غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی پر مسلط اس وحشیانہ جنگ اور قابض اسرائیلی سفاکیت نے فلسطینیوں کی سماجی اساس کو جس بے رحمی سے ادھیڑ کر رکھ دیا ہے، اس کی سب سے رقت آمیز تصویر وہ یتیم بچے ہیں جن کے سروں سے شفقت کی چھت چھین لی گئی ہے۔ آج غزہ میں یتیمی محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک نوحہ ہے، ایک ایسی نسل کا المیہ جو اپنی زندگی کے سب سے مضبوط سہارے یعنی اپنے والدین کے بغیر اس بے رحم دنیا کے تھپیڑے سہنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔
خون رلاتے اعداد و شمار
غزہ میں وزارت ترقی و سماجی بہبود نے یکم اپریل سنہ 2026ء کو جو رپورٹ جاری کی ہے، وہ انسانی روح کو تڑپا دینے والی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں یتیم بچوں کی تعداد ہوش ربا اضافے کے بعد 64,616 تک پہنچ گئی ہے۔ ان سسکتے معصوموں میں 55,157 وہ بدقسمت بچے ہیں جن کے باپ اس جاری نسل کشی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ یہ محض گنتی نہیں بلکہ ساٹھ ہزار سے زائد اجڑے ہوئے گھرانوں کی داستان ہے جو ایک طویل اور جان لیوا انسانی المیے کی گواہی دے رہی ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جاری جنگ اور قابض دشمن کی درندگی نے ان بچوں کو ایک ایسے جہنم میں جھونک دیا ہے جہاں نہ پناہ گاہ ہے اور نہ ہی خاندانی نظام کا کوئی سرا باقی بچا ہے۔ یہ ننھے فرشتے اس وقت بدترین جبری بے گھری، فاقہ کشی اور ٹوٹتے ہوئے سماجی ڈھانچے کے درمیان زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
سسکتی بچپن اور سنگلاخ حالات
یہ یتیم بچے آج ایک ایسے دو راہے پر کھڑے ہیں جہاں ایک طرف بیماریوں کا طوفان ہے اور دوسری طرف تعلیم و تربیت کا اجڑا ہوا چمن۔ خوراک اور دواؤں کی شدید قلت نے ان کی زندگیوں کو براہ راست موت کے سائے میں دھکیل دیا ہے۔ قابض اسرائیل کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آنے والی امداد پر لگی ظالمانہ پابندیوں نے ان یتیموں کے حلق سے زندگی کا آخری نوالہ بھی چھیننے کی کوشش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق "نیشنل سسٹم برائے یتیم” کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ قیامت غزہ گورنری پر ٹوٹی ہے، جہاں 21,125 بچے یتیمی کا زخم کھائے بیٹھے ہیں۔ یہ کل یتیموں کا تقریباً 32.7 فیصد بنتا ہے، جو اس علاقے میں ہونے والی بے پناہ تباہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وزارت نے "یوم یتیم عرب” کے موقع پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ یہ دن ان معصوموں کے حقوق کی پامالی پر ماتم کرنے اور ان کے تاریک مستقبل کو بچانے کے لیے آواز اٹھانے کا دن ہے۔ ایسے وقت میں جب فلسطینی معاشرہ قابض دشمن کے مسلسل وار سہہ کر لہو لہان ہو چکا ہے، ان یتیموں کی کفالت ایک ایسا بوجھ ہے جسے اٹھانے کے لیے اب بین الاقوامی مدد کی اشد ضرورت ہے۔
آہیں اور سسکیاں: ایک ادھورا سچ
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق غزہ میں 17 ہزار سے زائد بچے ایسے ہیں جن کا اپنے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔ 19 لاکھ سے زائد انسان، جن میں آدھی سے زیادہ تعداد ان معصوم بچوں کی ہے، خیموں کی بھیگتی زمین پر ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہیں۔ یونیسف کے علاقائی ترجمان سلیم عویس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ یہ اعداد و شمار تو اس سمندر کا محض ایک قطرہ ہیں، اصل تباہی تو ان خاموش آہوں میں ہے جو ریکارڈ پر نہیں آ پائیں۔
سلیم عویس نے بتایا کہ 3 ہزار سے زائد وہ بچے ہیں جنہوں نے اپنے ماں اور باپ دونوں کو ایک ہی دھماکے میں کھو دیا اور اب وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے باپ کی سختی اور ماں کی ممتا بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو کوئی سر چھپانے کی جگہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسا نظام جو ان کے آنسو پونچھ سکے۔
مستقبل پر منڈلاتے سیاہ بادل
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ نسل نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ، ناخواندگی اور جبری مشقت کی دلدل میں دھنس جائے گی۔ غزہ کا وہ بچپن جو کبھی خواب دیکھا کرتا تھا، آج ملبے کے ڈھیروں پر بیٹھ کر رو رہا ہے۔
اگرچہ غزہ کے غیرت مند عوام نے اپنی جھونپڑیوں اور خیموں کے دروازے ان یتیموں کے لیے کھول رکھے ہیں، لیکن قابض اسرائیل نے تو ان اداروں کو بھی نہیں بخشا جو ان یتیموں کی پناہ گاہ تھے۔ غزہ کا الربیع ادارہ ہو یا دیر البلح کا چائلڈ پروٹیکشن سینٹر، معہد الامل برائے رعايہ ایتام ہو یا مبرہ الرحمہ، حتیٰ کہ رفح کا "ایس او ایس” چلڈرن ویلج بھی صہیونی بمباری کا نشانہ بن کر مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے۔
غزہ کا یہ المیہ صرف آج کا نہیں بلکہ آنے والی کئی دہائیوں کا نوحہ ہے۔ ایک پوری نسل جس نے بموں کے دھماکوں میں آنکھ کھولی اور جنازوں کے سائے میں جوان ہو رہی ہے، عالمی برادری سے انصاف کی نہیں تو کم از کم جینے کے حق کی بھیک مانگ رہی ہے۔