(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کے سسکتے انسانوں کے لیے دھڑکتے دلوں کے ساتھ آگے بڑھنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے پامال لٹے ہوئے مسافروں نے جب اپنی زبانیں کھولیں، تو ایسے ہلا کر رکھ دینے والے دردناک حقائق سامنے آئے جنہوں نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔ یہ داستانیں قابض اسرائیلی افواج کے ان لرزہ خیز اور وحشیانہ مظالم کی گواہ ہیں جن میں وہ جنسی درندگی اور عصمت دری بھی شامل ہے جس کا رونا قابض صہیونی عقوبت خانوں سے رہا ہونے والے مظلوم فلسطینی اسیران ایک عرصے سے رو رہے ہیں، مگر ضمیرِ انسانی سے عاری اس بے حس دنیا نے ہمیشہ کی طرح ان کی آہوں کو پسِ پشت ڈال دیا۔
یورپی یکجہتی کارکنوں نے اپنے دلوں پر لگے گہرے زخموں اور جسموں پر ڈھائے جانے والے ہولناک مظالم کی تفصیلی بپتا کو دستاویزی شکل دی ہے۔ یہ وہ سنگین ستم ہیں جن کا شکار وہ اس وقت بنے جب گذشتہ ہفتے، جب وہ انسانیت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے غزہ کی پٹی کی طرف گامزن تھے، تو بین الاقوامی سمندر کی بے رحم لہروں پر قابض صیہونی لٹیروں نے ان کی کشتیوں کا راستہ روکا اور انہیں اسیر کر لیا۔
شرمناک جنسی تجاوزات کی دستاویز سازی اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے قانونی اقدامات
میڈیا کے سامنے آنے والے ان زخمی دلوں کے بیانات نے حراست کے ان تاریک اور روح فرسا ایام کی ایک ایسی بھیانک تصویر کھینچی ہے جو ذلت، رسوائی اور اذیت کی انتہا ہے۔ کئی دنوں پر محیط ان ہولناک راتوں میں ان پر جسمانی تشدد، جنسی تذلیل اور نفسیاتی ٹارچر کے وہ تازیانے برسائے گئے جنہیں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔
ان لرزہ خیز بیانات کے منظرِ عام پر آتے ہی فلوٹیلا کے منتظمین نے بھرائی ہوئی آواز میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ان سفاک بحری جہازوں پر زیرِ حراست پرامن انسانوں کے ساتھ ہونے والی جنسی درندگی اور ریپ کے کم از کم 15 بھیانک ترین واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ انہوں نے خون کے آنسو رلاتے اس سچ کی بھی تصدیق کی کہ صیہونی قید سے رہائی پاتے ہی ان مظلوم متاثرین کی ایک بڑی تعداد کو جسم و روح کے گہرے زخموں کے علاج کے لیے ہسپتالوں میں منتقل کرنا پڑا۔
فلوٹیلا کی ایک نڈر یکجہتی کارکن مریم حدجال نے خود پر ٹوٹنے والی قیامت اور جنسی حملے کی داستان سناتے ہوئے نم آلود آنکھوں کے ساتھ تصدیق کی کہ وحشی صیہونی درندوں نے زبردستی ان کے تن سے کپڑے نوچ ڈالے، وہ مسلسل ان کے جسم کو ہوس کا نشانہ بناتے رہے اور اس دوران ان کے سر پر بے رحمی سے پے در پے وار کرتے رہے۔
انسانی حقوق کے یورو میڈیٹرینین مانیٹر کے سربراہ رامی عبدو نے تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ بتایا کہ فلوٹیلا کے کارکنوں کے ایسے 12 مستند بیانات ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں جو قابض افواج کے ہاتھوں ہونے والے اس وحشیانہ تشدد اور شرمناک جنسی تجاوزات کی ہولناک گواہی دیتے ہیں۔
قابض اسرائیل کے ظلم و ستم کا پردہ چاک کرتے ہوئے عرب حقوقی مرکز "عدالہ” نے بتایا کہ ان کی دفاعی ٹیم نے فلوٹیلا میں شامل ان سینکڑوں مظلوموں کو قانونی امداد فراہم کی جنہیں بعد میں رہا کیا گیا، اور ان سب کی زبان پر صیہونی جلادوں کے بدترین جسمانی تشدد، جنسی تذلیل اور روح کو گھائل کر دینے والے زخموں کا ماتم تھا۔
اس حقوقی مرکز نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قانونی ٹیم کے پاس ایسے لاتعداد بیانات کا ڈھیر لگ چکا ہے جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ صیہونی حکام اب انسانیت کے سفیر بن کر آنے والے مرد اور خواتین کارکنوں کو دانستہ طور پر بدترین جسمانی اور جنسی حملوں کا نشانہ بنا کر ظلم کا ایک نیا اور شرمناک باب رقم کر رہے ہیں۔
لوہے کے عائم عقوبت خانوں کے اندر سسکتی انسانیت
فرانسیسی یکجہتی کارکن صبرینا عزیزی نے سمندر کی لہروں پر بنے ایک تیرتے ہوئے جہنم کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ قابض صیہونیوں نے انسانیت کے ان خادموں کو فوجی جہازوں پر منتقل کرتے ہی پہلے لمحے سے وحشیانہ تشدد کا ناچ شروع کر دیا تھا۔
قابض جلادوں نے ان نہتے قیدیوں کو تذلیل کے ساتھ زمین پر انتہائی تکلیف دہ حالت میں بیٹھنے پر مجبور کیا، ان پر لاتیں اور گھونسے برسائے گئے، ان کی عزتِ نفس کو پامال کیا گیا، اور پھر ان کی ذاتی دستاویزات چھین کر انہیں لوہے کے ان تپتے ہوئے بند کنٹینروں میں ٹھونس دیا گیا جنہیں عارضی عقوبت خانے بنایا گیا تھا۔
انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 185 بے قصور انسانوں کو تڑپا تڑپا کر مختلف قسم کے ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ انہوں نے خود پر گزرنے والی قیامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گردن پر بغیر کسی طبی ضرورت یا قانونی جواز کے ایک نامعلوم، زہریلا انجکشن لگایا گیا۔
مہم میں شامل ڈاکٹروں کے دل دوز بیانات نے بھی اس سچائی پر مہرِ تصدیق ثبت کی، جنہوں نے قیدیوں کے جسموں پر ہڈیوں کے ٹوٹنے، گہرے زخموں، سر کی چوٹوں اور الیکٹرک شاک (بجلی کے جھٹکے) دیے جانے کے نشانات کو اپنے مروجہ ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے۔
ڈاکٹروں نے حسرت کے ساتھ بتایا کہ بیرکوں میں گنجائش سے زیادہ انسانوں کو بھیڑوں بکریوں کی طرح ٹھونسا گیا تھا، جہاں انہیں نیند، غذا اور پانی کی ایک ایک بوند سے محروم رکھا گیا۔ ان بے بس انسانوں کی نیندیں اڑانے کے لیے صیہونی جلاد جان بوجھ کر رات بھر کان پھاڑنے والا شور مچاتے اور آنکھوں کو اندھا کر دینے والی تیز ترین لائٹیں ان کے چہروں پر مارتے تھے۔
منتقلی اور حراست کے دوران لامتناہی اذیت کا سفر
مظلوموں کی زبانوں سے نکلنے والے بیانات کے مطابق، ان پر ٹوٹنے والی یہ قیامت یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ لامتناہی ستم اس وقت بھی جاری رہا جب ان یکجہتی کارکنوں کو اشدود بندرگاہ کی طرف منتقل کیا جا رہا تھا۔
صبرینا عزیزی نے اس ہولناک منظر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پلاسٹک کی سخت ہتھکڑیوں میں جکڑ کر زمین پر بے دردی سے گھسیٹا گیا، جبکہ فضا عورتوں اور مردوں کی دل دوز چیخوں اور سسکیوں سے گونج رہی تھی، اور ان اذیتوں کو نہ سہتے ہوئے ایک معصوم خاتون تو وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑی۔
انہوں نے بھرائی ہوئی اور کانپتی آواز میں کہا کہ اس بھیانک ترین تجربے نے میرے دل و دماغ میں قابض اسرائیلی عقوبت خانوں کے اندھیروں میں سسکنے والے مظلوم فلسطینی اسیران کے مصائب کا ایک نیا نقش بٹھا دیا ہے، کیونکہ ہم یکجہتی کارکنوں نے جس ظلم کا ذائقہ چکھا ہے وہ تو فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے صیہونی مظالم کے اس سمندر کا محض ایک قطرہ ہے۔
ایک اور جرات مند یکجہتی کارکن فوزی الشحی نے بھی اس بھیانک سفر کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ انہیں جن جہازوں میں منتقل کیا گیا وہ جہاز نہیں بلکہ "شرم کے تیرتے ہوئے دھبے” تھے، جہاں جسم اور روح کو کچلنے کا یہ صیہونی کھیل مسلسل جاری رہا۔
انہوں نے بھوک اور پیاس کی لرزہ خیز داستان سناتے ہوئے کہا کہ وہ پچاس گھنٹوں سے زیادہ وقت تک پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے رہے، اور کھلے میدانوں میں ربڑ کی گولیوں کے خوف، صوتی بموں کی گھن گرج اور جگہ کی شدید تنگی کے باعث انہیں پوری رات ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر گزارنی پڑی۔
انہوں نے تڑپتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ان پرامن انسانوں کو تپتے ہوئے سورج کی آگ کے نیچے گھنٹوں گھٹنوں کے بل بٹھا کر ذلیل کیا گیا، اور انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے کچھ ساتھیوں کے جسموں پر صیہونی فوجی کتوں کے کاٹنے کے خون آلود نشانات دیکھے۔
انہوں نے درد بھرے لہجے میں کہا کہ اس کے بعد انہیں لوہے کے بند ٹرکوں میں بند کیا گیا جہاں پیاس اور شدید نقاہت کے باوجود ہیٹر چلا کر درجہ حرارت کو آگ کی طرح دہکا دیا گیا تھا، یہاں تک کہ کچھ ساتھیوں کو یقین ہو گیا تھا کہ اب ان کا دم نکل جائے گا اور موت ہی انہیں اس جہنم سے نجات دلائے گی۔
منتظمین نے دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے بتایا کہ اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں تقریباً پچاس کشتیوں پر ڈاکا ڈالا اور قریباً 430 ان یکجہتی کارکنوں اور رضاکاروں کو اغوا کیا جو صرف اور صرف غزہ کی پٹی کے معصوم اور بھوکے بچوں کے لیے انسانی امداد کا مرہم لے کر جا رہے تھے۔
لیکن قابض اسرائیل کے لیے جنسی وحشی گری، تذلیل اور ریپ کے ان خونی ہتھکنڈوں کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے؛ گذشتہ دو سالوں کے دوران صیہونی چنگل میں پھنسنے والے درجنوں فلسطینی اسیران اور خاص طور پر مظلوم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے اپنے اغوا کے دوران ان لرزہ خیز اور روح فرسا مظالم کا نشانہ بننے کی داستانیں خون کے آنسوؤں سے لکھی ہیں۔
یورپی ایوانوں میں ارتعاش اور کڑے احتساب کے مطالبات
اس سفاکیت کے خلاف اب بین الاقوامی سطح پر بھی ایک کہرام مچ گیا ہے؛ جرمنی نے ان ہولناک الزامات کو شدید ترین قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے فوری اور جامع جواب طلب کیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب متعدد یورپی کارکن شدید زخمی اور لٹے پٹے حال میں یورپ پہنچے ہیں اور ہسپتالوں میں ان کا علاج جاری ہے۔ ادھر اٹلی میں، روم کے پبلک پراسیکیوٹر نے ان انسانیت سوز جرائم پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جن میں اغوا، بدترین ٹارچر اور جنسی تجاوزات جیسے سنگین ترین مقدمات شامل ہیں، اور آنے والے دنوں میں صیہونی درندگی کا شکار ہونے والے متاثرین کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔
یہ رونما ہونے والے واقعات اب قابض صیہونی حکام کے گرد قانونی اور سیاسی گھیرا تنگ کر رہے ہیں، کیونکہ اب عالمی سطح پر ان سنگین خلاف ورزیوں کی ایک آزاد، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرانے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی دھجیاں اڑانے والے صیہونی مجرموں کو ان کے عبرت ناک انجام تک پہنچانے کے مطالبات روز بروز ایک طوفان کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔