(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) کل پیر کے روز درجنوں فلسطینیوں نے غزہ شہر کے مغربی علاقے میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ یہ احتجاج قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران سے اظہارِ یکجہتی اور ان پر مسلط کی جانے والی سست موت کی پالیسیوں کے خلاف کیا گیا، جن میں دانستہ طبی غفلت، بھوک، تنہائی میں قید اور مسلسل اذیت ناک سلوک شامل ہے۔
یہ احتجاجی دھرنا فلسطینی قبائل، خاندانوں اور قائدین کے قومی اتحاد کے زیر اہتمام اسیران کو موت سے بچاؤ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ اس میں معزز شخصیات، عمائدین، مختار، اسیران کے اہل خانہ اور بڑی تعداد میں یکجہتی کے لیے آنے والے شہری شریک ہوئے، جنہوں نے اسیران کی فوری رہائی اور جیلوں میں جاری ان کی اذیتوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
شرکا نے فلسطینی پرچم اور پرانے و نئے اسیران کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جبکہ قومی اور انقلابی نغمے گونج رہے تھے، جن میں روحک ما یهمها اعتقال بھی شامل تھا۔ مظاہرین نے ایسے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا غزہ تمہیں پکار رہا ہے، ہمارے بہادر اسیران کو آزادی دو اور کب تک ہمیں تنہا چھوڑے رکھو گے۔
مظاہرین نے عالمی برادری اور اس کے حقوقی اداروں کو اسیران کے خلاف منظم اور مسلسل انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی اختیار کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اسیران کے خلاف جرائم اب سست قتل کی سطح تک پہنچ چکے ہیں اور غزہ پر جاری نسل کش جنگ کے سائے میں اسیر تحریک کے خلاف بڑھتی سفاکیت اس بات کی متقاضی ہے کہ عوامی اور ابلاغی دباؤ کے ذریعے اسیران کے مقدمے کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے اور ان کے جائز حقِ آزادی اور باعزت زندگی کا دفاع کیا جائے۔
قومی اور اسلامی قوتوں کی اسیران کمیٹی کی جانب سے کمیشن برائے شہدا اور اسیران کے ترجمان نشأت الوحیدی نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ قابض اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی تعداد تقریباً 9400 ہے، جن میں 50 اسیرات اور لگ بھگ 400 بچے شامل ہیں، جبکہ 116 اسیران عمر قید کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں شہید ہونے والے اسیران کی تعداد بڑھ کر 323 ہو چکی ہے۔
نشأت الوحیدی نے وضاحت کی کہ بڑی تعداد میں اسیران مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں 22 اسیر ایسے ہیں جو مستقل طور پر نام نہاد رملہ جیل کلینک میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قابض اسرائیل 83 ایسے اسیران کے جسدِ خاکی بھی روکے ہوئے ہے جو جیلوں میں شہید ہوئے، جس کے بعد تحویل میں رکھے گئے فلسطینی جسدِ خاکی کی مجموعی تعداد 794 ہو گئی ہے۔
انہوں نے قابض اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے ان بیانات کی شدید مذمت کی جن میں جیلوں کے گرد تالاب کھودنے اور مگرمچھ چھوڑنے کی بات کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانات دراصل قابض ریاست کے خوف کی عکاسی کرتے ہیں کہ کہیں جلبوع جیل کی طرح ایک بار پھر اسیران آزادی کی سانس نہ لے لیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات نسل پرستانہ اور مجرمانہ سوچ کا تسلسل ہیں۔
نشأت الوحیدی نے ریڈ کراس اور اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموشی اور بے عملی ترک کریں، ان عالمی معاہدوں پر عمل درآمد کرائیں جو اسیران کے تحفظ اور ان کی انسانی وقار کی ضمانت دیتے ہیں اور فوری طور پر فلسطینی اسیران کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
نامعلوم انجام
ایک دل دہلا دینے والے خطاب میں فلسطینی اسیر رائد مہدی کے صاحبزادے بچے فجر مہدی نے کہا کہ ان کا خاندان اپنے والد کے انجام سے لاعلم ہے، جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ قانون خاندان کے حقِ ملاقات اور خاندانی زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس نے کہا ہم خوف کے عالم میں سوتے ہیں اور بے شمار سوالات کے ساتھ جاگتے ہیں کہ ہمارے والد کس حال میں ہیں اور ان کا کیا انجام ہو گا۔
اس نے مزید بتایا کہ اس کے والد دیگر اسیران کی طرح طویل قید، اہل خانہ سے محرومی اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیے جانے کے باعث نہایت کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کے والد ایک ڈاکٹر ہیں جو ہمیشہ مریضوں کی جانیں بچاتے رہے، مگر آج وہ خود مناسب علاج، اپنے بچوں کی ایک جھلک یا ان کی آواز سننے سے بھی محروم ہیں۔
فجر مہدی نے کہا ہم صرف اپنے والد کو دیکھنے کا حق مانگتے ہیں اور واضح کیا کہ ان کے والد کی گرفتاری کا زخم صرف انہیں نہیں بلکہ پورے خاندان کو لہو لہان کر رہا ہے۔
اس موقع پر سابق اسیر احمد ابو راس نے آزاد شدہ اسیران کی جانب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل کی جیلوں میں اسیران کو جسمانی اور نفسیاتی تشدد کی بدترین شکلوں کا سامنا ہے۔ انہیں خوراک، دوا، کپڑوں اور زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جاتا ہے، جبکہ جبری گمشدگی جیسے جرائم بھی مسلسل جاری ہیں۔