مقبوضہ النقب – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے مقبوضہ النقب سے تعلق رکھنے والے فلسطینی اسیر صابر الامیطِل کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، جو قابض صہیونی عقوبت خانے میں شہید ہو گئے۔
تحریک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شہید الامیطِل، قابض جیل انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی اسیران کے خلاف روا رکھی گئی تشدد کی پالیسی کے تحت ایک وحشیانہ گرفتاری اور سفاکانہ حملے کا نشانہ بننے کے بعد شہید ہوئے۔
’حماس‘ نے اسیران کو قید کے دوران محرومی، طبی غفلت، تذلیل، جسمانی تشدد اور سست موت کے گھاٹ اتارنے کی پالیسیوں کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا۔
تحریک نے اس بات کی تصدیق کی کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو نسل کشی کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ان اسرائیلی پالیسیوں کے نتیجے میں قومی اسیر تحریک کے 91 اسیران جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
اپنے بیان میں مزید کہا گیا: ’’یہ مجرمانہ پالیسیاں ہمارے بہادر اسیران کے عزم کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوں گی، اور ہم قابض اسرائیل، اس کی انتہا پسند دائیں بازو کی حکومت اور اس کی مجرم جیل انتظامیہ کو ہمارے ہیرو اسیران کی زندگیوں کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، خاص طور پر بیمار اور زخمی اسیران کے معاملے میں۔‘‘
حماس نے فلسطینی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اسیران کی حمایت میں سرگرمیوں کو تیز کریں اور ان کے معاملے کو ہر سطح پر زندہ رکھیں۔
جماعت نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدہ اقدامات کریں اور قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ اسیران کے خلاف بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ آج اتوار کو اس سے قبل یہ اطلاع دی گئی تھی کہ مقبوضہ النقب سے تعلق رکھنے والے اکیس سالہ نوجوان صابر الامیطِل، قابض اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی ’شاباک‘ کے ’شکما‘ جیل میں موجود سیل میں شہید ہو گئے ہیں۔
الامیطِل کو چار جون سنہ 2026ء کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ’شاباک‘ کی تحویل میں تفتیش کے عمل سے گزر رہے تھے، جبکہ اسیری کے پورے عرصے کے دوران انہیں اپنے وکیل سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
الامیطِل کو گرفتاری کے ایک دن بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے جج کو بتایا تھا کہ ان کی صحت ٹھیک ہے، جس کے بعد عدالت نے ان کے خلاف ’معقول‘ شبہات کی بنیاد پر گیارہ جون تک ان کی گرفتاری میں توسیع کی منظوری دی تھی۔
چودہ جون سنہ 2026ء کو مقبوضہ حیفا شہر سے تعلق رکھنے والے اڑتالیس سالہ فلسطینی اسیر عماد راجح مصطفیٰ سرحان، قابض اسرائیل کے ’جلبوع‘ جیل میں شہید ہو گئے تھے، جنہوں نے اپنی اسیری کے دوران 24 سال سے زائد کا عرصہ جیلوں میں گزارا تھا۔
اسیران اور سابقہ اسیران کے امور کی اتھارٹی کے مطابق، ان کے مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء کو نسل کشی کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک قابض جیلوں میں شہید ہونے والے یا گرفتاری سے متعلقہ حالات میں شہید ہونے والے اسیران کی تعداد 90 تک پہنچ گئی ہے۔
اسیر الامیطِل کی شہادت کے ساتھ، اسیران میڈیا آفس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 1967ء سے اب تک قومی اسیر تحریک کے شہید ہونے والے اسیران کی مجموعی تعداد 328 ہو گئی ہے۔