غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی افواج غزہ کی پٹی میں سیز فائر اور امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جو عرب اور امریکی وساطت سے دس اکتوبر سنہ 2025ء کو شرم الشیخ شہر میں طے پایا تھا۔
غزہ کی پٹی میں سیز فائر اور اس ناپائیدار امن معاہدے کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک فلسطینی بچہ شہید اور تین شہری زخمی ہو گئے، جبکہ اس دوران غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں مکانات اور رہائشی تنصیبات کو بارود سے اڑانے اور منہدم کرنے کی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی غزہ میں مشروع بیت لاہیا میں ابو دان فیکٹری کے قریب ایک کواڈ کاپٹر ڈرون طیارے سے بم گرائے جانے کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تیرہ سالہ بچہ جود طلعت دويک اس وقت جامِ شہادت نوش کر گیا جب شمالی غزہ کی پٹی میں مشروع بیت لاہیا کے مقام پر ایک اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرون طیارے نے شہریوں کے ایک گروپ پر بم گرایا۔
مزید برآں مقامی ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ شمالی غزہ میں جبالیا البلد کے علاقے میں بے گھر ہونے والے مظلوموں کے حلاوہ کیمپ کے قریب ایک اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرون سے بم گرائے جانے کے نتیجے میں ایک اور شہری زخمی ہو گیا۔
دوسری جانب غزہ میں شہری دفاع نے رفح شہر کے علاقے مواصی میں قابض اسرائیل کی فورسز کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے کے چند دن بعد دو ٹرک ڈرائیوروں کے جسدِ خاکی نکالنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بے گھر افراد کے خیموں اور پناہ گاہوں پر آرٹلری فورسز کی گولہ باری کا سلسلہ بدستور جاری رہا جس کے نتیجے میں مزید شہداء اور زخمی گرے۔
آج جمعرات کے روز فجر کے وقت وسطی غزہ کی پٹی میں المغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت کئی فلسطینی زخمی ہو گئے، جبکہ غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں پر فضائی حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
میدانی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے کیمپ کے مشرق میں اسماعیل خاندان کے ایک مکان کو اس کے باشندوں کو دھمکی دینے اور انہیں زبردستی گھر خالی کرنے پر مجبور کرنے کے کچھ ہی دیر بعد بمباری کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کی شدت اور بڑے پیمانے پر شظایا (پھٹنے والے ٹکڑے) اڑنے کے باعث زخمیوں کی حالت تشویشناک، درمیانی اور معمولی نوعیت کی ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں بمباری کی ہولناک آوازیں سنائی دینے کے بعد کیمپ کے مکینوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمبولینس اور شہری دفاع کے عملے نے زخمیوں کو منتقل کرنے اور اس جارحیت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف دوڑ لگا دی۔
اسی تناظر میں مقامی ذرائع نے ذکر کیا ہے کہ قابض افواج نے المغازی کیمپ کے اندر دیگر مقامات کو بھی خالی کرنے کی دھمکیاں دی ہیں، جن میں گرلز جوائنٹ سکول بھی شامل ہے، تاہم وہ ابھی تک بمباری سے محفوظ ہے۔
گذشتہ چند دنوں کے دوران، غاصب اسرائیل نے جبالیا کیمپ، البريج اور الشاطئ کیمپ کے علاقوں کو شامل کرتے ہوئے، انخلاء کے احکامات جاری کرنے کے بعد مکانات اور رہائشی بلاکس پر بمباری کے آپریشنز کو تیز کر دیا ہے۔
غزہ سینٹر فار ہیومن رائٹس کے اعداد و شمار کے مطابق، 19 اپریل اور 19 مئی کے درمیان دستاویزی طور پر روزانہ شہید ہونے والوں کی اوسط تعداد تقریباً 105 شہداء روزانہ تک پہنچ گئی ہے، اس کے علاوہ 434 افراد زخمی ہوئے، جبکہ سینٹر نے فائرنگ اور بمباری کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر لگ بھگ 15 خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کیا ہے۔
سینٹر نے اشارہ کیا کہ ایک نیا خطرناک طریقہ کار دیکھا گیا ہے جس کے تحت مکانات پر بمباری سے پہلے انہیں خالی کرنے کے لیے فون کالز کی جاتی ہیں، جس کا مقصد بچی کچی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنانا اور ان جگہوں کو کم کرنا ہے جہاں شہری پناہ لے سکتے ہیں، اور یہ سب کچھ نام نہاد پیلی لکیر کو وسعت دینے اور نارنجی لکیر کو متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل بدھ کے روز غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ گذشتہ اکتوبر کے مہینے میں سیز فائر کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں جانی نقصان کی تعداد 881 شہداء اور 2621 زخمیوں تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس دوران 776 اجسادِ خاکی بھی نکالے گئے ہیں۔
وزارت نے مزید بتایا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی اس وحشیانہ نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک کل شہداء کی تعداد 72 ہزار 773 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 72 ہزار 723 تک جا پہنچی ہے۔