دوحہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے امریکی ریاست ایریزونا کی جانب سے مغربی کنارے کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح بدل کر اسے یہودا و سامرہ قرار دینے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حماس نے اسے اسرائیلی بیانیے کی واضح حمایت اور تاریخی حقائق کے برعکس ایک خود ساختہ بیانیے کو اپنانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کی حمایت اور قابض ریاست کو مضبوط بنانے کے مترادف ہے بلکہ یہ فلسطینی قومی تشخص کو مسخ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش بھی ہے۔ تحریک کے مطابق یہ اصطلاحات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں کی شناخت کو مٹانا ہے۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ اصطلاحات بدلنے سے زمینی حقائق یا اس سرزمین کے اصل مالکان کا حق تبدیل نہیں ہو سکتا۔ مغربی کنارہ ایک خالص فلسطینی سرزمین ہے اور رہے گی۔
حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس غیر قانونی قدم کو مسترد کرے۔ تحریک نے اس پالیسی کے خلاف میڈیا سیاسی اور انسانی حقوق کی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صہیونی پراپیگنڈے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ایریزونا کا فیصلہ اور پس منظر
ریاست ایریزونا کی سینیٹ نے حال ہی میں ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام سرکاری دستاویزات میں مغربی کنارے کے بجائے یہودا و سامرہ کی اصطلاح استعمال کریں۔
یدیعوت احرونوت اخبار کے مطابق یہ اقدام جسے دو ماہ قبل ایوان نمائندگان نے منظور کیا تھا اور جس کی قانون ساز کونسل کے دونوں ایوانوں میں وسیع حمایت حاصل ہوئی تھی سامرہ ریجنل کونسل کے سربراہ یوسی داغان کی قیادت میں چلنے والے لابنگ گروپ کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ایریزونا میں بحث کے دوران لیونسٹن نے اپنے فیصلے کے پیچھے موجود نظریاتی اور تاریخی محرکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل گئے اور سامرہ کا دورہ کیا جہاں انہیں یہ محسوس ہوا کہ یہ اسرائیل کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کے لوگ، ثقافت اور تاریخ نے انہیں بہت متاثر کیا جس کے بعد انہوں نے اس قانون سازی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو ایریزونا کا یہ فیصلہ صرف ایک ریاست کی حد تک ہے۔ ریاست اس قدم کے ذریعے امریکی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے جس کا تعین واشنگٹن میں ہوتا ہے جہاں بین الاقوامی برادری اور امریکی انتظامیہ تاحال اس علاقے کو مغربی کنارے کے نام سے ہی جانتی ہے۔