غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی پر مسلط سفاکیت اور قابض اسرائیل کی وحشیانہ نسل کشی کے سیاہ بادلوں کے درمیان فلسطینی طلبہ نے علم کی شمع روشن رکھ کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ خان یونس کے جنوب میں واقع مواصی کے علاقے میں جہاں ہجرت اور بے گھری کا ڈیرہ ہے، جامعہ سٹی کے آزمائشی آغاز نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ قدم طویل عرصے سے جاری جنگ کے باعث منقطع ہونے والے تعلیمی سلسلے کو دوبارہ عملی طور پر جوڑنے کی ایک ولولہ انگیز کوشش ہے۔
اس عارضی تعلیمی مرکز کے دروازے پر طلبہ کے چہروں پر مسرت کی لہر دیدنی تھی۔ دو سال سے زائد عرصے تک انٹرنیٹ اور سکرینوں کے محتاج رہنے والے ان نوجوانوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا جب انہوں نے خود کو ایک حقیقی تعلیمی ماحول میں محسوس کیا۔ ایک طالبہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کلاس روم میں قدم رکھنا اس کے لیے ایک استثنائی لمحہ تھا، جس نے اسے جنگ کی ہولناکیوں اور سکرینوں کی قید سے آزاد کر کے دوبارہ ایک طالب علم ہونے کا وقار بخشا ہے۔
یہ منصوبہ، جو بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کے عین وسط میں تقریباً 3 ڈونم زمین پر محیط ہے، علماء بلا حدود نامی تنظیم کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ یہاں سادہ ڈھانچوں کی مدد سے سات کلاس رومز تیار کیے گئے ہیں، جہاں بجلی، انٹرنیٹ، بینچوں اور بلیک بورڈز جیسی بنیادی سہولیات فراہم کر کے ایک تعلیمی ماحول تشکیل دیا گیا ہے۔
آغاز کے پہلے دن اسلامی یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا جوش و خروش سے آغاز کیا۔ آنے والے دنوں میں ایک منظم شیڈول کے تحت دیگر جامعات کے طلبہ کے لیے بھی ان کلاس رومز کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ فلسطینی نوجوان اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ کلاس روم میں واپسی نے ان کی زندگیوں میں وہ رونقیں لوٹا دی ہیں جنہیں وہ عرصہ دراز سے بھول چکے تھے۔ اساتذہ سے براہ راست مکاملہ، کلاس میں ہونے والی بحث اور ہم جماعتوں کے ساتھ رابطہ وہ تجربات ہیں جو آن لائن تعلیم میں مفقود تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور کمزور انٹرنیٹ کی وجہ سے آن لائن تعلیم کے مقابلے میں کلاس روم کے اندر سبق سمجھنا کہیں زیادہ آسان اور واضح ہے۔
میڈیکل کالج کے ایک طالب علم نے بتایا کہ اس تجربے نے اسے حقیقی معنوں میں یونیورسٹی لائف کی واپسی کا احساس دلایا ہے۔ اس نے خوشی کا اظہار کیا کہ اب وہ ایپس پر منحصر رہنے کے بجائے براہ راست اپنے پروفیسر سے سوال کر سکتا ہے۔ تاہم اس نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ پریکٹیکل مضامین کے لیے ابھی بھی سائنسی لیبارٹریوں کی اشد ضرورت ہے۔ تعلیمی ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ آن لائن تعلیم کے مشکل دور کے بعد براہ راست تدریس نے طلبہ کے فہم و ادراک کی سطح کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔
منصوبے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کلاس رومز کا قیام وقت کی اہم ضرورت تھی، کیونکہ جنوبی غزہ سے شہر غزہ تک کا سفر مالی اور لاجسٹک لحاظ سے طلبہ کے لیے ناممکن ہو چکا تھا۔ ان کا مقصد ایک مکمل تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے اور آزمائشی مرحلے کے دوران سامنے آنے والی کمیوں کو دور کر کے اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق آن لائن تعلیم محض ایک معاون آپشن تو ہو سکتی ہے لیکن یہ کبھی بھی کلاس روم کی تدریس کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔
بین الاقوامی رپورٹس غزہ میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی تباہی کی ہولناک تصویر پیش کرتی ہیں، جہاں قابض اسرائیل نے تقریباً تمام جامعات اور تعلیمی مراکز کو نشانہ بنا کر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایسے میں دوبارہ تدریسی عمل کا آغاز ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ یونیورسٹی زندگی کی واپسی کی خوشی اور مستقبل کے خدشات کے درمیان یہ مبادرہ ایک پوری نسل کے تعلیمی مستقبل کو بچانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔