• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 12 جون 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر

مشرقی یورپ سے لے کر بحیرہ احمر تک پھیلا ہوا سٹریٹجک نقشہ اب نفسیاتی، عسکری، اقتصادی اور سفارتی طور پر ایک دوسرے سے جڑ چکا ہے۔

جمعہ 12-06-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر
0
SHARES
0
VIEWS

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) گزشتہ راتوں میں سے ایک رات ایسی بھی گزری کہ جب خطہ بیک وقت آگ سے سلگ اٹھا۔جون کے پہلے عشرے کی راتوں میں ۱10 اور 11 جون کی درمیان رات ایک ایسی خوفناک رات کا منظر پیش کر رہی تھی کہ جب مغربی ایشیاء اور یوریشیا جل رہے تھے۔ یہ رات ان دونوں علاقوںکی جدید تاریخ کی خطرناک ترین اور غیر معمولی ترین راتوں میں سے ایک تھی۔اس رات میں ہونے والے مختلف واقعات نے ثابت کیا کہ دنیا کو ایک تیسری عالمی جنگ کا سامنا ہے۔چاہے اس جنگ کے خد وخال ابھی محدود ہیں لیکن آخر میں ایسا ہی لگتا ہے کہ تیسری عالمی جنگ دنیا کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔

10 اور 11 جون کی درمیانی رات کو دنیا نے بیک وقت ایک ایسی عسکری اور سٹریٹجک آتش فشاں کو پھٹتے دیکھا جس نے عالمی سیاست کے پرانے اصولوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض چند الگ الگ ممالک کے درمیان جھڑپیں نہیں تھیں، بلکہ ایک ایسا سٹریٹجک طوفان تھا جس نے ثابت کیا کہ اب علاقائی جنگوں کو کسی ایک جغرافیائی حد تک محدود رکھنا ممکن نہیں رہا۔

مشرقی یورپ سے لے کر بحیرہ احمر تک پھیلا ہوا سٹریٹجک نقشہ اب نفسیاتی، عسکری، اقتصادی اور سفارتی طور پر ایک دوسرے سے جڑ چکا ہے۔ دہائیوں بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دنیا کی تمام بڑی علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں سکڑتی ہوئی سفارتی گنجائش، گرتی ہوئی معیشت اور بے قابو عسکری تناؤ کے سائے میں بیک وقت میدانِ جنگ میں اتر آئی ہیں۔

جس عسکری آتش فشاں کے پھٹنے کی بات کی جا رہی ہے آخر یہ کیا ہے ؟ جون کی 10 اور 11 کی درمیان رات کے وہ ہولناک واقعات ہیں کہ جن کی ترتیب کچھ اس طرح رہی کہ جس نے عالمی سٹریٹجک اکھاڑے کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا۔ ایران امریکہ براہِ راست تصادم جاری رہا اور امریکہ نے ایران کے خلاف جارحانہ فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

غاصب صیہونی گینگ اسرائیل اور مزاحمتی بلاک کے درمیان بھی یہ رات سکون کی رات نہیں تھی۔غاصب اسرائیل نے ایک طرف لبنان اور شام کے اندر شدید بمباری کی، تو دوسری طرف اسے لبنان کی حزب اللہ کے خوفناک میزائل حملوں اور یمن کی مسلح افواج کے دور رس حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح یمن پر نئی بمباری کی گئی اور یمنی محاذ پر جہاں اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا، وہاں سعودی عرب کی جانب سے بھی یمن کے بعض حصوں پر فضائی سٹرائیکس کی گئیں۔یعنی یمن نے اسرائیل کو نشانہ بنایا تو سعودی عرب نے یمن کو نشانہ بنا کر ثابت کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہے۔

اسی طرح ایک طویل عرصہ سے جاری پاک افغان سرحدکا تنازعہ بھی اس رات کے اہم واقعات کا حصہ بنا۔ پاکستان نے افغان سرزمین کے اندر دہشت گرد عناصر کے خلاف مخصوص عسکری کارروائیاں کیں، جبکہ دوسری طرف ترکیہ نے عراق کے اندر کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔

روس اور یوکرین جنگ کا پھیلاؤ بھی جاری ہے اور اسی رات غرب ایشیاء میں اٹھنے والے اس طوفان کے ساتھ ہی مشرقی یورپ میں یوکرینی ڈرونز نے روس کی گہرائی میں وار کیا، جس کے جواب میں روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر تباہ کن میزائل داغے۔اس طرح اس رات کو دنیا کے متعد دعلاقے جنگ کے بادل میں لپٹے رہے اور سلگتے رہے۔

اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم اور سٹریٹجک تبدیلی ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست عسکری ٹکراؤ ہے۔ اب تک دونوں ممالک کسی نہ کسی طرح بالواسطہ لڑائیوں تک محدود تھے، لیکن اس مرتبہ ایران نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے خلیجی ممالک (بحرین، کویت، امارات) میں موجود امریکی اڈوں کو براہِ راست ہٹ کیا۔

خلیج فارس، بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب دنیا کی معاشی شہ رگ ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو بحرِ ہند اور بحیرہ روم تک کا پورا تجارتی راستہ بند ہو جائے گا، جس سے دنیا بھر کی معاشی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ جائیں گی۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب کسی یکطرفہ جارحیت پر خاموش نہیں بیٹھے گا، بلکہ اپنے قومی مفادات کے لیے خلیج سے باہر نکل کر بھی وار کر سکتا ہے۔یہ رات ایران کے اسی اعلان کی رات تھی جس میں ایران نے براہ راست امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور بتا دیا کہ خطے میں امریکہ کی موجودگی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

دوسری طرف اگر ہم غاصب صیہونی گینگ اسرائیل کی بات کریں تو ان بیک وقت ہونے والے حملوں نے اسرائیل کو ایک ایسے اسٹریٹجک چنگل میں جکڑ دیا ہے جس سے نکلنا اس کے لیے ناممکن نظر آ رہا ہے۔ اسرائیل اب تین اطراف سے محاصرے میں ہے۔

پہلا محاصرہ یمنی محاذ پر ہے کہ جہاں بحیرہ احمر کی موثر ناکہ بندی جس نے اسرائیلی جہاز رانی کو مفلوج کر دیا ہے۔دوسرا محاذ جس نے غاصب صیہونی گینگ اسرائیل کو جکڑ رکھا ہے وہ لبنانی محاذہے یعنی لبنان کی حزب اللہ کے روزانہ کے میزائل حملے جنہوں نے شمالی اسرائیل کو خالی کرنے پر مجبور کر دیا۔تیسرا محاذ ایرانی محاذ ہے کہ تہران کی جانب سے براہِ راست ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال جو کہ غاصب صیہونی گینگ اسرائیل کے دفاعی نظاموں کے کی بے بسی کامذاق بھی اڑا رہا ہے۔

موجودہ صورتحال نے واشنگٹن کو بھی سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔ امریکی پینٹاگون کے اپنے دفاعی جائزے بتاتے ہیں کہ طویل جنگ کی صورت میں امریکہ کے پاس مخصوص اہم گولہ بارود (جیسے ٹوما ہاک کروز میزائل) کے ذخائر اس دہائی کے آخر تک بھی بحال ہونا مشکل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی انتظامیہ پسِ پردہ اسرائیل پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ جنگ بندی قبول کرے، کیونکہ ایک وسیع علاقائی جنگ خود امریکی معیشت اور سیاست کو لے ڈوبے گی۔

خلاصہ کلام یہ ہےکہ 10 اور 11 جون کی درمیانی رات کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب بحران الگ الگ نہیں رہے۔ یوکرین کی جنگ، غرب ایشیاءکا تناؤ اور پاک افغان سرحد کی کشیدگی اب ایک ہی وسیع جیو پولیٹیکل طوفان کا حصہ بن چکے ہیں۔ایران اور اس کے اتحادی مزاحمتی بلاک اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کے حریفوں کی سب سے بڑی کمزوری طویل جنگ کی صورت میں معیشت اور عوامی برداشت کا جواب دے جانا ہے۔ اگر عالمی طاقتوں نے فوری طور پر نیتن یاہو حکومت اور خطے میں موجود دیگر جارح قوتوں کو لگام نہ دی، تو یہ نامکمل اور عارضی جنگیں ایک ایسے عالمی حادثے میں تبدیل ہو سکتی ہیں جس پر قابو پانا پھر کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔

Tags: ConflictDiplomacyGeopoliticsglobal tensionsInternational Crisisinternational relationssecurity situationwar fearsworld newsWorld War III
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.