غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کے قبائل، عشائر اور اصلاحی کمیٹیوں نے ان عناصر کو یکسر مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے جنہیں انہوں نے قابض اسرائیل سے وابستہ ملیشیاؤں میں سرگرم ایک "کرائے کا اور چھوتا ہوا طبقہ” قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مظہر سماجی طور پر ناقابل قبول ہے اور قومی و دینی اقدار سے کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔
قبائل نے ایک پریس بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے المناک انسانی حالات کے سائے میں قضیہ فلسطین اپنے مشکل ترین اور خطرناک ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ قابض اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون سماجی تانے بانے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بیان میں ان فلسطینی خاندانوں کے موقف کو سراہا گیا ہے جنہوں نے ان گروہوں میں شامل ہونے والے افراد سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور ان کی قبائلی پشت پناہی ختم کر دی ہے۔ قبائل نے اس نظریے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسی روش کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
بیان میں اس امر کی جانب اشارہ کیا گیا کہ "توبہ” کے خواہش مند افراد کے حالات کی درستی کے لیے قبائل کی جانب سے شروع کی گئی گذشتہ مہم کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں متعدد افراد خود کو حوالے کرنے، اپنے معاملات صاف کرنے اور خاندانوں میں واپسی کے بعد دوبارہ "عوام کی آغوش” میں لوٹ آئے ہیں۔
قبائل نے باقی ماندہ عناصر کو بھی اس مہم سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ تصفیہ اور اصلاح کے یہ مواقع مستقبل میں شاید میسر نہ رہ سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ "حق کی طرف لوٹ آنا باطل پر اڑے رہنے سے کہیں بہتر ہے”۔
قبائل نے اس فتنے کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے اور کٹھن حالات کے باوجود ان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ انہوں نے عوامی امن کے قیام اور داخلی محاذ کی مضبوطی کے لیے اپنے مکمل عزم کا اعادہ کیا ہے۔