مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت لحم کے جنوب میں واقع غوش عتصيون نامی یہودی مستوطنہ کے چوراہے پر اتوار کی شام ایک دلیرانہ فدائی کارروائی کے نتیجے میں چار اسرائیلی زخمی ہو گئے جبکہ کارروائی کرنے والے فلسطینی نوجوان قابض افواج کی اندھا دھند فائرنگ سے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
قابض اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ اس فدائی کارروائی کے نتیجے میں کئی اسرائیلی زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جبکہ اسرائیلی ایمبولینس سروس نجمہ داؤد الحمراء نے کم از کم چار افراد کے زخمی ہونے اور انہیں علاج کے لیے ہسپتالوں میں منتقل کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
قابض اسرائیل کے میڈیا نے ذکر کیا کہ ایمبولینس کے عملے کو مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجکر آٹھ منٹ پر اس کارروائی کی اطلاع ملی جس کے بعد وہ جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوئے اور زخمیوں کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
غوش عتصيون مستوطنہ کے علاقائی کونسل کے سربراہ یارون روزنتھل نے کہا کہ کارروائی کرنے والے نوجوان نے یہودی آباد کاروں کے ایک گروہ کو کچلنے کی کوشش کی اور اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ قابض افواج نے اس پر گولیاں چلائیں اور اسے کارروائی کی جگہ پر ہی شہید کر دیا۔
دوسری جانب اخبار یسرائیل ہیوم نے بتایا کہ فدائی کارروائی کرنے والے فلسطینی نوجوان کی عمر 30 سال تھی اور وہ الخلیل شہر کے رہائشی تھے۔
بعد ازاں سول افیئرز کی جنرل اتھارٹی نے فلسطینی وزارتِ صحت کو مطلع کیا کہ 30 سالہ نوجوان امجد جواد عبد الفتاح النتشہ بیت لحم شہر کے جنوب میں واقع عتصيون چوراہے پر قابض اسرائیل کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے ہیں، جبکہ غاصب اسرائیلی حکام کی طرف سے ان کا جسدِ خاکی اب بھی تحویل میں رکھا گیا ہے۔
یہ فدائی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے مغربی کنارے میں مسلسل عسکری کشیدگی بڑھائی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی سخت فوجی اقدامات اور درجنوں فوجی چوکیوں و راستوں کو بند کیا جا رہا ہے، خاص طور پر مغربی کنارے کے جنوبی حصے میں۔ جب سے غزہ کی پٹی پر نسل کشی اور جنگ شروع ہوئی ہے، قابض فوج نے مغربی کنارے کے شہروں اور قصبوں میں اپنی عسکری کارروائیوں، چھاپوں اور گرفتاریوں کو تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ فوجی چوکیاں مستقل ناکہ بندی کے مراکز میں تبدیل ہو چکی ہیں جو گورنریوں کے درمیان فلسطینیوں کی نقل و حرکت میں شدید رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔
مغربی کنارے میں الخلیل گورنری کو خاص طور پر اہم اور ذیلی چوکیوں کی بار بار بندش کا سامنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ بیت لحم کے قصبوں کے مداخل اور غوش عتصيون کی یہودی کالونیوں کے مجمع کے ارد گرد سخت ترین فوجی پابندیاں عائد ہیں، جو مظلوم فلسطینی باسیوں کی مشکلات کو مزید بڑھاتی ہیں اور ان کی نقل و حرکت کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہیں۔