• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
بدھ 20 مئی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ: صہیونی فوج کے ہاتھوں اغوا ماں بیٹی کی تلاش جاری

غزہ کے خان یونس کے مغرب میں واقع مواصی کے علاقے میں ایک خستہ حال اور معمولی خیمے کے اندر العقاد خاندان انتہائی بھاری دل کے ساتھ انتظار کی گھڑیاں کاٹ رہا ہے۔

بدھ 20-05-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
غزہ: صہیونی فوج کے ہاتھوں اغوا ماں بیٹی کی تلاش جاری
0
SHARES
0
VIEWS

خان یونس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے خان یونس کے مغرب میں واقع مواصی کے علاقے میں ایک خستہ حال اور معمولی خیمے کے اندر العقاد خاندان انتہائی بھاری دل کے ساتھ انتظار کی گھڑیاں کاٹ رہا ہے۔ یہ خاندان اپنے ہی کنبے کے ان دو افراد کے انجام کا سراغ لگانے کے لیے کسی چھوٹی سی امید کی کرن کی تلاش میں ہے جو گذشتہ ڈھائی سال سے زائد عرصے سے لاپتہ ہیں، جبکہ دوسری طرف غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی وحشیانہ جنگ کے دوران ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں کوئی بھی قطعی اور سرکاری بیانیہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

یہ دردناک معاملہ اس تصویر سے جڑا ہوا ہے جو حال ہی میں قابض اسرائیل کے فوجیوں نے سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی، جس میں ایک فلسطینی ماں اور ان کی بیٹی کو ایک اسرائیلی فوجی گاڑی کے اندر آنکھوں پر پٹی بندھے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر کے سامنے آتے ہی العقاد خاندان نے تصدیق کی کہ تصویر میں نظر آنے والی مظلوم خواتین ان کے کنبے کے وہی دو لاپتہ افراد ہیں جو دسمبر سنہ 2023ء میں اس علاقے پر غاصب دشمن کے فوجی دھاوے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

الجزیرہ نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس علاقے میں ہونے والے صیہونی فوجی آپریشن کے بعد سے اس خاندان کا اپنی ماں اور بیٹی سے رابطہ بالکل منقطع ہو چکا ہے۔ اس وحشیانہ فوجی کارروائی کے دوران غاصب دشمن نے تڑپا کر باپ کو شہید کر دیا تھا اور جوان بیٹے کو گرفتار کر کے لے گئے تھے، جبکہ دونوں خواتین کا انجام آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا اور وہ گمنامی کے اندھیروں میں ہیں۔

مظلوم خاندان کی ایک رشتہ دار خاتون نے ان کی بحفاظت واپسی کی امید کا دامن تھامے ہوئے روتے ہوئے کہا کہ "یا رب! انشاء اللہ وہ دونوں زندہ ہوں”۔ جبکہ ایک اور رشتہ دار خاتون نے ملبے کے ڈھیروں کے درمیان ان کی شدید اور تھکا دینے والی تلاش کی دردناک تفصیلات بتاتے ہوئے اشارہ کیا کہ خاندان شروع میں یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ دونوں گھر کے ملبے تلے دب کر شہید ہو چکی ہیں، لیکن بعد میں ملبہ ہٹانے پر بھی ان کا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔

غاصب دشمن کے اس وحشیانہ دھاوے کے ہولناک لمحے کا نقشہ کھینچتے ہوئے خاندان کی ایک خاتون نے بتایا کہ "جب غاصب فوج اس علاقے میں داخل ہوئی تو انہوں نے میری بہن کے شوہر کو عمارت سے باہر نکالا اور ان پر اندھا دھند براہِ راست گولیاں برسا دیں جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے اور اس کے بعد ہمیں کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دونوں خواتین کے ساتھ کیا ظلم ہوا”۔

یہ دکھی خاندان لاپتہ افراد کے اس حساس ترین معاملے پر عالمی اداروں کو مجرمانہ غفلت اور خاموشی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کے پیاروں کے انجام کے حوالے سے اس مسلسل ابہام اور پراسراریت کا برقرار رہنا ایک بہت بڑا انسانی اور قانونی فیلڈ کا عالمی مضحکہ خیز دیوالیہ پن ہے۔

جبری گمشدگی کا بھیانک اور منظم جرم

اسی تناظر میں انسانی حقوق کی تنظیم "الضمیر” کے ڈائریکٹر علاء سکافی نے کہا ہے کہ ان کے ادارے نے دونوں لاپتہ خواتین کے انجام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے قابض اسرائیل کے حکام کو متعدد بار باضابطہ درخواستیں ارسال کی ہیں، لیکن صیہونی دشمن کی طرف سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ معاملہ جبری گمشدگی کے ایک منظم اور سنگین صیہونی جرم سے جڑا ہوا ہے۔

انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس، بشمول "ہیومن رائٹس کمیشن” کی مستند دستاویزی رپورٹس سے یہ ہولناک انکشاف ہوتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں لاپتہ اور زبردستی غائب کیے گئے افراد کی کل تعداد 11 ہزار 200 سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جن میں 4700 سے زائد بے گناہ خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں، جبکہ گمشدگی کی سینکڑوں باقاعدہ شکایات سرکاری طور پر درج ہیں۔

اس جبری گمشدگی کے تباہ کن اثرات صرف انسانی پہلو تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کے تانے بانے انتہائی پیچیدہ سماجی اور قانونی مسائل سے بھی جا ملتے ہیں۔ بہت سے فلسطینی خاندان اپنے پیاروں کے انجام کے حوالے سے بدترین ذہنی کرب اور ابہام کا شکار ہیں، جبکہ دوسری طرف سینکڑوں خواتین کو سرکاری طور پر موت یا زندگی کی تصدیق نہ ہونے کے باعث وراثت، دوبارہ شادی اور خاندانی حیثیت جیسے سنگین قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کا ماننا ہے کہ لاپتہ افراد کے اس سنگین بحران کے بڑھنے کے پیچھے کئی بنیادی عوامل کارفرما ہیں، جن میں غاصب دشمن کی طرف سے کروائی جانے والی جبری ہجرت، ملبے کے ڈھیروں تلے دبی ہزاروں لاشیں، کسی بھی باقاعدہ سرکاری اندراج کے بغیر ہنگامی بنیادوں پر کی جانے والی تدفین، سول رجسٹریشن اور مواصلاتی نظام کی مکمل تباہی، اور فوجی کارروائیوں والے علاقوں میں شہری دفاع کی ریسکیو ٹیموں کا نہ پہنچ پانا شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ہی غاصب صیہونی دشمن کی وحشیانہ بمباری اور بجلی کی مسلسل بندش نے ان تمام سی سی ٹی وی کیمروں کے ریکارڈ اور مادی شواہد کو بھی ملیا میٹ کر دیا ہے جو ان مظلوموں کی دستاویزی گواہی اور تصدیق میں مددگار ثابت ہو سکتے تھے، مزید یہ کہ غاصب فوج کی جانب سے قبرستانوں کو بلڈوز کرنے اور قبروں کو اکھاڑنے کی سفاکیت کی وجہ سے دفن کیے گئے شہدا کے نشانات مٹ چکے ہیں اور ان کی باقیات کی شناخت کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔

غزہ میں وزارتِ صحت کے فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس تباہ کن جنگ کے دوران موصول ہونے والی 480 لاشوں میں سے 377 ایسی لاشیں تھیں جن کی شناخت بالکل ناممکن تھی۔ ان کی پہچان کرنے یا ان کے پس ماندگان سے رابطہ کرنے کا کوئی راستہ نہ ہونے کے باعث انہیں اجتماعی طور پر گمنام سپردِ خاک کر دیا گیا۔

Tags: breaking newsConflictFamilyGaza StripHuman RightsHumanitarianisraelMiddle EastMissing Personspalestine
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.