حماس کا شہید کمانڈر محمود ابو ہنود کی والدہ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
خلیل الحیہ نے شہید کمانڈر محمود ابو ہنود کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے قابض دشمن اور اس کے یہودی آباد کاروں کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کی قیادت اور انتفاضہ کی شمع روشن کرنے میں ان کے نمایاں کردار کو سراہا۔
غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ نےالقسام بریگیڈز کے شہید کمانڈر محمود ابو ہنود کی والدہ الحاجہ فاطمہ فوزی الشولی عرف ام احمد کے انتقال پر ابو ہنود خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
خلیل الحیہ نے شہید کمانڈر محمود ابو ہنود کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے قابض دشمن اور اس کے یہودی آباد کاروں کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کی قیادت اور انتفاضہ کی شمع روشن کرنے میں ان کے نمایاں کردار کو سراہا۔
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اپنے ایک بیان میں شہید محمود ابو ہنود کی زندگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمت کی تاریخ میں ان کے مقام اور کردار پر زور دیا۔
تحریک نے مرحومہ کے لیے وسیع مغفرت اور ان کے خاندان اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
الحاجہ فاطمہ الشولی المعروف ام احمد کا گذشتہ بدھ کے روز نابلس گورنری کے قصبے عصیرہ الشمالیہ میں صبر و استقامت سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد انتقال ہو گیا۔
شہید کمانڈر محمود ابو ہنود جو نابلس کے شمال میں واقع قصبے عصیرہ الشمالیہ میں پیدا ہوئے، نوے کی دہائی اور انتفاضہ الاقصیٰ کے اوائل میں مغربی کنارے میں القسام بریگیڈز کے نمایاں ترین کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔
ابو ہنود کو ’باز‘ یا ’سات جانوں والا‘ کے لقب سے جانا جاتا تھا، یہ لقب انہیں قابض فوج کے خصوصی دستوں کی جانب سے کیے گئے قاتلانہ حملوں اور محاصرے کی کارروائیوں سے زندہ بچ نکلنے کے بعد ملا، جن میں سب سے نمایاں سنہ 2000ء میں عصیرہ الشمالیہ میں ہونے والا مسلح تصادم تھا۔
ابو ہنود برسوں تک قابض اسرائیل کے مطلوب ترین افراد میں شامل رہے، وہ جلاوطنی اور گرفتاری سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے اور مزاحمتی کارروائیوں کی قیادت جاری رکھی، یہاں تک کہ تئیس نومبر سنہ 2001ء کو قابض دشمن نے نابلس کے قریب ان کی گاڑی کو فضائی حملے کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔
ابو ہنود خاندان کو فلسطینی عوام میں ایک نمایاں سماجی مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ ان خاندانوں میں سے ایک ہے جنہوں نے مزاحمتی جدوجہد میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔