مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ نے اسرائیلی حکومت اور ‘شمالی مغربی کنارے کی بستیوں کی کونسل’ کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے پر خبردار کیا ہے جس میں 12 ہزار نئی آبادکاری یونٹس کی تعمیر اور بستیوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 8 ارب شیکل مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حماس نے اسے مغربی کنارے میں آباد کاری کی توسیع کی پالیسی میں ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔
منگل کو جاری ہونے والے ایک پریس بیان میں تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ مغربی کنارے پر کنٹرول حاصل کرنے اور اسے ضم کرنے کے منصوبوں کا حصہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صہیونی حکومت امریکی حمایت اور بین الاقوامی خاموشی سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ حماس نے نشاندہی کی کہ یہ اقدامات اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے منصوبوں سے ہم آہنگ ہیں۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات ایک متحدہ فلسطینی موقف کے متقاضی ہیں جو مزاحمت کو مضبوط بنانے اور آبادکاری کی پالیسیوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن ذرائع کو فعال کرنے پر مبنی ہو۔ جماعت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قابض دشمن کے تمام منصوبے فلسطینی عوام کے عزم و استقامت کے سامنے ناکام ہو جائیں گے۔
تحریک نے مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینیوں سے قابض فوج کے خلاف تصادم کو جاری رکھنے اور تیز کرنے کا مطالبہ کیا، اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ آباد کاری کی توسیع کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ حماس نے اسے فلسطینی حقوق پر حملہ اور فلسطینی کاز کو ختم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔