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اپنے ان مقاصد کو حاصل کر سکے جو لازمی طور پر عرب مفادات کے متصادم ہیں۔
حماس کے ترجمان نے توجہ دلائی کہ اس طرح کی تجاویز غزہ کی پٹی پر مسلط نسل کشی کی طویل جنگ کے دوران عرب نظام کے کمزور موقف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پیش کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ایسا علاقائی انتظام جو فلسطینی حقوق کو نظر انداز کرے گا، وہ خطے میں استحکام لانے میں کبھی معاون ثابت نہیں ہو سکتا۔