غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جب خون رنگ بستیوں اور راکھ بنے آشیانوں کے درمیان غزہ کی تعمیر نو کا نوحہ لکھا جاتا ہے تو یہ مٹی اور سیمنٹ کا کوئی معمولی سا تکنیکی خاکہ نہیں ہوتا۔ یہ تو روح کو جھنجھوڑ دینے والا وہ پہلا اخلاقی اور سیاسی سوال ہے جو کائنات کے ضمیر کے سامنے کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مقتل بننے والے اس غزہ کی تقدیر کا فیصلہ کون کرے گا؟ اس کی مٹی کا خراج کون ادا کر رہا ہے؟ اور وہ کون سا مکار دشمن ہے جو ان لرزہ خیز قتل عام اور غاصب صہیونی دشمن کی وحشیانہ نسل کشی کے ملبے کو اس غیور قوم کے خلاف بلیک میلنگ کا نیا ہتھیار بنانا چاہتا ہے؟ وہ قوم جو مقتلوں سے گزر کر اپنی دھرتی اور اپنے مقدس حقوق کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ سرفروشی سے چمٹ چکی ہے۔ یہاں تعمیر نو محض دیواریں کھڑی کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ سرفرازی، بیانیے اور بقائے وجود کا ایک عظیم محاذِ جنگ ہے۔
غزہ اب کسی ایسے نوحہ گر کا محتاج نہیں جو اس کی بربادی کی داستانیں سنائے۔ غاصب صہیونی دشمن کی فوج کی طرف سے سوچے سمجھے اور منظم منصوبے کے تحت صفہِ ہستی سے مٹائے گئے پورے کے پورے آباد محلے، بارود کا نشانہ بننے والے ہسپتال، خاک میں ملائے گئے سکول اور پانی و بجلی کے تباہ حال نیٹ ورکس چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ تعمیر نو کی ہر صدا دراصل اس ہولناک سفاکیت کے جرم کا کھلا بیاں ہے۔ اسی لیے غزہ کا مستقبل چیزوں کو ان کے اصل اور سچے ناموں سے پکارنے سے شروع ہوتا ہے۔ یہ المناک منظرنامہ کوئی قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ یہ ایک منظم صہیونی جارحیت اور روح فرسا نسل کشی تھی جس نے انسان، بستی، تہذیب اور بقا کے ہر ایک وسیلے کو خاکستر کرنے کی ناپاک قسم کھا رکھی تھی۔
یہ نکتہ کوئی لغوی کھیل نہیں ہے۔ جب اس مقدس تعمیر نو کو ایک خشک اور بے روح انسانی ہمدردی کا رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے تو دراصل اس کے پیچھے چھپی سیاسی اور قانونی ذمہ داری سے منہ موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تب دنیا کے نام نہاد منصف خود کو احسان جتانے والے داتا کے منصب پر بٹھا لیتے ہیں اور سرفروش فلسطینیوں کو کڑی اور ذلت آمیز شرائط کے بوجھ تلے دبا کر محض ایک دستِ سوال بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ابدی حقیقت یہ ہے کہ اپنے آشیانوں کو دوبارہ اٹھانا فلسطینیوں کا وہ خونچکاں حق ہے جس کی تمام تر ذمہ داری اس غاصب محاصرہ کرنے والے قابض اسرائیل پر عائد ہوتی ہے جس نے اسے برباد کیا؛ نہ یہ کہ اس بھیانک جرم کی پردہ پوشی فنڈنگ کانفرنسوں کے پرفریب پردوں میں کی جائے جو ہمیشہ ادھورے وعدوں اور دم گھونٹ دینے والے تفتشی نظام کی نذر ہو کر دم توڑ جاتی ہیں۔
مالی وسائل کا سوال یقیناً اہم ہے مگر یہ اکیلا سب سے مقدم نہیں۔ غزہ کے گذشتہ المیوں نے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ کاغذوں پر تو فنڈز کے دریا بہا دیے جاتے ہیں لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو بند راستوں، قابض اسرائیل کی آہنی پابندیوں اور عالمی سیاست کی زہریلی شرائط کے ذریعے اس کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ کتنی ہی بار غزہ کی زخمی جھولی کو وسیع پیمانے پر تعمیر نو کے دلفریب لالی پاپ دیے گئے لیکن پھر تعمیری سامان کو سرحدوں پر روک دیا گیا، رقوم کی ادائیگی کو برسوں لٹکایا گیا اور اس پورے تعمیری عمل کو ان سکیورٹی بیڑیوں میں جکڑ دیا گیا جن کی چابیاں قابض دشمن اور اس کی اتحادی شیطانی قوتوں کے پاس ہوتی ہیں؟
اصل المیہ یہ ہے کہ کچھ عالمی مصلحت پسند قوتیں سیاسی تبدیلی کے بغیر ایک بے روح تعمیر نو کی خواہاں ہیں۔ یعنی ملبے پر چند مٹی کے مکان تو کھڑے ہو جائیں لیکن محاصرے کا آہنی طوق گلے میں برقرار رہے۔ بجلی کے تار تو جڑ جائیں لیکن ہواؤں، فضاؤں، سمندروں، ایندھن اور زندگی کی شاہراہوں کا مکمل کنٹرول اسی سفاک قابض اسرائیل کے ہاتھ میں رہے۔ یہ کوئی پائیدار بحالی نہیں بلکہ یہ تو تباہی کا ایک عارضی اور مکارانہ انتظام ہے جس کا انجام پہلے سے طے ہے کہ کل پھر ایک نئی اور وحشیانہ صہیونی جارحیت اس پوری پٹی کو دوبارہ راکھ کے ڈھیر میں بدل کر صفر کی پوزیشن پر لا کھڑا کرے گی۔
اسی لیے فنڈز کی فراہمی کو کبھی بھی قومی فیصلے اور حمیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تعمیر نو کے فنڈز کو فلسطینیوں کی انقلابی مرضی کے خلاف کسی سیاسی سودے بازی اور غلامی کو مسلط کرنے کا ذریعہ بنایا گیا تو یہ پورا ڈرامہ ایک نئے روپ میں اسی خونی محاصرے کا تسلسل شمار ہوگا۔ ہمیں مادی وسائل کی ضرورت ضرور ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے ایک ایسے آفاقی فلسطینی وژن کے تحت چلایا جائے جو حق کا نگہبان ہو اور جس پر کوئی سودے بازی نہ کی جا سکے۔
یاد رہے کہ غزہ کی دھرتی پر دس اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کا معاہدہ ہونے کے باوجود غاصب و قابض اسرائیل انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ روزانہ اوسطاً 15 سے 20 مرتبہ اس کی دھجیاں اڑا رہا ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ اوسطاً 4 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں اور لگ بھگ 20 زخمی اپنے خون سے اس مٹی کو سینچ رہے ہیں۔
عرب دنیا کی حمایت اس وقت ایک ڈھال بن سکتی ہے جب وہ کھوکھلے بیانات کے سحر سے نکل کر سچے اور عملی عزم کے میدان میں قدم رکھے۔ غزہ کو اب محض مالداروں کی نمائش گاہوں اور کانفرنسوں کی حاجت نہیں بلکہ ایک ایسے مضبوط سیاسی سائے کی ضرورت ہے جو تعمیر نو کو دشمن کی ریشہ دوانیوں سے بچا سکے اور ایسے پائیدار فنڈز کی ضرورت ہے جو امریکہ یا قابض اسرائیل کے پہلے ہی دباؤ پر پانی کے بلبلے کی طرح غائب نہ ہو جائیں۔ اسی طرح بین الاقوامی برادری کا کردار، چاہے وہ کتنا ہی چمکدار کیوں نہ ہو، اپنی تمام تر اخلاقی ساکھ کھو دیتا ہے اگر وہ فلسطینیوں کو محض ایک دائمی خیرات خور کے طور پر دیکھے نہ کہ ایک ایسی غیور قوم کے طور پر جو اپنے وطن اور قومی حقوق کی تنہا مالک ہے۔
یہاں تضاد کا ماتم بالکل واضح ہے۔ دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں تعمیر نو کے راگ تو الاپے جاتے ہیں لیکن وہ اصل ناسور یعنی غاصبانہ قبضے اور خونی محاصرے پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ بلکہ کچھ بین الاقوامی ابلیسی تجاویز تو اس سے بھی کہیں آگے نکل جاتی ہیں، جو مظلوم عوام کی سچی ضرورتوں اور فلسطینیوں کے فولادی اصولوں کا سودا کر کے غزہ کے سیاسی و سکیورٹی منظرنامے کو اپنے مفادات کے ترازو میں تولنے کی ناپاک کوشش کرتی ہیں۔
محاصرے کے مکمل اور حتمی خاتمے کے بغیر غزہ کے مستقبل کا کوئی بھی نقشہ محض ایک سراب ہے۔ یہ کوئی لفاظی نہیں بلکہ ایک تلخ اور سچی حقیقت ہے۔ آپ ایک ایسے مقتل میں مکان، ہسپتال، سکول اور کارخانے کیسے کھڑے کر سکتے ہیں جہاں تعمیراتی خام مال لانے کی آزادی ہو نہ سانس لینے کی آزادی، اور نہ ہی غاصب دشمن کے بار بار برستے ہوئے بارود کے خلاف کوئی ضمانت میسر ہو؟ آپ ایک ایسے محاصرے میں دم توڑتی معیشت کو کیسے زندگی دے سکتے ہیں جس کا پانی زہر آلود، بجلی منقطع اور جس کی سرحدوں کے فیصلے سفاک قابض دشمن کے اشارۂ ابرو پر ہوتے ہوں؟
حقیقی تعمیر نو کا مطلب صرف گرے ہوئے در و دیوار کو دوبارہ کھڑا کرنا نہیں بلکہ اس پامال معاشرے کی پائیداری اور سرفرازی کی صلاحیت کو ازسرِ نو تخلیق کرنا ہے۔ اس میں سسکتی رہائش، سجدہ گاہیں، صحت، تعلیم، سڑکیں، سیوریج، مواصلات، مقامی معیشت اور ان غیور مچھی روں، کسانوں اور چھوٹے کارخانہ داروں کی پشت پناہی شامل ہے جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اگر یہ تمام شریانیں اسی قابض اسرائیل کی وحشیانہ مزاج کے رحم و کرم پر معلق رہیں تو جو کچھ آج پیار سے تعمیر کیا جا رہا ہے وہ کل پھر بارود کا دھواں بن کر ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ محاصرے کا یہ طوق اتار پھینکنا تعمیر نو کے متوازی کوئی عام سا مطالبہ نہیں بلکہ اس کی اولین اور ناگزیر شرط ہے۔ اس شرط کے بغیر غزہ ہمیشہ ایک ظالمانہ اور خونی مساوات کا اسیر رہے گا جہاں قطرہ قطرہ فنڈنگ ہوگی، چیونٹی کی چال سے تعمیر ہوگی اور پھر ایک ہولناک بمباری سب کچھ مٹی میں ملا دے گی۔
آج اس گھڑی میں بھی بیس لاکھ سے زائد سرفروش فلسطینی غزہ کے تپتے اور جمتے موسموں میں پھٹے پرانے خیموں اور اپنے ہی تباہ شدہ آشیانوں کے ملبے پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ ظالم قابض صہیونی دشمن تعمیر نو اور روزمرہ زندگی کی سانسوں کو بحال کرنے والے کسی بھی مواد کے داخلے پر مسلسل اور سفاکانہ پابندی عائد کیے ہوئے ہے۔
اس داستان کا ایک اور تاریک پہلو بھی ہے جو انتہائی ہولناک ہے، اور وہ ہے تعمیر نو کے مقدس نام پر غزہ پر ایک نیا سیاسی تسلط اور بیرونی سرپرستی قائم کرنے کی ناپاک سازش۔ پسِ چلمن تیار ہونے والے بعض منصوبوں میں تکنیکی انتظام کی جادوئی زبان تو بولی جاتی ہے لیکن ان کے پردوں کے پیچھے یہ زہریلے عزائم چھپے ہوتے ہیں کہ اب یہاں حکومت کون کرے گا، فلسطینیوں پر پہرا کون بٹھائے گا، ان کے فنڈز کی ترجیحات کا فیصلہ کون کرے گا اور ان کی نمائندگی کا حق کس کے پاس ہوگا؟ اس سب کا واحد مطلب یہ ہے کہ تعمیر نو کی یہ فائل فلسطینیوں کی خون رنگ حقیقت کو علاقائی اور عالمی بساط کے مہروں کے مطابق دوبارہ ڈھالنے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔
فلسطینیوں کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے گھر کے اندر انتظام، نمائندگی اور ترجیحات پر آپس میں ہزار بار اختلاف کریں، لیکن دنیا کے کسی بھی بیرونی اور غاصب فریق کو یہ حق ہرگز نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہمارے لوگوں کی آہوں، سسکیوں اور بہتے خون کو اپنے مسلط کردہ سیاسی مفادات کا ذریعہ بنائے۔ غزہ کوئی بے جان یا لاوارث دھرتی نہیں ہے جہاں کوئی انسان نہ بستا ہو، اور نہ ہی یہ کوئی ایسا تماشا گاہ ہے جسے دور بیٹھ کر ریموٹ کنٹرول سے چلایا جا سکے۔ اس کے وہ سرفروش باسی جنہوں نے ہولناک بمباری اور آگ کے سمندروں کے درمیان اپنے عزم کا لوہا منوایا، وہی اپنی اس بحالی اور تقدیر کا فیصلہ کرنے کا پہلا، آخری اور ابدی حق رکھتے ہیں۔
ہماری اولین ترجیح اپنے لوگوں کو فوری، باعزت اور محفوظ چھت فراہم کرنا ہے، کیونکہ ان کی دربدری اور خیموں کی زندگی دراصل امت کے جسم پر ایک رستا ہوا گہرا زخم ہے۔ اس کے بعد غاصب دشمن کے ہاتھوں تباہ حال ہسپتالوں، سکولوں اور بنیادی ڈھانچے کے کام کی بحالی کا سنگین مرحلہ ہے، کیونکہ کوئی بھی زندہ معاشرہ صرف ہنگامی امداد کے ٹکڑوں پر سانسیں نہیں کھینچ سکتا۔ لیکن یہ تمام تر کاوشیں کسی عارضی اور وقتی مرہم پٹی سے بالا تر ہو کر ایک وسیع آفاقی وژن کے تحت ہونی چاہئیں، ایک ایسا وژن جو تعمیر نو کو معیشت، پیداوار اور نقل و حرکت کی مکمل آزادی کی روح سے دوبارہ روشناس کرا دے۔
غزہ کو اب خیموں کے کسی مستقل اور لامتناہی قبرستان کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ایسے وقتی حلوں کی ضرورت ہے جنہیں دنیا کے سامنے ایک عظیم کارنامے کے طور پر بیچا جائے۔ فلسطینیوں کی سرفروش تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ اگر مضبوط سیاسی عزم مفقود ہو تو عارضی پناہ گاہیں ہی مستقل زنجیریں بن جایا کرتی ہیں۔ اس لیے کسی بھی مخلصانہ منصوبے کو عارضی پن سے نکل کر مستقل رہائش، روزگار کے باوقار مواقع اور شہری زندگی کے پہیے کو پوری قوت سے گھمانے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ صرف راشن کی تقسیم پر۔
یہاں مستقبل کے افق پر کی جانے والی گفتگو جتنی حقیقت پسندانہ ہونی چاہیے، اتنی ہی عزمِ مصمم سے لیس ہونی چاہیے۔ جی ہاں! تباہی کا حجم دل دہلا دینے والا ہے، اور ملبے کو دوبارہ زندگی کا روپ دینے کے لیے کئی برسوں کا وقت، فنڈز کے انبار اور وسیع انجینئرنگ و انتظامی مہارتوں کے طوفان درکار ہوں گے۔ لیکن تعمیرِ نو کی راہ میں اصل اور سب سے بڑی رکاوٹ فلسطینیوں کی خاک سے دوبارہ جی اٹھنے کی وہ لازوال صلاحیت نہیں ہے، بلکہ وہ ظالمانہ سیاسی ماحول ہے جو اس ترقی کے پیروں میں بیڑیاں ڈالتا ہے۔ فلسطینی نے تاریخ کے ہر موڑ پر اپنے خون سے اپنے گھر، اپنے سکول اور اپنی سڑک کو دوبارہ بنا کر دکھایا ہے، لیکن اس کی اس لازوال محنت کو جس چیز سے مستقل خطرہ لاحق ہے، وہ دشمن کی مسلسل جارحیت، محاصرے کا یہ شیطانی نظام اور بھوکا مارنے کی وحشیانہ صہیونی پالیسی ہے۔
اسی لیے غزہ کی تعمیر نو کے مستقبل کا پیمانہ صرف ان بلند و بالا ٹاورز کی تعداد سے نہیں ناپا جائے گا جو آسمان سے باتیں کریں گے یا ان سڑکوں سے جنہیں پکا کیا جائے گا، بلکہ اس کا اصل معیار یہ ہوگا کہ فلسطینی اس خونی چکر کو توڑنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں جو تباہی، تعمیر نو اور پھر سے تباہی کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اگر غزہ فوجی طور پر یونہی دشمن کے نشانے پر رہا، معاشی طور پر محاصرے کی سولی پر لٹکا رہا اور سیاسی طور پر سازشوں کے گھیرے میں رہا، تو عالمی آقاؤں کے بڑے بڑے وعدوں کے باوجود کوئی مستحکم مستقبل جنم نہیں لے سکتا۔
اس کے برعکس، اگر اس وحشیانہ جارحیت کا حقیقی اور حتمی خاتمہ کر دیا جائے، محاصرے کی یہ دیوار گرا دی جائے، سامان اور منصوبوں کو نہ روکنے کی فولادی ضمانتیں دی جائیں اور اس پورے معاملے کو ایک غیر متزلزل فلسطینی عزم کے ساتھ چلایا جائے، تو یہ دھرتی اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بحال کرنے کی بھرپور اور جادوئی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ کسی معجزاتی رات میں یا بغیر کسی قربانی کے نہیں ہوگا، لیکن یہ خطہ ایک ہنگامی امداد کے ماتم کدے سے نکل کر منظم پامردی اور بتدریج سرفرازی کے ایک روشن خطے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہ معرکہ صرف بارود کی بو اور زمین پر نہیں لڑا جا رہا، بلکہ یہ لغت، زبان اور بیانیے کی جنگ بھی ہے۔ جب غزہ کو دنیا کے سامنے صرف ملبے اور تباہی کے مرثیے کی تصویروں میں سمیٹ دیا جاتا ہے، تو اس کا وہ دوسرا درخشندہ چہرہ چھپ جاتا ہے جو ایک زندہ، علم دوست، نوجوان اور بے پناہ صلاحیتوں سے لیس معاشرہ ہے، جس کے پاس طویل انقلابی جدوجہد کی لازوال یادیں اور تاریخ موجود ہے۔ حق اور سچائی کے علمبردار میڈیا پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ تباہی مچانے والے اس غاصب کو دنیا کے سامنے ننگا کرے، تاخیر اور مکاریاں کرنے والوں کا پیچھا کرے اور ترجیحات کے تعین میں خالص فلسطینی آواز کو اولیت دے، نہ کہ اس میدان کو عالمی اداروں کے سرد اور بے روح بیانات کے لیے خالی چھوڑ دیا جائے۔
یہیں پر ان نظریاتی پلیٹ فارمز کی عظمت کھل کر سامنے آتی ہے جنہوں نے برسوں سے اس انقلابی لکیر کو اپنے خون سے برقرار رکھا ہے، جن میں مرکز اطلاعات فلسطین سرفہرست ہے، تاکہ اس سچے بیانیے کو تاریخ کے ماتھے پر سجا دیا جائے کہ تعمیر نو کسی کا احسان یا خیرات نہیں ہے، بلکہ یہ اس غیور قوم کا ناقابلِ تسخیر حق ہے جس نے پامردی کی نئی تاریخ لکھی اور جو اپنی مٹی سے عشق کی قیمت تقریباً اکیلی اپنے جگر گوشوں کے خون سے چکا رہی ہے۔ یہ معنوی اور سیاسی پہلو کوئی خطیبانہ سجاوٹ نہیں بلکہ ملبے کے نیچے دبے حق کے معنی کو دشمن کی چوری سے بچانے کا ایک بنیادی اور ناگزیر عنصر ہے۔
بلند بانگ نعرے لگانا بہت آسان ہے اور اعداد و شمار، کمیٹیوں اور سرد طریقہ کار کی زبان کے سامنے ہتھیار ڈال دینا بھی بہت آسان ہے۔ لیکن کامیابی کا سچا راستہ ان دونوں کے درمیان سے گزرتا ہے: ایک ایسی حقیقت پسندی جو چیلنج کے کوہِ گراں جیسے حجم کو خوب پہچانتی ہو، اور ایک ایسی فولادی ثابت قدمی جو اس چیلنج کو کسی بھی صورت بلیک میلنگ کے ہتھیار میں تبدیل کرنے سے صاف انکار کر دے۔ غزہ کو فوری آشیانے، خدمات کی بحالی، مؤثر و شفاف انتظام اور وسیع عرب، اسلامی اور بین الاقوامی حمایت کی شدید ضرورت ہوگی۔ یہ سب بالکل سچ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا اور لافانی سچ یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا راستہ جو لوگوں کی مکمل آزادی، محاصرے کے حتمی خاتمے اور ان کے ابدی سیاسی حق کے تحفظ پر ختم نہ ہو، وہ ہمیشہ ادھورا اور ناقابلِ قبول رہے گا۔
ہمارا حقیقی روجھان اور بھروسا امداد دینے والوں کی منافقانہ سخاوت پر نہیں بلکہ فلسطینی حق کی چٹانی مضبوطی اور عالمی بساط میں اپنی جگہ خود بنانے کی عوامی طاقت پر ہے۔ ہر وہ پتھر جو اپنی جگہ پر واپس آئے گا، وہ اپنے اندر اس لافانی حقیقت کو سمیٹے ہوئے ہوگا کہ غزہ صرف سیمنٹ اور گارے سے نہیں بنتا، بلکہ یہ اس عزمِ صمم سے بنتا ہے جس نے ٹوٹنے سے انکار کر دیا، اور اس بیدار شعور سے بنتا ہے جو تعمیر نو کی ایسے پہرے داری کرتا ہے کہ وہ خون اور وقار کی قیمت پر کوئی ناپاک سودا نہ بننے پائے۔
جب خون رنگ بستیوں اور راکھ بنے آشیانوں کے درمیان غزہ کی تعمیر نو کا نوحہ لکھا جاتا ہے تو یہ مٹی اور سیمنٹ کا کوئی معمولی سا تکنیکی خاکہ نہیں ہوتا۔ یہ تو روح کو جھنجھوڑ دینے والا وہ پہلا اخلاقی اور سیاسی سوال ہے جو کائنات کے ضمیر کے سامنے کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مقتل بننے والے اس غزہ کی تقدیر کا فیصلہ کون کرے گا؟ اس کی مٹی کا خراج کون ادا کر رہا ہے؟ اور وہ کون سا مکار دشمن ہے جو ان لرزہ خیز قتل عام اور غاصب صہیونی دشمن کی وحشیانہ نسل کشی کے ملبے کو اس غیور قوم کے خلاف بلیک میلنگ کا نیا ہتھیار بنانا چاہتا ہے؟ وہ قوم جو مقتلوں سے گزر کر اپنی دھرتی اور اپنے مقدس حقوق کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ سرفروشی سے چمٹ چکی ہے۔ یہاں تعمیر نو محض دیواریں کھڑی کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ سرفرازی، بیانیے اور بقائے وجود کا ایک عظیم محاذِ جنگ ہے۔
غزہ اب کسی ایسے نوحہ گر کا محتاج نہیں جو اس کی بربادی کی داستانیں سنائے۔ غاصب صہیونی دشمن کی فوج کی طرف سے سوچے سمجھے اور منظم منصوبے کے تحت صفہِ ہستی سے مٹائے گئے پورے کے پورے آباد محلے، بارود کا نشانہ بننے والے ہسپتال، خاک میں ملائے گئے سکول اور پانی و بجلی کے تباہ حال نیٹ ورکس چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ تعمیر نو کی ہر صدا دراصل اس ہولناک سفاکیت کے جرم کا کھلا بیاں ہے۔ اسی لیے غزہ کا مستقبل چیزوں کو ان کے اصل اور سچے ناموں سے پکارنے سے شروع ہوتا ہے۔ یہ المناک منظرنامہ کوئی قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ یہ ایک منظم صہیونی جارحیت اور روح فرسا نسل کشی تھی جس نے انسان، بستی، تہذیب اور بقا کے ہر ایک وسیلے کو خاکستر کرنے کی ناپاک قسم کھا رکھی تھی۔
یہ نکتہ کوئی لغوی کھیل نہیں ہے۔ جب اس مقدس تعمیر نو کو ایک خشک اور بے روح انسانی ہمدردی کا رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے تو دراصل اس کے پیچھے چھپی سیاسی اور قانونی ذمہ داری سے منہ موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تب دنیا کے نام نہاد منصف خود کو احسان جتانے والے داتا کے منصب پر بٹھا لیتے ہیں اور سرفروش فلسطینیوں کو کڑی اور ذلت آمیز شرائط کے بوجھ تلے دبا کر محض ایک دستِ سوال بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ابدی حقیقت یہ ہے کہ اپنے آشیانوں کو دوبارہ اٹھانا فلسطینیوں کا وہ خونچکاں حق ہے جس کی تمام تر ذمہ داری اس غاصب محاصرہ کرنے والے قابض اسرائیل پر عائد ہوتی ہے جس نے اسے برباد کیا؛ نہ یہ کہ اس بھیانک جرم کی پردہ پوشی فنڈنگ کانفرنسوں کے پرفریب پردوں میں کی جائے جو ہمیشہ ادھورے وعدوں اور دم گھونٹ دینے والے تفتشی نظام کی نذر ہو کر دم توڑ جاتی ہیں۔
مالی وسائل کا سوال یقیناً اہم ہے مگر یہ اکیلا سب سے مقدم نہیں۔ غزہ کے گذشتہ المیوں نے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ کاغذوں پر تو فنڈز کے دریا بہا دیے جاتے ہیں لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو بند راستوں، قابض اسرائیل کی آہنی پابندیوں اور عالمی سیاست کی زہریلی شرائط کے ذریعے اس کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ کتنی ہی بار غزہ کی زخمی جھولی کو وسیع پیمانے پر تعمیر نو کے دلفریب لالی پاپ دیے گئے لیکن پھر تعمیری سامان کو سرحدوں پر روک دیا گیا، رقوم کی ادائیگی کو برسوں لٹکایا گیا اور اس پورے تعمیری عمل کو ان سکیورٹی بیڑیوں میں جکڑ دیا گیا جن کی چابیاں قابض دشمن اور اس کی اتحادی شیطانی قوتوں کے پاس ہوتی ہیں؟
اصل المیہ یہ ہے کہ کچھ عالمی مصلحت پسند قوتیں سیاسی تبدیلی کے بغیر ایک بے روح تعمیر نو کی خواہاں ہیں۔ یعنی ملبے پر چند مٹی کے مکان تو کھڑے ہو جائیں لیکن محاصرے کا آہنی طوق گلے میں برقرار رہے۔ بجلی کے تار تو جڑ جائیں لیکن ہواؤں، فضاؤں، سمندروں، ایندھن اور زندگی کی شاہراہوں کا مکمل کنٹرول اسی سفاک قابض اسرائیل کے ہاتھ میں رہے۔ یہ کوئی پائیدار بحالی نہیں بلکہ یہ تو تباہی کا ایک عارضی اور مکارانہ انتظام ہے جس کا انجام پہلے سے طے ہے کہ کل پھر ایک نئی اور وحشیانہ صہیونی جارحیت اس پوری پٹی کو دوبارہ راکھ کے ڈھیر میں بدل کر صفر کی پوزیشن پر لا کھڑا کرے گی۔
اسی لیے فنڈز کی فراہمی کو کبھی بھی قومی فیصلے اور حمیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تعمیر نو کے فنڈز کو فلسطینیوں کی انقلابی مرضی کے خلاف کسی سیاسی سودے بازی اور غلامی کو مسلط کرنے کا ذریعہ بنایا گیا تو یہ پورا ڈرامہ ایک نئے روپ میں اسی خونی محاصرے کا تسلسل شمار ہوگا۔ ہمیں مادی وسائل کی ضرورت ضرور ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے ایک ایسے آفاقی فلسطینی وژن کے تحت چلایا جائے جو حق کا نگہبان ہو اور جس پر کوئی سودے بازی نہ کی جا سکے۔
یاد رہے کہ غزہ کی دھرتی پر دس اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کا معاہدہ ہونے کے باوجود غاصب و قابض اسرائیل انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ روزانہ اوسطاً 15 سے 20 مرتبہ اس کی دھجیاں اڑا رہا ہے، جس کے نتیجے میں روزانہ اوسطاً 4 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں اور لگ بھگ 20 زخمی اپنے خون سے اس مٹی کو سینچ رہے ہیں۔
عرب دنیا کی حمایت اس وقت ایک ڈھال بن سکتی ہے جب وہ کھوکھلے بیانات کے سحر سے نکل کر سچے اور عملی عزم کے میدان میں قدم رکھے۔ غزہ کو اب محض مالداروں کی نمائش گاہوں اور کانفرنسوں کی حاجت نہیں بلکہ ایک ایسے مضبوط سیاسی سائے کی ضرورت ہے جو تعمیر نو کو دشمن کی ریشہ دوانیوں سے بچا سکے اور ایسے پائیدار فنڈز کی ضرورت ہے جو امریکہ یا قابض اسرائیل کے پہلے ہی دباؤ پر پانی کے بلبلے کی طرح غائب نہ ہو جائیں۔ اسی طرح بین الاقوامی برادری کا کردار، چاہے وہ کتنا ہی چمکدار کیوں نہ ہو، اپنی تمام تر اخلاقی ساکھ کھو دیتا ہے اگر وہ فلسطینیوں کو محض ایک دائمی خیرات خور کے طور پر دیکھے نہ کہ ایک ایسی غیور قوم کے طور پر جو اپنے وطن اور قومی حقوق کی تنہا مالک ہے۔
یہاں تضاد کا ماتم بالکل واضح ہے۔ دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں تعمیر نو کے راگ تو الاپے جاتے ہیں لیکن وہ اصل ناسور یعنی غاصبانہ قبضے اور خونی محاصرے پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ بلکہ کچھ بین الاقوامی ابلیسی تجاویز تو اس سے بھی کہیں آگے نکل جاتی ہیں، جو مظلوم عوام کی سچی ضرورتوں اور فلسطینیوں کے فولادی اصولوں کا سودا کر کے غزہ کے سیاسی و سکیورٹی منظرنامے کو اپنے مفادات کے ترازو میں تولنے کی ناپاک کوشش کرتی ہیں۔
محاصرے کے مکمل اور حتمی خاتمے کے بغیر غزہ کے مستقبل کا کوئی بھی نقشہ محض ایک سراب ہے۔ یہ کوئی لفاظی نہیں بلکہ ایک تلخ اور سچی حقیقت ہے۔ آپ ایک ایسے مقتل میں مکان، ہسپتال، سکول اور کارخانے کیسے کھڑے کر سکتے ہیں جہاں تعمیراتی خام مال لانے کی آزادی ہو نہ سانس لینے کی آزادی، اور نہ ہی غاصب دشمن کے بار بار برستے ہوئے بارود کے خلاف کوئی ضمانت میسر ہو؟ آپ ایک ایسے محاصرے میں دم توڑتی معیشت کو کیسے زندگی دے سکتے ہیں جس کا پانی زہر آلود، بجلی منقطع اور جس کی سرحدوں کے فیصلے سفاک قابض دشمن کے اشارۂ ابرو پر ہوتے ہوں؟
حقیقی تعمیر نو کا مطلب صرف گرے ہوئے در و دیوار کو دوبارہ کھڑا کرنا نہیں بلکہ اس پامال معاشرے کی پائیداری اور سرفرازی کی صلاحیت کو ازسرِ نو تخلیق کرنا ہے۔ اس میں سسکتی رہائش، سجدہ گاہیں، صحت، تعلیم، سڑکیں، سیوریج، مواصلات، مقامی معیشت اور ان غیور مچھی روں، کسانوں اور چھوٹے کارخانہ داروں کی پشت پناہی شامل ہے جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اگر یہ تمام شریانیں اسی قابض اسرائیل کی وحشیانہ مزاج کے رحم و کرم پر معلق رہیں تو جو کچھ آج پیار سے تعمیر کیا جا رہا ہے وہ کل پھر بارود کا دھواں بن کر ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ محاصرے کا یہ طوق اتار پھینکنا تعمیر نو کے متوازی کوئی عام سا مطالبہ نہیں بلکہ اس کی اولین اور ناگزیر شرط ہے۔ اس شرط کے بغیر غزہ ہمیشہ ایک ظالمانہ اور خونی مساوات کا اسیر رہے گا جہاں قطرہ قطرہ فنڈنگ ہوگی، چیونٹی کی چال سے تعمیر ہوگی اور پھر ایک ہولناک بمباری سب کچھ مٹی میں ملا دے گی۔
آج اس گھڑی میں بھی بیس لاکھ سے زائد سرفروش فلسطینی غزہ کے تپتے اور جمتے موسموں میں پھٹے پرانے خیموں اور اپنے ہی تباہ شدہ آشیانوں کے ملبے پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ ظالم قابض صہیونی دشمن تعمیر نو اور روزمرہ زندگی کی سانسوں کو بحال کرنے والے کسی بھی مواد کے داخلے پر مسلسل اور سفاکانہ پابندی عائد کیے ہوئے ہے۔
اس داستان کا ایک اور تاریک پہلو بھی ہے جو انتہائی ہولناک ہے، اور وہ ہے تعمیر نو کے مقدس نام پر غزہ پر ایک نیا سیاسی تسلط اور بیرونی سرپرستی قائم کرنے کی ناپاک سازش۔ پسِ چلمن تیار ہونے والے بعض منصوبوں میں تکنیکی انتظام کی جادوئی زبان تو بولی جاتی ہے لیکن ان کے پردوں کے پیچھے یہ زہریلے عزائم چھپے ہوتے ہیں کہ اب یہاں حکومت کون کرے گا، فلسطینیوں پر پہرا کون بٹھائے گا، ان کے فنڈز کی ترجیحات کا فیصلہ کون کرے گا اور ان کی نمائندگی کا حق کس کے پاس ہوگا؟ اس سب کا واحد مطلب یہ ہے کہ تعمیر نو کی یہ فائل فلسطینیوں کی خون رنگ حقیقت کو علاقائی اور عالمی بساط کے مہروں کے مطابق دوبارہ ڈھالنے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔
فلسطینیوں کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے گھر کے اندر انتظام، نمائندگی اور ترجیحات پر آپس میں ہزار بار اختلاف کریں، لیکن دنیا کے کسی بھی بیرونی اور غاصب فریق کو یہ حق ہرگز نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہمارے لوگوں کی آہوں، سسکیوں اور بہتے خون کو اپنے مسلط کردہ سیاسی مفادات کا ذریعہ بنائے۔ غزہ کوئی بے جان یا لاوارث دھرتی نہیں ہے جہاں کوئی انسان نہ بستا ہو، اور نہ ہی یہ کوئی ایسا تماشا گاہ ہے جسے دور بیٹھ کر ریموٹ کنٹرول سے چلایا جا سکے۔ اس کے وہ سرفروش باسی جنہوں نے ہولناک بمباری اور آگ کے سمندروں کے درمیان اپنے عزم کا لوہا منوایا، وہی اپنی اس بحالی اور تقدیر کا فیصلہ کرنے کا پہلا، آخری اور ابدی حق رکھتے ہیں۔
ہماری اولین ترجیح اپنے لوگوں کو فوری، باعزت اور محفوظ چھت فراہم کرنا ہے، کیونکہ ان کی دربدری اور خیموں کی زندگی دراصل امت کے جسم پر ایک رستا ہوا گہرا زخم ہے۔ اس کے بعد غاصب دشمن کے ہاتھوں تباہ حال ہسپتالوں، سکولوں اور بنیادی ڈھانچے کے کام کی بحالی کا سنگین مرحلہ ہے، کیونکہ کوئی بھی زندہ معاشرہ صرف ہنگامی امداد کے ٹکڑوں پر سانسیں نہیں کھینچ سکتا۔ لیکن یہ تمام تر کاوشیں کسی عارضی اور وقتی مرہم پٹی سے بالا تر ہو کر ایک وسیع آفاقی وژن کے تحت ہونی چاہئیں، ایک ایسا وژن جو تعمیر نو کو معیشت، پیداوار اور نقل و حرکت کی مکمل آزادی کی روح سے دوبارہ روشناس کرا دے۔
غزہ کو اب خیموں کے کسی مستقل اور لامتناہی قبرستان کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ایسے وقتی حلوں کی ضرورت ہے جنہیں دنیا کے سامنے ایک عظیم کارنامے کے طور پر بیچا جائے۔ فلسطینیوں کی سرفروش تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ اگر مضبوط سیاسی عزم مفقود ہو تو عارضی پناہ گاہیں ہی مستقل زنجیریں بن جایا کرتی ہیں۔ اس لیے کسی بھی مخلصانہ منصوبے کو عارضی پن سے نکل کر مستقل رہائش، روزگار کے باوقار مواقع اور شہری زندگی کے پہیے کو پوری قوت سے گھمانے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ صرف راشن کی تقسیم پر۔
یہاں مستقبل کے افق پر کی جانے والی گفتگو جتنی حقیقت پسندانہ ہونی چاہیے، اتنی ہی عزمِ مصمم سے لیس ہونی چاہیے۔ جی ہاں! تباہی کا حجم دل دہلا دینے والا ہے، اور ملبے کو دوبارہ زندگی کا روپ دینے کے لیے کئی برسوں کا وقت، فنڈز کے انبار اور وسیع انجینئرنگ و انتظامی مہارتوں کے طوفان درکار ہوں گے۔ لیکن تعمیرِ نو کی راہ میں اصل اور سب سے بڑی رکاوٹ فلسطینیوں کی خاک سے دوبارہ جی اٹھنے کی وہ لازوال صلاحیت نہیں ہے، بلکہ وہ ظالمانہ سیاسی ماحول ہے جو اس ترقی کے پیروں میں بیڑیاں ڈالتا ہے۔ فلسطینی نے تاریخ کے ہر موڑ پر اپنے خون سے اپنے گھر، اپنے سکول اور اپنی سڑک کو دوبارہ بنا کر دکھایا ہے، لیکن اس کی اس لازوال محنت کو جس چیز سے مستقل خطرہ لاحق ہے، وہ دشمن کی مسلسل جارحیت، محاصرے کا یہ شیطانی نظام اور بھوکا مارنے کی وحشیانہ صہیونی پالیسی ہے۔
اسی لیے غزہ کی تعمیر نو کے مستقبل کا پیمانہ صرف ان بلند و بالا ٹاورز کی تعداد سے نہیں ناپا جائے گا جو آسمان سے باتیں کریں گے یا ان سڑکوں سے جنہیں پکا کیا جائے گا، بلکہ اس کا اصل معیار یہ ہوگا کہ فلسطینی اس خونی چکر کو توڑنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں جو تباہی، تعمیر نو اور پھر سے تباہی کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اگر غزہ فوجی طور پر یونہی دشمن کے نشانے پر رہا، معاشی طور پر محاصرے کی سولی پر لٹکا رہا اور سیاسی طور پر سازشوں کے گھیرے میں رہا، تو عالمی آقاؤں کے بڑے بڑے وعدوں کے باوجود کوئی مستحکم مستقبل جنم نہیں لے سکتا۔
اس کے برعکس، اگر اس وحشیانہ جارحیت کا حقیقی اور حتمی خاتمہ کر دیا جائے، محاصرے کی یہ دیوار گرا دی جائے، سامان اور منصوبوں کو نہ روکنے کی فولادی ضمانتیں دی جائیں اور اس پورے معاملے کو ایک غیر متزلزل فلسطینی عزم کے ساتھ چلایا جائے، تو یہ دھرتی اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بحال کرنے کی بھرپور اور جادوئی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ کسی معجزاتی رات میں یا بغیر کسی قربانی کے نہیں ہوگا، لیکن یہ خطہ ایک ہنگامی امداد کے ماتم کدے سے نکل کر منظم پامردی اور بتدریج سرفرازی کے ایک روشن خطے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہ معرکہ صرف بارود کی بو اور زمین پر نہیں لڑا جا رہا، بلکہ یہ لغت، زبان اور بیانیے کی جنگ بھی ہے۔ جب غزہ کو دنیا کے سامنے صرف ملبے اور تباہی کے مرثیے کی تصویروں میں سمیٹ دیا جاتا ہے، تو اس کا وہ دوسرا درخشندہ چہرہ چھپ جاتا ہے جو ایک زندہ، علم دوست، نوجوان اور بے پناہ صلاحیتوں سے لیس معاشرہ ہے، جس کے پاس طویل انقلابی جدوجہد کی لازوال یادیں اور تاریخ موجود ہے۔ حق اور سچائی کے علمبردار میڈیا پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ تباہی مچانے والے اس غاصب کو دنیا کے سامنے ننگا کرے، تاخیر اور مکاریاں کرنے والوں کا پیچھا کرے اور ترجیحات کے تعین میں خالص فلسطینی آواز کو اولیت دے، نہ کہ اس میدان کو عالمی اداروں کے سرد اور بے روح بیانات کے لیے خالی چھوڑ دیا جائے۔
یہیں پر ان نظریاتی پلیٹ فارمز کی عظمت کھل کر سامنے آتی ہے جنہوں نے برسوں سے اس انقلابی لکیر کو اپنے خون سے برقرار رکھا ہے، جن میں مرکز اطلاعات فلسطین سرفہرست ہے، تاکہ اس سچے بیانیے کو تاریخ کے ماتھے پر سجا دیا جائے کہ تعمیر نو کسی کا احسان یا خیرات نہیں ہے، بلکہ یہ اس غیور قوم کا ناقابلِ تسخیر حق ہے جس نے پامردی کی نئی تاریخ لکھی اور جو اپنی مٹی سے عشق کی قیمت تقریباً اکیلی اپنے جگر گوشوں کے خون سے چکا رہی ہے۔ یہ معنوی اور سیاسی پہلو کوئی خطیبانہ سجاوٹ نہیں بلکہ ملبے کے نیچے دبے حق کے معنی کو دشمن کی چوری سے بچانے کا ایک بنیادی اور ناگزیر عنصر ہے۔
بلند بانگ نعرے لگانا بہت آسان ہے اور اعداد و شمار، کمیٹیوں اور سرد طریقہ کار کی زبان کے سامنے ہتھیار ڈال دینا بھی بہت آسان ہے۔ لیکن کامیابی کا سچا راستہ ان دونوں کے درمیان سے گزرتا ہے: ایک ایسی حقیقت پسندی جو چیلنج کے کوہِ گراں جیسے حجم کو خوب پہچانتی ہو، اور ایک ایسی فولادی ثابت قدمی جو اس چیلنج کو کسی بھی صورت بلیک میلنگ کے ہتھیار میں تبدیل کرنے سے صاف انکار کر دے۔ غزہ کو فوری آشیانے، خدمات کی بحالی، مؤثر و شفاف انتظام اور وسیع عرب، اسلامی اور بین الاقوامی حمایت کی شدید ضرورت ہوگی۔ یہ سب بالکل سچ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا اور لافانی سچ یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا راستہ جو لوگوں کی مکمل آزادی، محاصرے کے حتمی خاتمے اور ان کے ابدی سیاسی حق کے تحفظ پر ختم نہ ہو، وہ ہمیشہ ادھورا اور ناقابلِ قبول رہے گا۔
ہمارا حقیقی روجھان اور بھروسا امداد دینے والوں کی منافقانہ سخاوت پر نہیں بلکہ فلسطینی حق کی چٹانی مضبوطی اور عالمی بساط میں اپنی جگہ خود بنانے کی عوامی طاقت پر ہے۔ ہر وہ پتھر جو اپنی جگہ پر واپس آئے گا، وہ اپنے اندر اس لافانی حقیقت کو سمیٹے ہوئے ہوگا کہ غزہ صرف سیمنٹ اور گارے سے نہیں بنتا، بلکہ یہ اس عزمِ صمم سے بنتا ہے جس نے ٹوٹنے سے انکار کر دیا، اور اس بیدار شعور سے بنتا ہے جو تعمیر نو کی ایسے پہرے داری کرتا ہے کہ وہ خون اور وقار کی قیمت پر کوئی ناپاک سودا نہ بننے پائے۔